19اکتبر
سیرت پیامبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

سیرت پیامبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

رسول اسلام ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) راست باز تھے۔ زمانہ جاہلیت میں، آپ تجارت کرتے تھے؛ شام اور یمن جاتےتھے۔ تجارتی کاروانوں میں شامل ہوتے تھے اور آپ کے تجارتی حلیف تھے۔ زمانہ جاہلیت میں آپ کے تجارتی حلیفوں میں سے ایک بعد میں کہتا تھا کہ آپ بہترین حلیف تھے، نہ ضد کرتے تھے، نہ بحث کرتے تھے، نہ اپنا بوجھ حلیف کے کندھوں پر ڈالتے تھے، نہ خریدار کے ساتھ بد سلوکی کرتے تھے، نہ مہنگا بیچتے تھے اور نہ ہی جھوٹ بولتے تھے، راست باز تھے۔ یہ آنحضرت کی راست بازی ہی تھی کہ جس نے جناب خدیجہ کو آپ کا شیدائی بنایا۔ خود جناب خدیجہ مکہ کی خاتون اول ( ملیکۃ العرب) اور حسب و نسب اور دولت و ثروت کے لحاظ سے بہت ہی ممتاز شخصیت تھیں۔

12اکتبر
مشکلات میں مایوسی نہیں بلکہ صبر سے مقابلہ (حصہ دوم)

مشکلات میں مایوسی نہیں بلکہ صبر سے مقابلہ (حصہ دوم)

امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: امام مہدی کے لئے ایسی غیبت ہے جس کے دوران ایک گروہ دین کو چھوڑ دے گا اور ایک گروہ دین کا پابند رہے گا اور اسے اذیت و آزار کا سامنا کرنا پڑے گا ، انہیں کہا جائے گا کہ اگر تم سچ کہتے ہو تو یہ امام مہدی کے ظہور کا وعدہ کب پورا ہوگا؟ لیکن وہ جو زمانہ غیبت میں ان مشکلات اور جھٹلائے جانے پر مضبوط رہے گا وہ گویا ایسے مجاہد کی مانند ہے جو رسول خدا کے ہمراہ تلوار سے جہاد کررہا ہو۔بحار الانوار ج۵۱ ص ۱۳۲

06اکتبر
مشکلات میں مایوسی نہیں بلکہ صبر سے مقابلہ (حصہ اول)

مشکلات میں مایوسی نہیں بلکہ صبر سے مقابلہ (حصہ اول)

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: ''من دین الآئمۃ الورع... و انتظار الفرج بالصبر'' دین آئمہ میں سے پرہیزگاری اور صبر و تحمل سے انتظار فرج کرنا ہے۔ بحار الانوار ج۵ ص ۱۲۲

06اکتبر
امام علی رضا ‏علیہ السلام

امام علی رضا ‏علیہ السلام

امام صادق (ع) کے بعد مدینہ کی مرکزی حیثیت اور افادیت ختم ہوچکی تھی اور یہ ایک زیارت گاہ کی حد تک باقی رہ گیا تھا جبکہ امام رضا (ع) اپنا پیغام سارے عالم اسلام کو سنانا چاہتے تھے-

05اکتبر
جود و سخا کے پیکر امام حسن مجتبی علیہ السلام

جود و سخا کے پیکر امام حسن مجتبی علیہ السلام

عبادت و خوف خدا :  اولیاء الهی کی کامیابی کا راز بندگی میں پوشیدہ ہے، صحیح معنوں میں بندگی وہ اکسیر ہے جسے پروردگار نے ہر ایک کی دسترس میں رکھا ہے ،  جس سے اکثر لوگ بے خبر اور بے توجہ ہیں، جب کہ ہر طرح کی عزت و سربلندی و افتخار ، بندگی کے ہی زیر سایہ ہے ۔ امام حسن علیہ السلام فرماتے ہیں  : جب کبھی تم  چاہو کہ ، عزت بغیر کسی ہمنوا کے پالو، اور  جاہ و جلال بغیر کسی سلطنت کے حاصل کرلو،  تو تمہیں چاہیئے کہ معصیت خدا کی پستیوں سے باہر نکل آؤ اور  پروردگارکی اطاعت والی عزت کا رُخ کرلو۔

29سپتامبر
مسلمانوں کے خلاف کفار کا طرز عمل (قسط1)

مسلمانوں کے خلاف کفار کا طرز عمل (قسط1)

آج پردہ ہم میں ختم ہو گیا ہے۔ یہ درحقیقت استعمار کی سازش تھی ۔ اس نے ہمارے ذہن میں ڈال دیا ہے کہ ترقی یا فتہ بننا چاہتے ہو تو چادر کو اتاردو ۔ عورتیں سر ننگے ہو جائیں۔ عورت کے سر پر اگر چادرہے تو پھر وہ ڈرامہ بن جائے گئی، پھر تو گویا جانوروں کی طرح اس کو ہم نے بند کر رکھا ہے ۔ لہذا عورتوں کو کھلا چھوڑ دو ۔ جتنا لباس ان کا کم ہو گا ، اتنا ترقی یافتہ بن جائو گے۔ لباس میں جتنی کمی ہو گی اتنے ماڈرن بن جاو گے ۔

27سپتامبر
روز اربعین روز میثاق با امام زمان عج

روز اربعین روز میثاق با امام زمان عج

اپنے قلب و روح کو اللہ واحد کی عبودیت اور زمانے کے امام کی معرفت و محبت سے مالامال کرتے ہیں

26سپتامبر
چہلمِ امامؑ اور عقائدِ امامؑ

چہلمِ امامؑ اور عقائدِ امامؑ

دشتِ بلا میں حسینؑ ابن علیؑ نے بسم اللہ کو بچانے کیلئے، یعنی اللہ کے نام کی تختی اور کتبے کو باقی رکھنے کیلئے اپنی ذات، اپنے نام، اپنی آل و اولاد، اپنے عزیز و اقارب، اپنا مال و متاع اور عزت و شرف سب کچھ اپنے ہاتھوں سے مٹا دیا اور قربان کر دیا۔

16سپتامبر
علامہ شیخ محسن علی نجفی کی تعلیمی اور تبلیغی گراں قدر خدمات

علامہ شیخ محسن علی نجفی کی تعلیمی اور تبلیغی گراں قدر خدمات

حجت الاسلام والمسلمین علامہ شیخ محسن علی نجفی صاحب نے ملک خدا داد پاکستان کی مختلف جگہوں پر کثیر تعداد میں دینی مدارس، مروجہ علوم کے لیے سکولز اور کالجز کی بنیاد رکھی ساتھ ہی ساتھ نادار اور یتیموں کی کفالت اور سرپرستی کے لیے بہت سے عام المنفعت فلاحی اداروں کی بنیاد رکھی۔ ان اداروں میں مسلکی اور مذہبی امتیازات سے بالا تر ہوکر تمام مستحق افراد کے لیے خدمات میسر ہوتی ہیں۔

12سپتامبر
حضرت آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی کا انٹرویو |قسط 4

حضرت آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی کا انٹرویو |قسط 4

کوٹ ادو میں ہر روزایک پارہ قرآن پاک کا زبانی پڑھتا تھا جیسے ہمارے اہلسنت پڑھتے ہیں اور ان کی تراویح ختم ہوجاتی اور ہم اس پورے پارے کے ترجمہ کا خلاصہ بتاتے تھے کہ کیا ہے