عراق میں ایرانی سفیر محمد کاظم آلِ صادق نے ہفتے کے روز عراقی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکہ کی جانب سے عراقی فضائی حدود کے غلط استعمال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نہ صرف خود ایران کی جاسوسی کر رہا ہے بلکہ وہ اسرائیلی پروازوں کو بھی عراقی حدود استعمال کرنے میں مدد فراہم کر رہا ہے، جو کہ ایک سنگین خطرہ ہے۔
ایرانی سفیر آلِ صادق نے خلیج فارس کے خطے میں سیکورٹی کے مقامی انتظام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بیرونی فوجی طاقتوں پر انحصار کرنے کے بجائے علاقائی ممالک کو آپس میں ڈائیلاگ کرنا چاہیے۔ انہوں نے ایران کے پیش کردہ 2+6 پلان (خلیج تعاون کونسل کے 6 ممالک پلس ایران اور عراق) کو سیکورٹی کا بہترین ماڈل قرار دیا۔
ایرانی سفیر نے مغربی طاقتوں کی جانب سے ایران پر ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے الزامات کو جھوٹ اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران ایٹمی ہتھیاروں کے بغیر بھی اپنا دفاع کرنے اور خطرات کو روکنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ ہماری میزائل طاقت ہی دشمن کو اپنی جارحیت روکنے اور سیز فائر کی بھیک مانگنے پر مجبور کرنے کے لیے کافی ثابت ہوئی ہےانہوں نے مزید کہا کہ تہران اپنی دفاعی صلاحیتوں کے ذریعے کسی بھی دشمن کو منہ توڑ جواب دے سکتا ہے، لیکن وہ ہمیشہ عراق کی خودمختاری اور وہاں کی حکومت کے فیصلوں کا احترام کرتا ہے۔ آلِ صادق نے امید ظاہر کی کہ عراق سمیت تمام علاقائی ممالک غیر ملکی مداخلت اور جاسوسی کی اجازت دینے کے بجائے علاقائی مکالمے کو ترجیح دیں گے۔












