پاکستانی فیلڈ مارشل کی ایرانی حکام سے ملاقات، اگلے مذاکراتی دور کا فیصلہ کریں گے، ایران
























پاکستان نے لبنان پر صہیونی حکومت کے حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔
وفد میں حجتہ الاسلام و المسلمین علامہ محمد افضل حیدری صاحب اور علامہ لال حسین توحیدی شامل تھے۔
پاکستان اور ایران کے درمیان زمینی راستے سے تجارتی سرگرمیوں کا آغاز کردیا گیا ہے پہلی برآمدی کھیپ ریفریجریٹڈ ٹرکوں کے ذریعے ازبکستان تاشقند کے لیے منجمد گوشت بھیجا گیا ہے۔
امام جمعہ سکردو علامہ شیخ محمد حسن جعفری نے رہبرِ انقلابِ اسلامی کے چہلم اور دشمنوں کی طرف سے اسلامی جمہوریہ ایران کی جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنے پر ایک بیان میں کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی یہ کامیابی صرف ایک ملک کی نہیں، بلکہ امتِ مسلمہ کے عزم، صبر اور ایمان کی فتح ہے۔
ذرائع کے مطابق پہلے دونوں وفود پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف سے الگ الگ ملاقات کریں گے، جس کے بعد ممکنہ مذاکرات کا آغاز ہوگا۔
خاتم الانبیاء کی وفات کے بعد مسلمانوں کے ایک طبقے نے نظام غدیر اور امامت کو تسلیم نہیں کیا، ولایت پذیر ملک ایران یہودی اور عیسائیوں کے خلاف قوت کے ساتھ کھڑا ہے۔
انجمنِ امامیہ بلتستان پاکستان کے صدر ، حجت الاسلام والمسلمین آغا باقر الحسینی امریکی صیہونی اور ایران جنگ بندی پر ردعمل، پاکستان کے کردار،
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں امن مذاکرات کے سلسلے میں غیر ملکی وفود کی آمد کے پیش نظر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں جس کے تحت متعدد اہم شاہراہوں کو مختلف اوقات میں بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان لبنان میں اسرائیلی حملوں سے بھاری جانی نقصان اور انفراسٹرکچر کی تباہی کی شدید مذمت کرتا ہے۔ پاکستان لبنانی حکومت اور عوام سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور مشکل کی اس گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں مذاکرات ہونے پر دوست ممالک کا شکریہ ادا کیا ہے۔