ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچینے کہا: اگرچہ بعض ہمسایہ ممالک یہ دعوی کرتے ہیں کہ ان کی سرزمین سے ایران کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو رہی۔ امریکی اڈے ایران کے خلاف استعمال ہوں یا نہ ہوں، ہر حال میں ایران کے نزدیک جائز ہدف ہوں گے۔ ایران کا تنازع ہمسایہ ممالک سے نہیں بلکہ ان امریکی فوجیوں سے ہے جو ان ممالک میں موجود ہیں۔
انہوں نے کہا: اگر امریکی فوجی ہوٹلوں یا دیگر مقامات پر منتقل بھی ہوجائیں تو اس سے وہ ممکنہ ہدف بننے سے محفوظ نہیں ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مذاکرات کے حوالے سے وضاحت کی کہ ایران نے امریکہ سے بات چیت اس لیے کی تاکہ دنیا پر واضح ہوجائے کہ جنگ کا سبب ایران کی جانب سے مذاکرات سے انکار نہیں تھا۔ اگر مذاکرات نہ کیے جاتے تو آج بعض حلقے یہ مؤقف اختیار کرتے کہ شاید بات چیت سے جنگ ٹل سکتی تھی۔
عباس عراقچی نے کویت سے متعلق سوال اٹھایا کہ اگر وہاں سے ایران کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہورہی تو پھر وہ تین امریکی جنگی طیارے کویت کی سرزمین پر کیا کر رہے تھے جنہیں نشانہ بنایا گیا؟۔ حکومت کویت کو اس بارے میں وضاحت پیش کرنی چاہیے کہ وہ طیارے وہاں کس مقصد کے لیے موجود تھے۔












