اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کو الگ الگ خطوط میں آگاہ کیا کہ 28 فروری 2026 سے ایران کے خلاف شروع کی گئی غیر قانونی فوجی جارحیت کے دوران قطر، کویت اور امارات کی سرزمین حملہ آور قوتوں کے زیرِ استعمال رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی جارح ملک کو اپنی سرزمین فراہم کرنا بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے، جس پر متعلقہ ممالک کی بین الاقوامی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
خط میں واضح کیا گیا کہ ان ممالک کی مدد کے نتیجے میں ایران کے ہزاروں شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جو حسن ہمسائیگی اور باہمی احترام کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
امیر سعید ایروانی نے زور دیا کہ ایران اپنے فطری حقِ دفاع کے تحت یہ حق محفوظ رکھتا ہے کہ وہ ایسے تمام فوجی اڈوں اور تنصیبات کو جائز فوجی ہدف سمجھے جو ایران کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہورہے ہوں۔
ایران نے ایک بار پھر اس امر پر زور دیا کہ اس نے ہمیشہ خلیج فارس کے ساحلی ممالک کے ساتھ حسن ہمسائیگی کی پالیسی اپنائی، تاہم قطر، کویت اور امارات نے امریکہ کو اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دے کر اس اصول کی خلاف ورزی کی ہے۔
اپنے خط میں ایرانی مندوب نے ایران کو ہونے والے تمام مادی و معنوی نقصانات کے ازالے کے لئے معاوضے کی ادائیگی کا مطالبہ کیا ہے۔












