علماء کرام کی آرمی چیف سے میٹنگ
نصرت علی شہانی
17 مارچ کو ، تقریباً 45 سال بعد کسی عسکری سربراہ سے نمایاں شیعہ علماء کی علیحدگی میں ھوئی طویل میٹنگ پر بحث مباحثہ جاری ھے جس کے تمام تبصروں کی حمایت نہیں کی جا سکتی ۔
اس بحث اور شور کی ایک وجہ میٹنگ میں ھوئی گفتگو کے بارے عدم آگاھی اور ابہام ھے۔ میٹنگ میں شریک معتبر علماء اس کی مختصر رپورٹ شائع کر دیتے تو اتنا رد عمل نہ ھوتا ۔
اب بھی کافی لوگ درج ذیل چند سوالات کا جواب جاننا چاہتے ہیں جن میں چند تجاویز بھی ہیں :
1. میٹنگ کا کیا مقصد تھا؟
خدا نخواستہ جنگ تو نہیں ھو رھی تھی کہ آرمی چیف ھی بریفننگ دیں ۔ دیگر امور کے لئے علماء سے وزیراعظم بھی مل سکتے تھے ۔
2. کیا میزبان نے مہمان علماء کرام کے خیالات یا مطالبات سنے ؟ جواب سے علماء کرام مطمئن ھوئے ؟
3. بعض علماء کو فوج اور وطن سے اپنی یا قوم کی وفاداری کا یقین دلانے کی کیا ضرورت تھی ؟ میزبان سمیت سب جانتے ہیں کہ ملت تشیع اور اس کے علماء ہمیشہ سے امن پسند اور قانون کے پابند ہیں، بڑے بڑے سانحات کے باوجود قومی املاک کو نقصان نہیں پہنچایا ، نہ ہی سیکورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث ہیں۔بالخصوص بلتستان اور پارا چنار کے شیعہ ، پاکستان کے بہترین شہری ہیں جہاں علماء کی تربیت کے نتیجے میں سماجی و اخلاقی جرائم کی شرح بہت کم ھے۔
4. پارا چنار کے محاصرے کے دوران آرمی چیف کے اس تبصرے کے بارے بھی علماء نے بات کی ؟ جس میں مبینہ طور پر انہوں نے وھاں کے شیعوں کو پاکستان کی بجائے کہیں اور سے وابستہ قرار دے کر ان کی حب الوطنی پر شک کیا ۔
5. کیا شام میں رسول اللہ کی نواسی اور صحابہ کرام کے مزارات کا دفاع کرنے والوں کو دھشت گرد قرار دینے لیکن داعش کا ساتھ دینے والوں کی امن دشمن سرگرمیوں سے چشم پوشی کے امتیازی سلوک کے بارے بھی بات کی گئی؟
6. بیگناہ مسنگ پرسنز کی رھائی اور قانون کو مطلوب افراد کو دفاع کا قانونی حق دینے کی بات کی گئی؟
7. میزبان نے رھبر معظم کی شہادت پر احتجاج میں دو فوجیوں کے علاوہ دیگر شہید ھونے والے 38 ھموطنوں کی شہادت پر بھی افسوس یا انکوائری کی بات کی؟
8. صراحتاً یا اشارتاً کن کو ایران چلے جانے کا کہا گیا ؟
اگر سارے شیعہ نہیں بلکہ احتجاج کرنے والے مراد تھے تو کیا وہ سوگوار مظاھرین دیندار شیعہ نہیں؟ کیا اسلامی ایران سے ھمدردی رکھنے اور امریکہ سے نفرت کا اظہار کرنے والوں کو اس ملک میں نہیں رھنا چاہیے ؟ کیا ملک میں اس سے پہلے پر تشدد مظاہرے نہیں ھوتے رھے جن میں غیر متعلقہ شرپسند عناصر شامل ھو کر نقصان کرتے تھے۔
9. کالعدم دہشت گرد تنظیم کی اشتعال انگیز سرگرمیوں پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا ؟ اس کا تسلی بخش جواب دیا گیا؟ ( جی ایچ کیو سے کچھ فاصلے پر تکفیری سرغنوں کی مسلسل ھرزہ سرائی یقیناً ان کے علم میں ھو گی)
10. کیا علماء کرام نے امریکی اڈوں پر ایران کے حملوں کو پاک سعودی دفاعی معاہدے کی خلاف ورزی نہ ھونے پر اپنا موقف پیش کیا؟ جیسا کہ دو سال پہلے پاکستان اور ایران کے ، ایک دوسرے کے علاقوں میں موجود دھشت گردی کیمپوں پر حملے ھرگز ایران یا پاکستان پر نہ تھے۔( آپریشن سرمچار)
نیز اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر 3314 کی رو سے سعودی عرب جارحیت کا مرتکب ھے۔
11. حکومت سے امریکی مظالم کی مذمت کرنے اور بورڈ آف پیس سے نکلنے کا مطالبہ کیا گیا ؟
12. گزشتہ دنوں اقوام متحدہ میں ایران کے خلاف پیش کی گئی قرارداد کے حق میں پاکستان کی حمایت کے بارے بات کی گئی ؟
یہ ملاقات چونکہ کئی لحاظ سے غیر معمولی تھی لھذا درج بالا سوالات یا تجاویز ھرگز غیر ضروری نہیں بلکہ اعلیٰ ریاستی و حکومتی عہدے داروں سے ان پر بات کرتے رہنا چاہئے کیونکہ ھمارے علماء قومی مسائل کو مثبت انداز میں حل کرنے کی کوشش کی شرعی ذمہ داری سے آگاہ ہیں۔
معذرۃ الیٰ ربکم و لعلھم یتقون












