2

دشمن کی جانب سے مذاکرات کی بات شکست کا اعتراف ہے، مزاحمت جاری رکھیں گے، ایرانی وزیر خارجہ

  • News cod : 63985
  • 26 مارس 2026 - 22:36
دشمن کی جانب سے مذاکرات کی بات شکست کا اعتراف ہے، مزاحمت جاری رکھیں گے، ایرانی وزیر خارجہ
ایرانی وزیر خارجہ دشمن کے ساتھ مذاکرات کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز دشمن ممالک اور ان کے اتحادیوں کے جہازوں کے لیے بند ہے جبکہ دوست ممالک کے جہازوں کو محفوظ گزرگاہ فراہم کی جارہی ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ دشمن کی جانب سے مذاکرات کی بات دراصل شکست کا اعتراف ہے اور ایران اپنی مزاحمت کی پالیسی جاری رکھے گا۔

تفصیلات کے مطابق ایرانی ٹی وی چینل کے ساتھ گفتگو کے دوران ایرانی وزیر خارجہ نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی براہ راست مذاکرات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ اب تک واشنگٹن کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوئے۔ امریکہ نے حالیہ دنوں میں مختلف ممالک کے ذریعے پیغامات بھیجے ہیں اور ایران نے بھی اپنے اصولی مؤقف سے آگاہ کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی پالیسی اس وقت مزاحمت جاری رکھنے کی ہے اور فی الحال مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

عراقچی نے خطے کی موجودہ جنگی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے نزدیک آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند نہیں ہے بلکہ یہ صرف دشمن ممالک اور ان کے اتحادیوں کے جہازوں کے لیے بند کی گئی ہے۔ خطہ جنگی صورتحال سے گزر رہا ہے، اس لیے ایران کے دشمنوں کے جہازوں کو اس راستے سے گزرنے کی اجازت دینے کی کوئی وجہ نہیں ہے جبکہ دیگر ممالک کے لیے راستہ کھلا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ کشیدگی کے باعث کئی جہاز خود بھی آبنائے ہرمز سے گزرنے سے گریز کر رہے ہیں کیونکہ بعض بین الاقوامی انشورنس کمپنیوں نے جنگی خطرات کی وجہ سے بیمہ فراہم کرنا بند کر دیا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق متعدد ممالک نے اپنے جہازوں کے محفوظ گزر کے لیے ایران سے رابطہ کیا ہے۔ چین، روس، پاکستان، عراق اور بھارت سمیت بعض دوست ممالک کے جہازوں کو ایران کی جانب سے محفوظ راستہ فراہم کیا گیا ہے اور آئندہ بھی اس حوالے سے ہم آہنگی جاری رہے گی۔

عباس عراقچی نے آبنائے ہرمز کی قانونی حیثیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ آبراہ ایران اور عمان کے علاقائی پانیوں میں واقع ہے اور اس پر دونوں ممالک کی خودمختاری موجود ہے۔ جنگ کے بعد ایران اس راستے سے محفوظ آمدورفت کے لیے نئی انتظامی ترتیبات پر بھی غور کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران اس جنگ کا آغاز کرنے والا نہیں ہے اور وہ جنگ نہیں چاہتا، تاہم ایران چاہتا ہے کہ یہ تنازع اس طرح ختم ہو کہ مستقبل میں دوبارہ ایسی صورتحال پیدا نہ ہو۔ ایران صرف جنگ بندی نہیں بلکہ ایسے حل کا خواہاں ہے جس سے خطے میں پائیدار استحکام قائم ہو۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=63985

ٹیگز