3

علما کی عالمی یکجہتی وقت کی اہم ضرورت: آیت اللہ اعرافی

  • News cod : 64005
  • 28 مارس 2026 - 19:32
علما کی عالمی یکجہتی وقت کی اہم ضرورت: آیت اللہ اعرافی
ایران کے عوام اپنے محبوب رہبر اور اس سرزمین کے بے گناہ فرزندوں کی شہادت کے غم میں سوگوار ہیں، اور اس کٹھن گھڑی میں ملت ایران اور عالم اسلام کی نظریں دنیا بھر کے علما پر لگی ہوئی ہیں تاکہ وہ حکمت، بصیرت اور جرأت کے ساتھ اپنا تاریخی کردار ادا کریں،

حوزہ علمیہ ایران کے بین الاقوامی امور کے سربراہ حجۃ الاسلام والمسلمین حسینی کوہساری نے کہا ہے کہ آیت اللہ اعرافی نے عالم اسلام کے بااثر علما اور مذہبی شخصیات سے مطالبہ کیا ہے کہ ایران پر امریکہ اور صہیونی حکومت کی جارحیت، بے گناہ شہریوں کے قتل اور امت کے قائد و رہبر کی شہادت کے بعد اس حساس مرحلے میں امت اسلامیہ و تمام مذاہب و مسالک کے علماء کی یکجہتی پہلے سے زیادہ واضح اور مؤثر انداز میں سامنے آنی چاہیے۔

حجۃ الاسلام والمسلمین حسینی کوہساری نے آیت اللہ اعرافی، سربراہ حوزہ علمیہ ایران، کی جانب سے عالم اسلام کی ممتاز اور اثر و رسوخ رکھنے والی شخصیات کو بھیجے گئے پیغام تشکریہ کی وضاحت کی۔ انہوں نے کہا کہ ان خطوط میں ان علما کے حمایتی اور جرات مندانہ موقف کو سراہا گیا ہے جنہوں نے ایران کے خلاف امریکہ اور صہیونی حکومت کی جارحیت کے خلاف آواز بلند کی۔

انہوں نے بتایا کہ آیت اللہ اعرافی نے اپنے پیغامات میں اس سانحے کو ایک غیر معمولی اور دردناک المیہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک مرجع تقلید، شیعوں کے ملجا و پناہ، دینی رہنما اور اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلیٰ ترین سیاسی شخصیت کو نشانہ بنانا، بے گناہ بچوں اور نہتے شہریوں کا قتل، اور ملک کے بنیادی ڈھانچے پر حملے ایسے جرائم ہیں جن میں تمام بین الاقوامی اصول و ضوابط پامال کر دیے گئے ہیں۔

حجۃالاسلام حسینی کوہساری کے مطابق آیت اللہ اعرافی نے اپنے خطوط میں لکھا کہ حوزات علمیہ اور ایران کے عوام اپنے محبوب رہبر اور اس سرزمین کے بے گناہ فرزندوں کی شہادت کے غم میں سوگوار ہیں، اور اس کٹھن گھڑی میں ملت ایران اور عالم اسلام کی نظریں دنیا بھر کے علما پر لگی ہوئی ہیں تاکہ وہ حکمت، بصیرت اور جرأت کے ساتھ اپنا تاریخی کردار ادا کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان خطوط میں بااثر علماء سے یہ بھی درخواست کی گئی ہے کہ وہ اس مظلومیت کی آواز کو مذہبی، مسلکی اور جغرافیائی سرحدوں سے بلند کر کے پوری دنیا تک پہنچائیں۔

انہوں نے کہا کہ آیت اللہ اعرافی نے ان خطوط میں واضح کیا ہے کہ مرجعیت اور دینی قیادت کی حرمت پر حملہ درحقیقت ایک ایسا خطرہ ہے جس کے اثرات سے کوئی مذہب محفوظ نہیں رہ سکتا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان جرائم کی واضح اور دوٹوک مذمت کے ذریعے اس نازک تاریخی مرحلے میں علماء کی یکجہتی مزید آشکار ہوگی۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=64005

ٹیگز