ایران میں دہشت گردی اور دشمن کے لیے جاسوسی میں ملوث چار دہشت گردوں کو عدالتی کاروائی کے بعد پھانسی دی گئی ہے۔
ایرانی عدلیہ کے مطابق ملزمان لانچر حملوں، دھماکہ خیز مواد تیار کرنے اور حساس سرکاری عمارتوں کو نشانہ بنانے میں ملوث تھے۔ سب ایک بیرونی نیٹ ورک سے رابطے میں تھے اور خفیہ طریقے سے مختلف کارروائیاں کرتے رہے۔
سزائے موت پانے والے دہشت گردوں میں بابک علی پور، پویا قبادی، اکبر دانشورکار اور محمد تقوی سنگ دہی شامل ہیں۔
دہشت گرد بابک علیپور نے ایک اہم ادارے کی عمارت پر چار لانچر فائر کیے تھے، جن میں سے دو لگے۔ کارروائی کے بعد وہ چند دن ایک خفیہ مکان میں چھپا رہا، جہاں سے دھماکے بنانے کا سامان بھی ملا۔
پویا قبادی
پویا قبادی اسی گروپ کے ساتھ مل کر دھماکہ خیز مواد کی تیاری میں ملوث تھا۔ وہ ملک سے نکل کر مزید تربیت لینے کی کوشش میں تھا، لیکن سرحد کے قریب گرفتار کر لیا گیا۔
اکبر دانشورکار اور محمد تقویسنگ دہی بھی اسی گروہ کا حصہ تھے اور ملک کے اندر مختلف دہشت گرد اور جاسوسی کی کارروائیوں میں شریک رہے۔
عدالت نے شواہد اور اعترافات کی بنیاد پر ان کے خلاف کارروائی کے تحت سزائے موت سنائی۔ ملک کی اعلی عدلیہ نے سزا برقرار رکھی، جس کے بعد چاروں افراد کو پھانسی دے دی گئی۔












