مجمعِ تشخیص مصلحت نظام کے رکن محسن رضائی نے کہا ہے کہ تین بار کی امریکی پسپائی کے بعد بالآخر امریکہ کے مغرور صدر کو ایرانی عوام کی غیرت مند مزاحمت، مسلح افواج کی جرات مندانہ کارکردگی اور رہبرمعظم کی دوراندیش قیادت کے باعث جمہوری اسلامی ایران کے پیش کردہ دس نکاتی منصوبے کو مذاکرات کی بنیاد کے طور پر قبول کرنا پڑا۔
انہوں نے مزید زور دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ یہ پیش رفت قابلِ توجہ ہے، تاہم ایرانی مسلح افواج ملک کے قومی مفادات کی مکمل یقین دہانی ہونے تک پوری طرح تیار رہیں گی












