21

دشمن لبنان میں خانہ جنگی کروانا چاہتا ہے، سید حسن نصراللہ

  • News cod : 36146
  • 15 جولای 2022 - 17:40
دشمن لبنان میں خانہ جنگی کروانا چاہتا ہے، سید حسن نصراللہ
حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ ہمارے ڈرونز کی جدید ساخت میں دشمنوں کے لئے یہ پیغام ہے کہ ہم سنجیدہ ہیں اور یہ (لبنان کا بحران) ہمارا بنیادی مسئلہ ہے۔ ہم اپنے اختیارات میں سے جو لازم ہوگا، اس کا انتخاب کریں گے۔

وفاق ٹائمز، حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے بائیڈن کی خطے آمد کے موقع پر گذشتہ شب اپنے خطاب میں کہا ہے کہ آجکل مقاومت کے ڈرونز لوگوں کے زیر بحث ہیں، بعض لوگ ڈرونز کے ذریعے سے علاقے کی نگرانی کرنے پر ہمیں مورد الزام ٹھراتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہماری یہ فعالیت معاہدے سے ہٹ کر ہے، جبکہ میں ان سے پوچھتا ہوں کیسا معاہدہ، ہم نے کسی سے کوئی معاہدہ نہیں کیا اور نہ ہی کسی کو ایسا قول دیں گے، جس نے بھی امریکہ سے مزاحمت نہ کرنے کا وعدہ کیا ہے، اس نے اپنے آپ کو اور انہیں فریب دیا ہے۔ بعض یہ بھی کہتے ہیں کہ ”مقاومت” ملک کی حمایت سے یہ ڈرونز بھیج رہی ہے، جبکہ ہم حد بندیوں کے معاملے میں اپنے ملک کی حمایت کر رہے ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم کسی کے خلاف یا ساتھ ہیں۔ ہم ملک دشمن پر دباو ڈالنے کے معاملے پر نہیں ہیں اور نہ ہی کسی کو ایسا کوئی وعدہ دیا ہے۔ ہم نے کچھ ڈرونز مختلف سمتوں میں بھیجے کیونکہ ہم چاہتے تھے کہ یہ فوجی ڈرون میزائل فائر کریں اور جنگی بحری جہاز حرکت میں آئیں، تاکہ اس علاقے میں کام کرنے والے لوگوں کو معلوم ہو کہ یہ علاقہ غیر محفوظ ہے۔ صیہونی حکومت کی تاریخ میں پہلی بار مقاومت نے ایک ہی وقت میں تین ڈرون ایک ہدف پر بھیجے ہیں۔ ہمارے پاس مختلف سمتوں اور بڑی تعداد میں متعدد مسلح ڈرون بھیجنے کی طاقت ہے۔

حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ ہمارے ڈرونز کی جدید ساخت میں دشمنوں کے لئے یہ پیغام ہے کہ ہم سنجیدہ ہیں اور یہ (لبنان کا بحران) ہمارا بنیادی مسئلہ ہے۔ ہم اپنے اختیارات میں سے جو لازم ہوگا، اس کا انتخاب کریں گے۔ ہمارا یہ پیغام دشمن تک پہنچا، جس کا اندازہ ہمیں لبنان اور ہمارے ساتھ رابطوں کے علاوہ دشمن کے میدان میں ردعمل سے ہوا۔ طاقت کے لحاظ سے ہمارے پاس زمین، سمندر اور فضاء میں مختلف صلاحیتیں ہیں۔ یہ تمام آپشنز ہمارے سامنے کھلے ہیں، جس آپشن سے بھی ہمارا مسئلہ حل ہوگا، ہم وہی قدم اٹھائیں گے۔ لبنان ”مقاومت” پر انحصار کرتا ہے اور اسے چاہیئے کہ مقاومت سے استفادہ حاصل کرے۔ حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ ہمیں صرف اپنی سرحدوں کی بین الاقوامی تصدیق سے ہی مطمئن نہیں ہونا چاہیئے، بلکہ ڈرلنگ کے لیے مصروف عمل کمپنیوں کو کام پر واپس آنے کی اجازت دینی چاہیئے، تاکہ ہمارے لیے عملی نتائج کی ضمانت دی جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم دوست و دشمن کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ ہم نفسیاتی جنگ شروع نہیں کرنا چاہتے، البتہ یہ ایک واحد راستہ ہے، جس سے ہم اپنے ملک کو نجات دلا سکتے ہیں۔

سید حسن نصراللہ نے کہا کہ ہم نے ایک بار تمام لبنانیوں سے ایک موقف اپنانے کا مطالبہ کیا تھا، تاکہ اس موقف کو امریکیوں اور اسرائیلیوں کے کانوں تک پہنچائیں۔ ہم کہتے ہیں کہ اگر ہمارے حقوق ادا نہ کئے گئے، ہماری کمپنیوں کو کام کی اجازت نہ دی گئی تو ہمیں مایوسی ہوگی۔ بعض عوامل ہمارے ملک کو ویران کرنے پر تُلے ہوئے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ لوگ بھوک کی وجہ سے قطاروں میں کھڑے ہوں اور بھوک کی شدت سے ایک دوسرے کو قتل کر دیں۔ دشمن لبنان میں خانہ جنگی کروانا چاہتا ہے۔ اپنے خطاب کے آخر انہوں نے کہا کہ ہم اپنے دشمنوں سے کہتے ہیں کہ غلطی نہ کریں، ہوچیسٹن اور امریکہ سے کہتے ہیں کہ لبنانیوں کو دھوکہ نہ دیں۔ ڈرونز کا پیغام بھی آپ تک پہنچ گیا ہے۔ اس کلمے کو ریکارڈ کرلیں: کاریش، اور پھر کاریش اور پھر کاریش۔ ہم فلسطینی بارڈر پر آئل فیلڈ، کنووں اور پلیٹ فارمز کی نگرانی کر رہے ہیں۔ اگر کسی نے ہمیں اپنے حقوق سے استفادہ کرنے سے روکا تو پھر کوئی بھی ان ذخائر سے فائدہ نہیں اُٹھا سکے گا۔ اس کے علاوہ انہوں نے مشرق وسطیٰ کے نئے منصوبے کی ناکامی، امریکی صدر جو بائیڈن کا مقبوضہ فلسطین اور سعودی عرب کا دورہ، روس اور یوکرائن کے درمیان جنگ، لبنان اور صیہونی حکومت کے درمیان سرحدی تنازعہ جیسے موضوعات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=36146