36

ملک آج جس ڈگر پر ہے، یہ خواہشات اور مفادات کے ٹکراؤ کا نتیجہ ہے، علامہ ساجد نقوی

  • News cod : 41439
  • 17 دسامبر 2022 - 8:54
ملک آج جس ڈگر پر ہے، یہ خواہشات اور مفادات کے ٹکراؤ کا نتیجہ ہے، علامہ ساجد نقوی
ملک جس ڈگر پر آج پہنچ چکا ہے یہ آئین گریزی خواہشات اور مفادات کے ٹکراؤ کا نتیجہ ہے، اسی سبب مشرقی پاکستان الگ ہوا اور اے پی ایس جیسے بدترین سانحات رونما ہوئے

وفاق ٹائمز کی رپورٹ کے ، شیعہ علماء کونسل کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے سانحہ سقوط ڈھاکہ اور سانحہ اے پی ایس کی برسی اور حالیہ سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے دو بڑے ستون ہیں ریاست اور عوام، ریاست پاکستان آج بھی قائم ہے عوام بھی موجود ہیں مگر ملک جس ڈگر پر آج پہنچ چکا ہے یہ آئین گریزی خواہشات اور مفادات کے ٹکراؤ کا نتیجہ ہے، اسی سبب مشرقی پاکستان الگ ہوا اور اے پی ایس جیسے بدترین سانحات رونما ہوئے اور ملک بدامنی انتہاء پسندی اور دہشت گردی کی لپیٹ میں آگیا، آج ملک سیاسی و معاشی بدترین عدم استحکام کا شکار ہے، ریاست کو چلانے والا نظام آئین اور قانون کی حکمرانی تھی جسے بار بار بے توقیر و بے وقعت کیا گیا، اب بھی وقت ہے کہ غلطیوں سے سبق سیکھا جائے، ہماری ریاست کے دو اصول ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلی منزل جو حاصل کی گئی وہ ریاست پاکستان تھی دوسرا اور سب سے اہم جُز عوام تھے، ان دونوں ستونوں اور عوامل کو آگے بڑھنے کیلئے جو نظام وضع کیا گیا اسے دستور پاکستان کہتے ہیں، مگر کیا روز اول سے اس نظام کو چلنے دیا گیا، آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی قائم نہیں کی گئی بلکہ اس کے برعکس خواہشات اور مفادات کا ٹکراؤ اس سلسلے میں سب سے بڑی رکاوٹ نہ صرف بنا رہا بلکہ آج بھی یہی صورتحال ہے، اسی اکھاڑ پچھاڑ اور داخلی انتشار، ذاتی خواہشات و مفادات کے ٹکراوُ کا نتیجہ تھا کہ ملک کا وہ حصہ مشرقی پاکستان جدا ہوا جہاں سے آزادی کی تحریک اٹھی تھی اور دونوں ستونوں میں سب سے اہم ستون عوام کے حقو ق کا تحفظ کیا گیا نہ ہی احترام دیا گیا اور سقوط ڈھاکہ ہوا۔

انہوں نے مزید کہا کہ افسوس صد افسوس کے اتنے بڑے سانحہ کے باوجود دوبارہ وہی غلطیاں دہرائی گئیں، انہی خواہشات و مفادات کا پھر نتیجہ نہ صرف دہشت گردی، انتہاء پسندی کی صورت میں نکلا اور اے پی ایس کے معصوم بچوں سمیت کئی بے گناہوں کے جنازے اٹھاکر بھگتنا پڑا بلکہ آج ملک جس سیاسی و معاشی عدم استحکام کا شکار ہے، آئی ایم ایف کی سخت ترین شرائط سمیت عالمی مالیاتی اداروں کا دباؤ بڑھ رہا ہے، اس صورت میں ریاست کیساتھ عوام بھی بھگت رہے ہیں، دستور پر عمل نہ کرنے اور اس میں بگاڑ پیدا ہونے کے ساتھ افراتفری کا وہ ماحول بنا کہ آج تک ہزاروں لوگ شہید ہوئے مگر کسی مجرم کو سزا کیا ہوتی مجرموں کا تعین یا شناخت ہی نہ ہوسکی۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=41439