سال تحصیلی کے حوالے سے مدرسہ الامام المنتظر ایران میں پروگرام منقعد ہوا۔
پروگرام سے مختلف شعبوں کے مسئولین نے خطاب کئے۔
پرنسپل مدرسہ الامام المنتظر حجت الاسلام سید حسن نقوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طالب علم کیلئے مدرسہ کے پروگرامز مشعل راہ ہے کہ ہمارے لئے تعلیمی، تحقیقی، ثقافتی و تربیتی شعبہ جات نے کیا سوچا ہے؟ اسکے مقابل ہماری کیا ذمہ داریاں ہے؟ کس ذمہ داریوں کے ساتھ ہم آگے بڑھیں؟
ہفتہ وحدت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ :یہ ایام با برکت ایام ہے، یہی ہستیاں ہمارے لئے اسوہ ہے، پیغمبر اسلام معلم حقیقی بشریت ہیں،
انہوں نے طلاب کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ خداوند عالم فرماتے ہیں کہ وَ اتَّقُوا اللهَ وَ یُعَلِّمُکُمُ الله؛ تقوی اور علم تمام انسانوں کی نجات کا ذریعہ ہے۔
تقوی کا مطلب اللہ کو یاد رکھنا،تقوی بغیر علم و عمل کے حاصل نہیں ہوتا۔ دوسرا یہ کہ علم حاصل کریں۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ علم بغیر تقوی کے حاصل نہیں ہوتا خاص طور پر علم دین۔ جنہوں نے تقوی کے بغیر علم حاصل کیا انہوں نے اپنی زندگی میں کوئی فائدہ حاصل نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ محسن ملت فرماتے تھے کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم سارے دنیا کو درست کریں لیکن ہم اپنی جگہ پر کھڑے ہوتے ہیں اصل میں ہمیں خودسازی سے شروع کرنا چاہئے۔ امام خمینی ؒ نے خود سازی سے شروع کیا اور انقلاب برپا کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ اپنے بزرگان کی سیرت پڑھے اور ان سے سیکھنے کی کوشش کریں۔ استاد العلما نے ساڑے تین سال نجف میں تعلیم حاصل کی ایک بزرگ کے بقول استاد العلما عربوں کو عربی میں، ایرانیوں کو فارسی میں، پاکستانیوں کو اردو میں درس پڑھاتے تھے۔
انہوں نے قرآن کو اہمیت دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: امام حسن عسکری ؑ نے ابن بابویہ کو خط میں لکھا کہ قرآن مجید کی طرف متوجہ رہیں۔ اس سے ہمیں ایک نکتہ حاصل ہوتا ہے کہ ہمیں بھی قرآن کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ حضرت آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی فرماتے ہیں کہ ہمیں روزانہ کم از کم ایک آیت کی تفسیر پر توجہ دینے کی ضرورت ہے اور اس آیت میں اللہ کی طرف سے ہمارے لئے پیغام کو تلاش کریں اور دیکھیں کیا میں اس پر عمل کر رہا ہوں یا نہیں۔ اگر عمل کررہا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ دعا کریں اور کوشش کریں کہ اس پر عمل کریں۔
مدرسہ ہرسال کو دو بزرگوں سے موسوم کرتا ہے اور اس سال آیت اللہ العظمی شوستری شہید ثالث اور سندھ سے علامہ سید ثمر حسن زیدی موسوم کرتاہوں امید ہے طلاب ان دو شخصیات کے بارے میں پڑھیں گے۔












