15

  • News cod : 61353
  • 31 آگوست 2025 - 18:01
علامہ مفتی جعفر 42واں برسی قائدملت جعفریہ پر جوش سے منایا گیا نمونہ عمل۔ نجف الشرف میں علوم محمد آل محمد حاصل کرنا۔ پانچ برس کی عمر سے قرآن

قائد ملت جعفریہ پاکستان، علامہ مفتی جعفر حسینؒ قبلہ، ایک ایسا نام ہے، جسے پاکستان کی ملت تشیع کسی بھی طرح فراموش نہیں کر سکتی۔ ان کے ملت پر ان گنت احسانات، علمی خدمات، ملی و قومی خدمات اور قائدانہ کردار کی ناشکری کرنا، ایک بہت بڑا ظلم ہوگا۔ آپ کی 42ویں برسی پر نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر ممالک میں بھی آپ کی یاد میں عقیدت و احترام سے یادگاری تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں۔

مفتی جعفر حسینؒ کا تعلق پنجاب کے شہر گوجرانوالہ سے تھا۔ آپ حکیم چراغ دین کے منجھلے صاحبزادے تھے اور گوجرانوالہ میں جامعہ جعفریہ کے نام سے ایک دینی درسگاہ قائم کی، جو بعد از رحلت ان کی حقیقی حیثیت کے مطابق دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے اسکول میں تبدیل کر دی گئی۔

آپ ایک بلند پایہ ادبی شخصیت کے مالک تھے، اہل زبان اور صاحب قلم تھے۔ آپ نے اردو میں بے پناہ ذخیرہ الفاظ کے ساتھ کئی علمی و ادبی تصانیف کیں۔ ان کی تصانیف میں کتاب سیرت امیرالمومنینؑ، نہج البلاغہ کا اردو ترجمہ و تشریح اور صحیفہ کاملہ کا ترجمہ و تشریح شامل ہیں، جو اہل علم اور ادبی ذوق رکھنے والوں میں بے حد مقبول ہیں۔

آپ کا گھرانہ علم و حکمت و طب میں معروف تھا۔ چچا حکیم شہاب الدین نے آپ کی پرورش و تربیت کی، جس سے آپ کم سن ہی میں معصومین و اہلبیتؑ کی سیرت اور کارہائے نمایاں سے واقف ہوئے۔ آئمہ طاہرینؑ اور سیرت رسول خداؐ کی روشنی نے آپ کو خدمت خلق، فقر، صبر اور سادہ زیستی اپنانے کی تربیت دی، جس پر آپ نے اپنی پوری زندگی عمل کیا۔

پانچ برس کی عمر سے قرآن و عربی کی تعلیم حاصل کی اور سات برس کی عمر میں حدیث و فقہ میں مہارت حاصل کی۔ بارہ سال کی عمر میں آپ طب، حدیث، فقہ اور عربی میں قابل ذکر مہارت رکھتے تھے۔ 1926ء میں موچی دروازہ لاہور کے مرزا احمد علی نے آپ کی صلاحیت کو پہچان کر لکھنؤ کے مدرسہ ناظمیہ میں بھیجا، جہاں آپ نے سید علی نقی، ظہورالحسن اور مفتی احمد علی سے کسب فیض کیا۔ لکھنؤ میں انجمن مقاصدہ کے پلیٹ فارم پر ادبی سرگرمیوں میں حصہ لیا اور ناظم بھی رہے۔

1935ء میں مزید تعلیم کے لیے نجف اشرف تشریف لے گئے اور پانچ سال تک فقہ جعفریہ میں تعلیم حاصل کی۔ وہاں آپ کو علامہ سید ابوالحسن اصفہانی جیسے استاد میسر آئے۔ نجف میں بھی آپ کی زندگی سادگی، صبر و استقامت اور فقہ و علم میں محنت کی مثال تھی۔ آپ کی دوستی اور علمی روابط میں مولانا اظہر حسن زیدی کے ساتھ گہری رفاقت قائم ہوئی۔

وطن واپسی پر آپ نے دو برس نوگانواں سادات ضلع مرادآباد میں بطور مدرس خدمات انجام دیں اور بعد ازاں گوجرانوالہ تشریف لائے۔ آپ کی شخصیت بے باک، صاف گو، محنتی، سادہ اور دیانت دار تھی۔ عوام کے سامنے آپ کی سادگی اور عاجزی کی مثالیں آج بھی یاد کی جاتی ہیں۔ تانگوں یا سادہ سواری میں سفر کرنا، اپنے کپڑے خود دھوتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=61353

ٹیگز