انقلابِ اسلامی ایران اور امام خمینیؒ کی واپسی
حجاب زہراء
تاریخ گواہ ہے کہ جب ظلم، جبر اور ناانصافی کسی معاشرے میں اپنی انتہا کو پہنچ جائیں اور حکمران طبقہ عوامی حقوق کو مسلسل پامال کرتا رہے تو قوموں کے اندر بیداری کی ایک لہر جنم لیتی ہے۔ یہ بیداری ابتدا میں خاموش احتجاج کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے، مگر وقت کے ساتھ فکر، شعور اور اجتماعی ارادے میں ڈھل کر انقلاب کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ انقلاب صرف اقتدار کی منتقلی کا نام نہیں ہوتا بلکہ یہ پورے نظامِ حیات، طرزِ فکر اور سماجی اقدار کی ازسرِنو تشکیل کا اعلان ہوتا ہے۔بیسویں صدی میں رونما ہونے والے انقلابات میں انقلابِ اسلامی ایران کو ایک منفرد اور نمایاں مقام حاصل ہے۔ اس انقلاب کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ یہ نہ کسی فوجی بغاوت کے ذریعے برپا ہوا، نہ خانہ جنگی کے نتیجے میں، اور نہ ہی کسی بیرونی طاقت کی سرپرستی میں۔ یہ ایک خالص عوامی، فکری اور روحانی تحریک تھی جس نے نہ صرف ایران کے اندرونی سیاسی ڈھانچے کو بدل دیا بلکہ عالمی سطح پر استکباری طاقتوں کے غلبے کو بھی چیلنج کیا۔ اس انقلاب کی قیادت ایک ایسے دینی اور فکری رہنما کے ہاتھ میں تھی جس نے سیاست کو اخلاق، دین اور عوامی شعور سے جوڑ دیا۔ وہ عظیم رہنما حضرت امام خمینیؒ تھے۔
حضرت امام خمینیؒ 1320ھ بمطابق 1902ء میں ایران کے شہر خمین میں ایک علمی اور مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کی پرورش ایسے ماحول میں ہوئی جہاں علم، تقویٰ اور حق گوئی کو بنیادی حیثیت حاصل تھی۔ کم عمری ہی سے آپ میں غیر معمولی ذہانت، دینی بصیرت اور حق پسندی نمایاں تھی۔ اعلیٰ دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ فقہ، اصول، فلسفہ اور عرفان میں ممتاز مقام پر فائز ہوئے، مگر آپ کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ آپ علم کو صرف درسگاہوں تک محدود نہیں رکھتے تھے بلکہ اسے عملی جدوجہد کا ذریعہ سمجھتے تھے۔اس زمانے میں ایران ایک سخت گیر اور مطلق العنان شاہی نظام کے زیرِ تسلط تھا۔ شاہ ایران مغربی طاقتوں خصوصاً امریکہ کے مفادات کا محافظ بن چکا تھا۔ اسلامی اقدار کو دانستہ طور پر کمزور کیا جا رہا تھا، دینی طبقے کو دیوار سے لگایا گیا تھا اور عوام شدید سیاسی، معاشی اور سماجی استحصال کا شکار تھے۔ آزادیِ اظہار مکمل طور پر سلب ہو چکی تھی اور ریاستی تشدد ایک معمول بن گیا تھا۔ ان حالات میں علما اور باشعور طبقے نے شاہی پالیسیوں کو دین، قوم اور خودمختاری کے خلاف قرار دیا۔ایسے گھٹن زدہ ماحول میں امام خمینیؒ نے شاہی ظلم و جبر کے خلاف کھل کر آواز بلند کی۔ آپ نہ صرف شاہ کی آمرانہ پالیسیوں پر تنقید کرتے رہے بلکہ عوام کو ان کے حقوق، اسلامی تشخص اور خودداری سے بھی آگاہ کیا۔ آپ کی تقاریر نے عوام کے دلوں میں خوف کی جگہ جرأت اور مایوسی کی جگہ امید پیدا کی۔ اس فکری بیداری کے نتیجے میں ملک بھر میں ہڑتالیں، احتجاجی مظاہرے اور عوامی اجتماعات شروع ہو گئے۔
5 شوال 1383ھ بمطابق 22 مارچ 1963ء کو امام جعفر صادقؑ کی شہادت کے موقع پر منعقدہ ایک مجلس پر شاہی کارندوں نے حملہ کیا جس میں متعدد بے گناہ افراد شہید ہوئے۔ اس سانحے کے بعد امام خمینیؒ نے غیر معمولی جرأت و استقامت کے ساتھ شاہی ظلم کے خلاف دوٹوک مؤقف اختیار کیا۔ یہی وہ مرحلہ تھا جب تحریک محض احتجاج سے نکل کر ایک ہمہ گیر انقلابی جدوجہد میں تبدیل ہو گئی۔شاہی حکومت نے ردِعمل کے طور پر امام خمینیؒ کو گرفتار کر کے پہلے ترکی اور بعد ازاں عراق و فرانس جلاوطن کر دیا۔ شاہ کا خیال تھا کہ عوام کو ان کے مرجعِ تقلید سے دور کر کے تحریک کو ختم کیا جا سکے گا، مگر جلاوطنی نے تحریک کو عالمی سطح پر متعارف کرا دیا۔ اس دوران امام خمینیؒ نے اسلامی حکومت کا واضح نظریاتی تصور پیش کیا، انقلابی علما اور نوجوانوں کی فکری تربیت کی اور شاہی حکومت کے مظالم کو بین الاقوامی سطح پر بے نقاب کیا۔
بالآخر پندرہ برس کی طویل جلاوطنی کے بعد 22 بہمن 1357ھ ش بمطابق 1 فروری 1979ء کو امام خمینیؒ وطن واپس لوٹے۔ یہ دن ایرانی تاریخ کا فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔ لاکھوں افراد نے اپنے رہنما کا تاریخی استقبال کیا اور چند ہی دنوں میں صدیوں پر محیط شاہی نظام کا خاتمہ ہو گیا۔ امام خمینیؒ کی قیادت میں ایران میں اسلامی حکومت قائم ہوئی، جس نے نہ صرف ایرانی عوام کو خودداری اور آزادی کا احساس دلایا بلکہ دنیا بھر کے مظلوموں کو بھی امید کا پیغام دیا۔امام خمینیؒ نے گیارہ برس تک اسلامی ایران کی قیادت کی اور قوم کو فکری، اخلاقی اور روحانی سمت عطا کی۔ آپ نے یہ واضح کر دیا کہ ظلم کے سامنے خاموش رہنا جرم ہے اور حق کے لیے کھڑا ہونا ہی اصل حیات ہے۔ 3 جون 1989ء کو یہ عظیم رہنما اس دارِ فانی سے رخصت ہو گیا، مگر اس کی فکر اور جدوجہد آج بھی زندہ ہے۔اگرچہ امام خمینیؒ آج ہمارے درمیان جسمانی طور پر موجود نہیں، مگر ان کا اسوۂ حیات، انقلابی فکر اور جرأت مندانہ قیادت آج بھی مشعلِ راہ ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو شخص ملت اور انسانیت کے لیے خود کو وقف کر دیتا ہے، وہ وقت کی گرد میں گم نہیں ہوتا۔ امام خمینیؒ بھی انہی عظیم اور تاریخ ساز شخصیات میں سے ایک ہیں جن کے افکار اور کارنامے ہمیشہ زندہ رہیں گے۔












