1

آگے بڑھتا انقلاب اسلامی ایران

  • News cod : 63742
  • 15 فوریه 2026 - 17:42
آگے بڑھتا انقلاب اسلامی ایران
انقلاب کے بعد کی ایرانی عورت کا موازنہ کیا جائے تو واضح فرق نظر آتا ہے۔ آج ایران کی باحجاب مسلمان عورت معاشرے کے ہر شعبے میں سرگرم کردار ادا کر رہی ہے۔

آگے بڑھتا انقلاب اسلامی ایران

محمد حسین

انقلابِ اسلامی ایران سے پہلے انقلاب کے مخالفین مسلسل یہ پروپیگنڈا کرتے رہے کہ ایران میں کوئی انقلاب نہیں آ سکتا۔ وہ عوام کو مایوسی کا شکار کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ لیکن جب اللہ کی مدد اور نصرت سے یہ انقلاب کامیاب ہو گیا تو انہی لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ یہ انقلاب زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکے گا اور جلد ختم ہو جائے گا۔ اگر ہم تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ استعمار اور اس کے حامیوں نے ہر ممکن طریقے سے اس انقلاب کو ناکام بنانے کی کوشش کی۔ انقلابی قیادت کو مسلسل نشانہ بنایا گیا، ہزاروں افراد کو شہید کیا گیا، جنگیں مسلط کی گئیں اور سخت ترین پابندیاں لگائی گئیں، لیکن اس سب کے باوجود انقلاب آج بھی قائم ہے۔ دشمنوں کی خواہشات صرف خواہشات ہی رہ گئیں اور آج انقلاب اسلامی پہلے سے زیادہ مضبوط اور طاقتور ہو چکا ہے۔مغرب کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس کے اجتماعی شعور میں یہ بات بٹھا دی گئی ہے کہ مذہب اور معاشرہ ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ اسی سوچ کی بنیاد پر مغربی حکومتیں ہر مذہبی حکومت کے خلاف نظر آتی ہیں۔ اب صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ مغرب مذہبی شعائر سے بھی خوف محسوس کرنے لگا ہے۔ اسی خوف کے تحت مختلف ممالک میں مذہبی علامات پر پابندیاں لگائی جا رہی ہیں، کہیں مینار بنانے پر پابندی ہے، کہیں حجاب پر اعتراض کیا جا رہا ہے اور کئی ملکوں میں حلال ذبیحہ کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جہاں مذہبی علامات برداشت نہ کی جائیں، وہاں مذہبی نظام پر قائم حکومت کے بارے میں کیا رویہ ہوگا، یہ سمجھنا مشکل نہیں۔

کافی عرصے سے یہ بات سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ مغرب سیکولرازم اور لبرل ازم کے نام پر آگے بڑھتا ہے اور شخصی آزادیوں کے نعرے لگاتا ہے، مگر عملی طور پر وہ خود ان آزادیوں کی خلاف ورزی کرتا نظر آتا ہے۔ اگر لبرل ازم ریاست کو یہ حق نہیں دیتا کہ وہ کسی عورت کو پردہ کرنے پر مجبور کرے، تو کیا وہ ریاست کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ کسی عورت کو اس کی مرضی کے خلاف حجاب اتارنے پر مجبور کرے؟ بھارت میں حجاب کے خلاف جاری بحث اس کی واضح مثال ہے، جہاں ’’ڈریس کوڈ‘‘ کے نام پر مسلم لڑکیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اگر ریاست کسی عورت کو اس کی مرضی کے خلاف پردہ اتارنے کا حق رکھتی ہے، تو پھر وہی ریاست خواتین کو پردے کی ترغیب دے کر ان کے احترام اور تحفظ کو کیوں نہیں بڑھا سکتی؟ مگر ایسا کہتے ہی انتہا پسندی کے الزامات لگنا شروع ہو جاتے ہیں۔

ان لبرل اور سیکولر حلقوں کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ عورت کے حقوق کو صرف اس کے لباس سے ناپتے ہیں۔ اگر عورت باحجاب ہو کر اعلیٰ تعلیم حاصل کرے یا ہوائی جہاز اڑا رہی ہو تو ان کے نزدیک وہ محدود ہے، لیکن اگر وہ بے پردہ ہو تو اسے آزاد قرار دے دیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یورپ آزادی کے نام پر صرف بے پردگی کو قبول کرتا ہے، جبکہ پردے کو انتہا پسندی کہا جاتا ہے۔ یہی غلط فہمی آج اسلامی جمہوریہ ایران کی خواتین کے بارے میں بھی پائی جاتی ہے۔اگر انقلاب سے پہلے اور انقلاب کے بعد کی ایرانی عورت کا موازنہ کیا جائے تو واضح فرق نظر آتا ہے۔ آج ایران کی باحجاب مسلمان عورت معاشرے کے ہر شعبے میں سرگرم کردار ادا کر رہی ہے۔ یونیورسٹیوں میں طالبات کی تعداد طلبہ سے زیادہ ہو چکی ہے۔ تحقیقی اداروں، میڈیکل، سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ایرانی خواتین نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں۔ کرونا وبا کے دوران، جب ایران کو شدید مشکلات کا سامنا تھا، تو اس محاذ پر سب سے آگے خواتین ہی تھیں۔

کچھ ممالک میں خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت بھی ایک مسئلہ بنی رہی، جبکہ اسلامی جمہوریہ ایران میں یہ کبھی مسئلہ ہی نہیں رہا۔ ایران میں خواتین بڑی تعداد میں گاڑیاں چلا رہی ہیں اور عملی زندگی میں بھرپور حصہ لے رہی ہیں۔ میرے دورۂ ایران کے دوران یہ بات واضح طور پر محسوس ہوئی کہ انقلاب اسلامی نے ایرانی معاشرے میں امن، اعتماد اور سماجی سکون پیدا کیا ہے۔ انقلاب سے پہلے ایران کی شناخت چند امیر اور مغرب زدہ خواتین کی تصاویر تک محدود تھی، مگر آج ہر شعبے میں ایرانی عورت اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہے۔میرا خیال ہے کہ انقلاب اسلامی نے عورت کو تحفظ کے ساتھ آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے، اس پر اعتماد کیا اور اسی اعتماد کا نتیجہ ہے کہ ایرانی خواتین نے حیران کن کارنامے انجام دیئے۔ آج اسلامی انقلاب کی ایک مضبوط دفاعی دیوار یہی باشعور اور باوقار خواتین ہیں۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ کوئی بھی نظام اس وقت تک قائم نہیں رہ سکتا جب تک وہ اپنے شہریوں کو معاشرتی سکون فراہم نہ کرے۔ انقلاب اسلامی کو اندرونی منافقین نے نقصان پہنچانے کی کوشش کی، بیرونی دشمنوں نے آٹھ سال تک جنگ مسلط رکھی اور آج سخت ترین پابندیاں عائد ہیں، مگر اس کے باوجود ایران میں امن و امان قائم ہے، صفائی کا مؤثر نظام موجود ہے اور صحت کا نظام بھی بہتر ہے۔ مشہد میں صفائی کے نظام کو دیکھ کر غیر ملکی وفود بھی متاثر ہوئے ہیں۔بی بی سی جیسے عالمی اداروں نے بھی اعتراف کیا ہے کہ اسلامی انقلاب کے بعد ایران نے میڈیکل کے شعبے میں نمایاں ترقی کی ہے اور عام عوام کو بہتر سہولیات میسر ہیں۔ انقلاب لانا ایک عظیم کارنامہ تھا، جو امام خمینیؒ کی ولولہ انگیز قیادت کا نتیجہ تھا، اور اسے قائم رکھنا اور آگے بڑھانا بھی ایک بڑا کارنامہ ہے، جو رہبرِ معظم سید علی خامنہ ای مدظلہ العالی کی بصیرت سے ممکن ہوا۔اصل حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی قوم خدا پر بھروسہ کرتے ہوئے انسانیت کی خدمت کے جذبے سے آگے بڑھتی ہے تو دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں بھی یہ ماننے پر مجبور ہو جاتی ہیں کہ سب کچھ درست تھا، مگر خدا خمینیؒ کے ساتھ تھا۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=63742

ٹیگز