4

عالمی اعتماد متزلزل، امریکہ اب قابل بھروسہ شراکت دار کیوں نہیں رہا؟

  • News cod : 63773
  • 22 فوریه 2026 - 10:10
عالمی اعتماد متزلزل، امریکہ اب قابل بھروسہ شراکت دار کیوں نہیں رہا؟
آمریکہ قابل اعتماد نہیں رہا، ڈونلڈ ٹرمپ کے دور حکومت میں سب سے پہلے امریکہ کی پالیسی نے روایتی سفارتی اصولوں سے انحراف کو نمایاں کیا، امریکی حکام کے بیانات اور عملی پالیسیوں کے درمیان بڑھتا ہوا تضاد عالمی سطح پر اس کی ساکھ کو مسلسل متاثر کررہا ہے۔

طویل عرصے تک نام نہاد قانون پر مبنی عالمی نظام کے دفاع کو اپنی قیادت کا جواز بنانے کے بعد حالیہ برسوں میں امریکی حکام کے بیانات اور عملی پالیسیوں کے درمیان بڑھتا ہوا تضاد عالمی سطح پر اس کی ساکھ کو مسلسل متاثر کررہا ہے۔

بین الاقوامی ڈیسک: امریکہ طویل عرصے تک خود کو ایک ایسے عالمی نظام کا معمار اور نگہبان قرار دیتا رہا جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد وجود میں آیا اور جس کی بنیاد اقوام متحدہ، عالمی مالیاتی فنڈ اور عالمی بینک جیسے اداروں پر رکھی گئی۔ واشنگٹن نے برسوں تک اس نام نہاد قواعد پر مبنی نظام کے دفاع کو اپنی عالمی قیادت اور اخلاقی جواز کی بنیاد بنایا۔ تاہم حالیہ برسوں میں واشنگٹن کی پالیسیوں اور بیانات کے درمیان بڑھتا ہوا تضاد عالمی سطح پر اس کی ساکھ کو متاثر کررہا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے دور حکومت میں سب سے پہلے امریکہ کی پالیسی نے روایتی سفارتی اصولوں سے انحراف کو نمایاں کیا۔ اس نعرے کے تحت اختیار کی جانے والی حکمت عملی میں نہ صرف حریف ممالک بلکہ قریبی اتحادیوں پر بھی دباؤ، پابندیاں اور تجارتی دھمکیاں شامل رہیں، جس سے واشنگٹن کے طرزعمل پر سوالات اٹھے۔ امریکی خارجہ پالیسی میں یکطرفہ اقدامات، بین الاقوامی معاہدوں سے علیحدگی اور طاقت کے استعمال پر انحصار نے اس تاثر کو تقویت دی کہ امریکہ خود اُن اصولوں کی مکمل پاسداری نہیں کر رہا جنہیں وہ عالمی سطح پر فروغ دینے کا دعوی کرتا ہے۔ اس طرزعمل کو بعض حلقے جنگل کے قانون کی واپسی سے تعبیر کرتے ہیں، جہاں طاقت اصولوں پر غالب آتی ہے۔ اگر واشنگٹن نے بیانات اور عملی اقدامات کے درمیان خلیج کو کم نہ کیا تو عالمی سطح پر اس کے اثر و رسوخ اور قیادت کے کردار کو مزید چیلنجز کا سامنا ہوسکتا ہے۔ دنیا تیزی سے کثیر قطبی نظام کی جانب بڑھ رہی ہے، جہاں اعتماد ہی اصل سرمایہ ہے۔ یہی سرمایہ آج امریکہ کے لیے سب سے بڑا امتحان بنتا جارہا ہے۔

امریکی یکطرفہ اقدامات اور سفارتی اعتماد کا زوال

صدر ٹرمپ نے یورپ، کینیڈا اور حتی کہ جاپان سے اسٹیل اور ایلومینیم کی درآمدات پر بھاری محصولات نافذ کرنے کا اعلان کردیا۔ وہ ممالک جو کئی دہائیوں سے مغربی سلامتی اور اقتصادی ڈھانچوں میں امریکہ کے شراکت دار رہے تھے، اچانک یہ پیغام وصول کرنے لگے کہ اسٹریٹجک تعلقات بھی انہیں تعزیری اقدامات سے نہیں بچاسکتے۔ جب واشنگٹن قومی سلامتی کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے ہی اتحادیوں کی مصنوعات پر محصولات عائد کرتا ہے تو ان ممالک کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ قومی سلامتی کی تعریف کو کتنی وسعت دے سکتا ہے۔ ایسے اقدامات نے نہ صرف اقتصادی دراڑیں پیدا کیں بلکہ سیاسی اعتماد کو بھی کمزور کر دیا۔

اسی طرح ٹرمپ نے ڈنمارک سے گرین لینڈ خریدنے کی تجویز بھی پیش کی۔ کسی نیٹو اتحادی ملک کے زیر انتظام علاقے سے متعلق ایسی تجویز مبصرین کو نوآبادیاتی دور کی یاد دلاتی ہے، جب بڑی طاقتیں علاقوں کو تجارتی اشیاء کی طرح خرید و فروخت کرتی تھیں۔ کوپن ہیگن اور یورپی عوامی رائے کیلے منفی ردعمل نے ثابت کیا کہ آج کی دنیا طاقت کی زبان کو قبول نہیں کرتی۔ لیکن اس سے بھی اہم پیغام یہ تھا کہ امریکہ کے قریبی شراکت دار بھی غیر متوقع اور تذلیل آمیز فیصلوں کی زد میں آسکتے ہیں۔

مزید برآں، بین الاقوامی تنازعات کے حل کے لیے ٹرمپ کا انداز اکثر زیادہ سے زیادہ دباؤ اور طاقت کے استعمال کی دھمکیوں پر مبنی رہا۔ مختلف ممالک کے خلاف زبانی دھمکیوں سے لے کر کثیرالجہتی معاہدوں سے یکطرفہ انخلا جیسے اقدامات نے اس تاثر کو مضبوط کیا کہ واشنگٹن قانونی اور سفارتی ذرائع کے بجائے زیادہ تر جابرانہ طریقوں پر انحصار کرتا ہے۔ بین الاقوامی معاہدوں سے علیحدگی اور وسیع پیمانے پر پابندیوں کے دوبارہ نفاذ نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ امریکی دستخط انتظامیہ کی تبدیلی کے ساتھ غیر مؤثر ہوسکتے ہیں۔ ایسے حالات میں واشنگٹن کے وعدوں پر طویل المدت اعتماد کے لیے کیا منطقی وجہ باقی رہ جاتی ہے؟

 

ڈالر کی اجارہ داری کے خلاف کثیر قطبی مالی نظام کی تشکیل

اقتصادی پابندیاں ایک غیر معمولی ہتھیار میں تبدیل ہوکر مستقل پالیسی کی شکل اختیار کرچکی ہیں۔ ان پابندیوں کا دائرہ اس حد تک وسیع ہوگیا ہے کہ نہ صرف ہدف بنائے گئے ممالک بلکہ تیسرے فریق کمپنیوں اور بینکوں کو بھی سزا کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ یہ پابندیاں مؤثر طور پر دیگر ریاستوں کی خودمختاری کو متاثر کرتی ہیں اور انہیں امریکہ کے اندرونی فیصلوں کے مطابق اپنی پالیسیوں کو ڈھالنے پر مجبور کرتی ہیں۔ اس طرزعمل کا فطری نتیجہ یہ ہے کہ امریکی ڈالر کی اجارہ داری پر مبنی مالیاتی نظام پر انحصار کم کرنے کی کوششیں تیز ہوگئی ہیں۔ یہ رجحان حالیہ برسوں میں مزید بڑھا ہے۔ اس فریم ورک کے تحت ابھرتی ہوئی طاقتیں اور حتی کہ امریکہ کے کچھ روایتی اتحادی بھی خود مختار نظاموں کو مضبوط بنانے کی سمت بڑھ رہے ہیں۔ BRICS جیسے گروہوں کے بڑھتے ہوئے کردار کو اس رجحان کا حصہ سمجھا جاسکتا ہے۔ یہ مغربی مالیاتی اور سیاسی غلبے کے مقابلے میں توازن پیدا کرنے کی کوشش ہے۔ امریکہ جتنی زیادہ دباؤ کے ہتھیار استعمال کرتا ہے، اتنا ہی زیادہ دیگر ممالک کے لیے متبادل نظاموں میں شمولیت کی ترغیب بڑھتی ہے۔

اتحادی ممالک کے بارے میں ٹرمپ کے سخت اور بعض اوقات غیر معمولی رویے کے بھی اہم نفسیاتی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ یورپی رہنماؤں نے واضح طور پر اسٹریٹجک خود مختاری کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اسی طرح ایشیا میں بھی متعدد ممالک امریکہ کے ساتھ سکیورٹی تعلقات کے باوجود چین کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو مضبوط کرنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ واشنگٹن کی پالیسیوں میں اچانک تبدیلی کی صورت میں کمزور نہ پڑیں۔ یہ بڑھتا ہوا احتیاط اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اب امریکہ کو ایک مستحکم اور پیش گوئی کے قابل شراکت دار نہیں رہا۔

عالمی طاقت کے نئے اصول: باہمی اعتماد اور استحکام

تاریخی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو عظیم طاقتوں کا زوال عموما اس وقت شروع ہوتا ہے جب ان کے دعوؤں اور عملی طرز عمل کے درمیان خلیج بہت زیادہ بڑھ جائے۔ امریکہ اگرچہ عسکری اور ٹیکنالوجی کے میدان میں اب بھی ایک ممتاز مقام رکھتا ہے، لیکن اخلاقی جواز اور عالمی اعتماد کے بغیر صرف فوجی طاقت پائیدار نہیں رہ سکتی۔ اگر کوئی ملک بین الاقوامی قانون کے دفاع کا دعوی کرے لیکن عملی طور پر قوانین کو منتخب انداز میں لاگو کرے یا اپنے اتحادیوں پر تجارتی حریف کے طور پر نگاہ کرے تو یہ تضاد جلد یا بدیر اس کے اثر و رسوخ میں کمی کا باعث بنتا ہے۔

عالمی معیشت میں بھی امریکی پالیسیوں کے عدم استحکام کا ردعمل ظاہر ہونا شروع ہوا ہے۔ بڑی کمپنیاں پابندیوں اور اچانک عائد ہونے والے محصولات کے خطرات کو کم کرنے کے لیے اپنی سپلائی چینز کا ازسر نو جائزہ لے رہی ہیں۔ ممالک اپنے زرمبادلہ کے ذخائر کو متنوع بنانے اور آزاد ادائیگی کے نظام بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ رجحانات اگرچہ بتدریج سامنے آرہے ہیں، لیکن مجموعی طور پر یہ امریکہ کے اثر و رسوخ میں آہستہ آہستہ کمی کا باعث بن رہے ہیں۔

مسائل کے حل کے لیے طاقت یا دھمکیوں پر مسلسل انحصار کثیرقطبی دنیا میں مؤثر ثابت نہیں ہوگا۔ جتنا زیادہ واشنگٹن دباؤ کی منطق پر انحصار کرے گا، اتنا ہی زیادہ دیگر ممالک توازن قائم کرنے کی حکمت عملی اختیار کریں گے۔ ایسے ماحول میں امریکہ کو ایسی دنیا کا سامنا ہوگا جو دشمنی کی وجہ سے نہیں بلکہ عدم اعتماد کی وجہ سے اس سے دور ہوتی جارہی ہے۔

بالآخر، امریکہ کے عالمی مقام کے لیے سب سے بڑا خطرہ دوسروں کا ابھار نہیں بلکہ اس کی اپنی اسٹریٹجک پالیسیاں ہیں۔ اگر جنگل کے قانون والا رویہ جاری رہے، اگر اتحادیوں کو حریف سمجھا جائے، اور بین الاقوامی قوانین کو صرف اسی وقت تسلیم کیا جائے جب وہ واشنگٹن کے قلیل مدتی مفادات سے ہم آہنگ ہوں، تو زوال کا عمل تیز ہوجائے گا۔ آج کی دنیا پہلے سے زیادہ باہم مربوط ہے، اور طاقت اب صرف فوجی قوت یا معیشت کے حجم سے نہیں بلکہ اعتماد، استحکام اور وعدوں کی پاسداری سے حاصل ہوتی ہے۔ جو ملک اس سرمایے کو کھو دیتا ہے بالآخر بین الاقوامی نظام میں اپنی حیثیت کھو بیٹھتا ہے خواہ وہ سب سے طاقتور ہی کیوں نہ ہو۔

حاصل سخن

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو موجودہ عالمی نظام میں امریکی پالیسیوں اور عملی اقدامات کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج اس کی عالمی قیادت کے لیے سنگین چیلنج بن چکی ہے۔ یکطرفہ اقتصادی دباؤ، وسیع پیمانے پر پابندیوں کا استعمال اور اتحادی ممالک کے ساتھ تجارتی و سیاسی مقابلہ عالمی اعتماد کو کمزور کر رہا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ عظیم طاقتوں کا اثر و رسوخ صرف عسکری یا معاشی برتری پر نہیں بلکہ سفارتی ساکھ اور اخلاقی جواز پر بھی منحصر ہوتا ہے۔ اگر امریکہ عالمی قوانین کو منتخب انداز میں لاگو کرنے کی روش جاری رکھتا ہے تو اس کے عالمی کردار پر سوالات مزید گہرے ہوسکتے ہیں۔

مستقبل کا عالمی نظام تیزی سے کثیرقطبی صورت اختیار کر رہا ہے جہاں طاقت کا معیار صرف فوجی قوت نہیں بلکہ اعتماد، استحکام اور بین الاقوامی تعاون پر مبنی تعلقات ہیں۔ ایسے ماحول میں واشنگٹن کو اپنی حکمت عملی میں توازن، شراکت داری اور عالمی برادری کے خدشات کو زیادہ سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہوگی۔ بصورت دیگر عالمی سطح پر اس کے اثر و رسوخ میں بتدریج کمی کا رجحان مزید مضبوط ہو سکتا ہے اور نئی ابھرتی ہوئی طاقتیں عالمی سیاست میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرسکتی ہیں

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=63773

ٹیگز