امریکا کی قیادت میں اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف شروع کی گئی بھرپور جنگ کے چوتھے روز صورتحال مزید پیچیدہ اور سنگین ہو گئی ہے۔
مرجع تقلید شیعیان جہان رہبرِ انقلاب آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی شہادت کو اس جنگ کا ایک اہم اور فیصلہ کن موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم اس سانحے کے باوجود ایران کا دفاعی و سیکیورٹی ڈھانچہ نہ صرف برقرار ہے بلکہ غیر روایتی اور طویل المدتی حکمتِ عملی کو فعال کرتے ہوئے سرحدوں سے باہر تک بھرپور جوابی کارروائی کی گئی ہے۔
علاقائی ذرائع کے مطابق ایرانی مسلح افواج نے ’’وعدہ صادق‘‘ آپریشن کے چوتھے مرحلے میں اپنے میزائل اور ڈرون نظام کی نئی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔
مبصرین کے مطابق یہ کارروائیاں اس تاثر کے برعکس ہیں کہ جنگ کو ایران کی سرحدوں تک محدود رکھا جا سکے گا۔ ایران نے جنگ کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے اسرائیل کے زیر قبضہ علاقوں اور امریکا کے اتحادی ممالک میں موجود اہداف کو نشانہ بنایا۔
اطلاعات کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ دوحہ، دبئی، ریاض اور منامہ میں بھی عسکری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی خبریں سامنے آئی ہیں۔
ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ اس جنگ کی حمایت کرنے والوں کے لیے کوئی مقام محفوظ نہیں رہے گا۔
پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق حملوں میں نمایاں جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔
ترجمان سردار نائینی نے کہا ہے کہ ابتدائی دو روز میں امریکی ہلاکتوں کی تعداد 650 سے تجاوز کر گئی، جبکہ بحرین میں امریکی بحریہ کے ہیڈکوارٹر پر حملے میں مزید 160 اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے۔
رپورٹس میں ایک امریکی جنگی معاون جہاز کو نشانہ بنانے اور چار کروز میزائل امریکی طیارہ بردار جہاز USS Abraham Lincoln کی جانب داغنے کا بھی ذکر ہے، جس کے بعد مبینہ طور پر یہ بحری بیڑہ بحرِ ہند کی جانب منتقل ہو گیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ ایران کی دفاعی حکمت عملی اب امریکی بحری قوت کے لیے بھی چیلنج بنتی جا رہی ہے۔
دوسری جانب اسرائیل کے اندرونی حالات سے متعلق محدود اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایران کی توجہ اس اتحاد کے مرکزی ستون یعنی امریکی عسکری قوت کو کمزور کرنے پر مرکوز ہے۔
چوتھا روز اب محض عسکری جھڑپ نہیں رہا بلکہ خطے کے ممکنہ نئے توازنِ طاقت کا امتحان بن چکا ہے۔ جبکہ فضا میں اب بھی دھوئیں کے بادل موجود ہیں، یہ سوال شدت اختیار کر رہا ہے کہ واشنگٹن اور تل ابیب میں جنگی منصوبہ سازوں نے کیا اس مہم جوئی کی قیمت کا درست اندازہ لگایا تھا؟












