غزہ کی خواتین جنگ، بے گھری اور صحت کے نظام کی تباہی کے باعث انسانی بحران کے دہانے پر
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق غزہ کی پٹی میں فلسطینی خواتین اور لڑکیاں جنگ، بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور انسانی امداد کی شدید قلت کے باعث بیک وقت کئی بحرانوں کا سامنا کر رہی ہیں۔ یہ صورتحال ان کی زندگی اور صحت کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔
جنوبی غزہ کے علاقے المواصی میں ایک خستہ حال خیمے کے اندر 22 سالہ ہند اپنے نومولود بچے کو شدید سردی سے بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کا بچہ شدید پھیپھڑوں کے انفیکشن کے ساتھ پیدا ہوا اور اب بھی غزہ کے چند فعال اسپتالوں میں سے ایک کے انتہائی نگہداشت یونٹ میں زیرِ علاج ہے۔
ہند کا کہنا ہے کہ زچگی کے وقت اس کا وزن صرف تقریباً ۴۳ کلوگرام تھا کیونکہ حمل کے دوران اسے شدید غذائی قلت کا سامنا رہا۔ وہ اپنے دوسرے بچے کے بارے میں بھی بتاتی ہے جو ابھی دو سال کا بھی نہیں ہوا اور ایک سرد اور نم خیمے میں رہنے کے باعث بیمار رہتا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ہند کی کہانی غزہ میں ہزاروں خواتین کی حالت کی صرف ایک مثال ہے۔ جنگ اور انسانی بحران کے کئی پہلوؤں نے فلسطینی خواتین کو جسمانی اور نفسیاتی طور پر ٹوٹنے کے قریب پہنچا دیا ہے۔










