1

اولو الامر کی حقیقی تعبیر و تشریح

  • News cod : 27792
  • 12 ژانویه 2022 - 15:29
اولو الامر کی حقیقی تعبیر و تشریح
۱۔ اولی الامر کے تعین میں یہ اختلاف و اضطراب اپنی جگہ، لیکن اگر ہم ان نظریات کی روشنی میں مسلم معاشرے کے اہل حل و عقد اور اہل علم کے اجماع کو اولی الامر کی مشروعیت حاصل ہونے کے نتائج و آثار کا گہرا مطالعہ کریں تو اس اطاعت کے بھیانک اثرات صفحۂ تاریخ پر ثبت نظر آتے ہیں۔

تحریر: مفسر قرآن علامہ شیخ محسن علی نجفی
“یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَ اُولِی الۡاَمۡرِ مِنۡکُمۡ ۚ فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِیۡ شَیۡءٍ فَرُدُّوۡہُ اِلَی اللّٰہِ وَ الرَّسُوۡلِ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ ؕ ذٰلِکَ خَیۡرٌ وَّ اَحۡسَنُ تَاۡوِیۡلًا” ( النساء:59)
ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اور تم میں سے جو صاحبان امر ہیں ان کی اطاعت کرو پھر اگر تمہارے درمیان کسی بات میں نزاع ہو جائے تو اس سلسلے میں اللہ اور رسول کی طرف رجوع کرو اگر تم اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔ یہی بھلائی ہے اور اس کا انجام بھی بہتر ہو گا۔”
تشریح کلمات
الۡاَمۡرِ:( ء م ر ) یہ لفظ دو معنوں میں استعمال ہوتا ہے: حکم اور معاملات۔ حکم کے معنی میں استعمال ہو گا تواس کی جمع اوامر ہو گی۔ جب معاملات کے معنی میں استعمال ہوگا توا س کی جمع امور ہو گی۔
تفسیر:
اس آیت میں اسلامی نظام سیاست اور دستور ریاست کی اہم ترین دفعات کا ذکر ہے اور وہ درج ذیل اصول کے مطابق ہیں:
i۔ اَطِیۡعُوا اللّٰہَ : اس نظام میں طاقت اور اقتدار کا سرچشمہ اللہ کی ذات ہے اور دوسرے تمام احکام کا اسی کی ذات پر منتہی ہونا ضروری ہے، ورنہ وہ طاغوت کے احکام و دستور شمار ہوں گے:
وَاِلَيْہِ يُرْجَعُ الْاَمْرُ كُلُّہٗ ۔۔(۱۱ ہود: ۱۲۳)
اور سارے امور کا رجوع اسی کی طرف ہے۔
ii۔ وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ: اللہ کی اطاعت اور بندگی کا واحد ذریعہ اور سند رسول کریم (ص) کی ذات ہے، جس کے بغیر نہ تو حکم خد اکا علم ہو سکتا ہے اور نہ ہی اطاعت ہو سکتی ہے:
مَنۡ یُّطِعِ الرَّسُوۡلَ فَقَدۡ اَطَاعَ اللّٰہَ ۔۔ (۴ نساء: ۸۰)
جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔
چنانچہ رسول (ص) کی اطاعت کے بغیر اللہ کی اطاعت ناممکن ہے۔ اس سلسلے میں قرآن میں فرمایا:
وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذۡنِ اللّٰہِ ۔۔۔ (۴ نساء: ۶۴)
اور ہم نے جو بھی رسول بھیجا اس لیے بھیجا ہے کہ باذن خدا اس کی اطاعت کی جائے۔
iii۔ وَ اُولِی الۡاَمۡرِ مِنۡکُمۡ: تیسری اطاعت اولی الامر کی اطاعت ہے۔ یہ اطاعت، رسول اللہ (ص) کی اطاعت کے ساتھ منسلک ہے۔ اسی لیے اس اطاعت کو رسول (ص) کی اطاعت پر عطف کیا ہے۔
اولی الامر سے مراد کون ہے؟ اس سلسلے میں جو اقوال و نظریات غیر امامیہ مصادر میں ہیں، ان پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں:
لکھتے ہیں کہ ابوہریرہ امیر لشکر کو، ابی بن کعب سلاطین کو، جابر بن عبد اللہ صاحبان فقہ و خیر کو، مجاہد فقیہ اصحاب کو، ابو العالیہ اہل علم کو ، ابن ابی حاتم اصحاب محمد (ص) میں راویان و داعیان کو، عکرمہ ابوبکر و عمر کو، کلبی ابوبکر و عمر و عثمان و علی (ع) اور ابن مسعود کو، (تفسیر المراغی ۵: ۷۳) امام مالک اہل قرآن کو، ابن کیسان صاحبان عقل و رائے کو اولی الامر جانتے ہیں۔ بعض جدید مفسرین تو سرداران لشکر اور سربراہان کے ساتھ تاجروں، صنعت کاروں، کسانوں اور مزدوروں کے سربراہوں اور جرائد کے ایڈیٹرز حضرات کو بھی اولی الامر جانتے ہیں۔ تفسیر المنار نے کمپنیوں کے ڈائریکٹرز، جماعتوں کے سربراہان، ڈاکٹروں اور وکلاء حضرات کو بھی اولی الامر میں شامل کیا ہے۔ (المنار ۵: ۱۹۹)
بعض اردو اہل قلم اس بارے میں لکھتے ہیں:
اولی الامر کے مفہوم میں وہ سب لوگ شامل ہیں جو مسلمانوں کے اجتماعی معاملات کے سربراہ ہوں۔ خواہ ذہنی و فکری رہنمائی کرنے والے علماء ہوں یا سیاسی رہنمائی کرنے والے سربراہ یا ملکی انتظام کرنے والے حکام یا عدالتی فیصلے کرنے والے جج یا تمدنی و معاشرتی امور میں قبیلوں، بستیوں اور محلوں کی سربراہی کرنے والے شیوخ اور سردار، غرض جو جس حیثیت سے بھی مسلمانوں کا صاحب الامر ہے، وہ اطاعت کا مستحق ہے۔ (مودودی۔ تفہیم القرآن ۱: ۳۹۴)
فخر الدین رازی اور صاحب تفسیر المنار کہتے ہیں: امت کا اجماع ہی اولی الامر ہے اور اجماع امت معصوم ہے۔ کیونکہ اس آیت میں اطاعت مطلق کا حکم ہے اور اطاعت مطلق صرف معصوم ہی کی ہو سکتی ہے۔
تفسیر المنار کے الفاظ یہ ہیں:
و یصح ان یقال منھم معصومون فی ھذا الاجماع و کذالک اطلق الامر بطاعتھم ۔ (المنار ۵: ۱۸۱)
اور یہ کہنا درست ہو گا کہ امت اپنے اس اجماع میں معصوم ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کی اطاعت کا حکم مطلق رکھا ہے۔
۱۔ اولی الامر کے تعین میں یہ اختلاف و اضطراب اپنی جگہ، لیکن اگر ہم ان نظریات کی روشنی میں مسلم معاشرے کے اہل حل و عقد اور اہل علم کے اجماع کو اولی الامر کی مشروعیت حاصل ہونے کے نتائج و آثار کا گہرا مطالعہ کریں تو اس اطاعت کے بھیانک اثرات صفحۂ تاریخ پر ثبت نظر آتے ہیں۔
اولی الامر کے منصب پر فائز ارباب حل و عقد نے یزید کی خلافت پر مہر تصدیق ثبت کر دی اور انہی اولی الامر کے ہاتھوں مدینۃ الرسول (ص) کو تاراج کیاگیا اور ایک ہی رات میں انصار و مہاجرین اصحاب رسول (ص) کی ہزاروں خواتین کی عصمتیں لوٹ لی گئیں۔ اس کے بعد اموی اور عباسی اولی الامر کے ہاتھوں کتنی عصمتیں لٹیں۔ کس قدر انسانیت کا خون ہوا، کس قدر خیانتیں ہوئیں، کس قدر احکام و حدود پامال ہوئے۔ ایک اموی اولی الامر عبد الملک بن مروان نے کہا :
من قال لی ان اتق اللہ ضربت عنقہ ۔ (المنار ۳ : ۶۰)
اگر کوئی مجھ سے یہ کہے کہ اللہ کا خوف کرو، میں اس کی گردن مار دوں گا۔
اس طرح ارباب حل و عقد اور سلاطین و امراء کے ہاتھوں رونما ہونے والے جرائم اور فساد فی الارض سے تاریخ کے صفحات سیاہ ہیں۔ کیا ان سب کی خلافت پر اس امت کے ارباب حل و عقد نے اجماع نہیں کیا تھا؟
۲۔ اگر پوری امت معصوم عن الخطا اور اولی الامر کے منصب عصمت مآب پرفائز ہوتی تو خود امت کو اس کا علم ہوتا اور عصر رسالت (ص) اور عصر خلفاء میں اس کا ذکر ہوتا۔ اس امت کے پیشتاز اصحاب و تابعین کو اس کی حدود و قیود اور تفصیل کا علم ہوتا، اپنے اختلافات و اجماعات میں اس کا ذکر کرتے اور اس سے استدلال کرتے۔جب کہ اصحاب و تابعین نے کہیں بھی اس کا ذکر تک نہیں کیا۔ صرف ساتویں صدی میں فخر الدین رازی نے یہ مسئلہ اٹھایا ہے۔
علامہ محمد عبدہ المنار میں کہتے ہیں :
میرا خیال تھا کہ مجھ سے پہلے کسی مفسر نے اولی الامر کی تفسیر ارباب حل و عقد کے ساتھ نہیں کی ہے، لیکن میں نے یہ بات بعد میں تفسیر نیشاپوری میں بھی دیکھی۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ امام محمد عبدہ یا نیشاپوری سے پہلے کسی شخص کو یہ علم نہ ہو سکا کہ اہل حل وعقد اولی الامر ہیں۔ نتیجۃً اس وقت تک اولی الامر کی اطاعت بھی نہیں ہوئی۔ اس عظیم انکشاف کے بعد کس حد تک اولی الامر یعنی ارباب حل و عقد کے اجماع کی اطاعت ہوئی؟ اسے ہم سب جانتے ہیں۔
رہی یہ حدیث: لا تجمتع امتی علی خطا ۔ ’’میری امت خطا پر اتفاق نہیں کرے گی‘‘ سو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ امت نے جن جن مسائل میں اجماع کیا ہے، وہ خطا نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ خطا پر امت کا اجماع وقوع پذیر ہو گا ہی نہیں۔ چنانچہ ہم جانتے ہیں کہ کبھی بھی اس امت نے کسی خطا پر اجماع نہیں کیا۔ اگر اکثریت نے ایک رائے پر اتفاق کیا بھی ہے تو ایک جماعت ہمیشہ ایسی رہی ہے جس نے اختلاف کیا ہے۔ بفرض تسلیم حدیث: اختلاف امتی رحمۃ ۔ شاید رحمت کی ایک توجیہ یہی صورت ہو۔
۳۔ اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَ اُولِی الۡاَمۡرِ مِنۡکُمۡ: میں رسول (ص) اور اولی الامر کو ایک تعبیر میں جمع اور ایک ہی اطاعت میں شریک رکھا ہے۔ لہٰذا جب رسول (ص) کی اطاعت معصوم کی اطاعت ہے تو اولی الامر کی اطاعت بھی معصوم ہی کی اطاعت ہو سکتی ہے۔ چنانچہ فخر الدین رازی نے بھی یہی نتیجہ اخذ کیا ہے۔ فقط یہ کہ وہ امت کے اجماع کو معصوم قرار دیتے ہیں۔
۴۔ اطاعت اس کی ہوتی ہے جس کے پاس امر کرنے کا اختیار ہو۔ چنانچہ قرآن نے متعدد آیات
میں امر و اطاعت کے اختیار کو متعدد طبقوں سے سلب کیا ہے۔ چنانچہ عصر رسالت (ص) کے اصحاب سے فرمایا:
وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ فِیۡکُمۡ رَسُوۡلَ اللّٰہِ ؕ لَوۡ یُطِیۡعُکُمۡ فِیۡ کَثِیۡرٍ مِّنَ الۡاَمۡرِ لَعَنِتُّمۡ ۔۔۔ (۴۹ حجرات: ۷ )
اور تمہیں علم ہونا چاہیے کہ اللہ کے رسول تمہارے درمیان موجود ہیں، اگر بہت سے معاملات میں وہ تمہاری بات مان لیں تو تم خود مشکل میں پڑ جاؤ گے۔
نیزفرمایا :
لَا تُطِیۡعُوۡۤا اَمۡرَ الۡمُسۡرِفِیۡنَ﴿﴾ ۔ (۲۶ شعراء : ۱۵۱)
اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی اطاعت نہ کرو۔
وَ لَا تُطِعۡ مَنۡ اَغۡفَلۡنَا قَلۡبَہٗ عَنۡ ذِکۡرِنَا ۔ (۱۸ کہف : ۲۸)
آپ اس شخص کی اطاعت نہ کریں جس کے دل کو ہم نے اپنے ذکر سے غافل کر دیا ہے۔۔۔۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اولی الامر کی اطاعت سے لوگ مشکلات سے دوچار نہ ہوں گے۔ اولی الامر مسرف اور ذکر خدا سے غافل نہیں ہوں گے۔
امامیہ کا مؤقف یہ ہے کہ اولی الامر سے مرا د ائمہ اہل البیت علیہم السلام ہیں۔ خدا و رسول (ص) کے بعد ان کی اطاعت واجب ہے۔ جیسا کہ رسول (ص) کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے۔ کیونکہ رسول (ص) معصوم ہیں۔ وہ جو بات کرتے ہیں وحی الٰہی کے مطابق کرتے ہیں۔ اسی طرح اولی الامر کی اطاعت رسول (ص) کی اطاعت ہے، کیونکہ ان کے فرامین سے سنت نبوی (ص) ثابت ہوتی ہے۔
امامیہ کا مؤقف یہ ہے کہ اللہ اور رسول (ص) کی اطاعت کے ساتھ ایک تیسری اطاعت بھی واجب ہے۔ یہ تیسری اطاعت رسول (ص) کی اطاعت پر منتہی ہوتی ہے، جیسے رسول (ص) کی اطاعت اللہ کی اطاعت پر منتہی ہوتی ہے۔ جیسا کہ حضرت امام جعفر صادق (ع) سے روایت ہے:
حدیثی حدیث ابی و حدیث ابی حدیث جدی و حدیث جدی حدیث الحسین و حدیث الحسین حدیث الحسن و حدیث الحسن حدیث امیرالمؤمنین و حدیث امیر المؤمنین حدیث رسول ﷲ و حدیث رسول ﷲ قول ﷲ عز و جل ۔ (الکافی ۱: ۵۳ باب روایۃ الکتب۔ الوسائل ۲۷ : ۸۳ باب وجوب العمل باحادیث النبی)
میری حدیث میرے پدر بزرگوار کی حدیث ہے، ان کی حدیث میرے جد بزرگوار کی حدیث ہے، ان کی حدیث حضرت حسین (ع) کی حدیث ہے، ان کی حدیث حضرت حسن (ع) کی حدیث ہے، ان کی حدیث امیرالمومنین (ع) کی حدیث ہے اور ان کی حدیث رسول خدا (ص) کی حدیث ہے۔رسول خدا (ص) کی حدیث اللہ کا کلام ہے۔
دوسری روایت میں فرمایا :
مہما اجبتک فیہ لشیء فھو عن رسول اللہ (ص)، لسنا نقول برأینا من شیء ۔( بصائر الدرجات ص ۳۰۱)
میں نے جو کچھ بھی تمہیں بتایا ہے وہ سب رسول خدا (ص)کی طرف سے ہے، ہم اپنی رائے سے کچھ بھی بیان نہیں کرتے۔
حضرت محمد باقر (ع) سے روایت ہے:
و لٰکنا نحدثکم باحادیث نکنزھا عن رسول اللہ ص کما یکنز ھولاء ذھبہم و فضتہم ۔ ( بصائر الدرجات ص ۲۹۹)
ہم تم سے رسول خدا (ص) کی احادیث بیان کرتے ہیں جنہیں ہم اس طرح ذخیرہ کر کے رکھتے ہیں جیسے وہ سونے اور چاندی کو ذخیرہ کرکے رکھتے ہیں۔
ائمہ اہل البیت علیہم السلام کے اولی الامر ہونے پر درج ذیل سوال اٹھایا گیا ہے:
اگر اولی الامر ائمہ اہل البیت (ع) ہیں تو خدا و رسول (ص) صریح لفظوں میں بیان کرتے، پھر کسی کو اختلاف بھی نہ ہوتا۔
جواب: خدا و رسول (ص)نے آیہ تطہیر (۳۳ احزاب ۳۳) اور آیہ اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللّٰہُ ۔۔۔ (۵ مائدہ: ۵۵) میں صریح الفاظ میں بیان فرمایا ہے، جن کی تفسیر ہم ان کے مقامات پر بیان کریں گے۔
الف۔ حدیث سفینہ: جس میں رسول کریم (ص) نے فرمایا:
انما مثل اہل بیتی کمثل سفینۃ نوح من رکبہا نجا و من تخلف عنھا غرق ۔ (الاحتجاج ۲ : ۳۸۰۔)
اس حدیث کو حضرت علی علیہ السلام ، حضرت ابوذر، ابو سعید خدری، ابن عباس اور انس ابن مالک و دیگر اصحاب نے روایت کیا ہے۔ (تحقیق کے لیے ملاحظہ ہو مستدرک الحاکم ۲: ۲۴۳ اور ۳: ۱۵۰، تاریخ البغداد ۱۲ : ۱۹۔ حلیۃ الاولیاء ۴ : ۳۰۶۔ مجمع الزوائد ۹ : ۱۶۸ ، کنز العمال ۶ : ۱۵۳۔۲۱۶۔)
ب۔ حدیث ثقلین: جس میں رسول کریم (ص) نے فرمایا:
اِنِّی تَارِکٌ فِیْکُمُ الثَّقَلَیْنِ مَا اِنْ تَمَسَّکْتُمْ بِھِمَا لَنْ تَضِلُّوا کِتَابَ اللہِ وَ عِتْرَتِی اَہْلَ بَیْتِی وَ اِنَّہُمَا لَنْ یَفْتَرِقَا حَتّٰی یَرِدَا عَلَیَّ الْحَوْضَ ۔ (صحیح الترمذی ۵: ۶۲۱۔ مسند احمد ۵: ۱۸۱۔ صحیح مسلم ۷: ۱۲۲)
اس حدیث کو حضور (ص) نے ایک مرتبہ میدان عرفہ میں اعلان فرمایا اور ایک بار غدیر خم میں۔
اس حدیث کو حضرت علی ابن ابی طالب، حسن بن علی، فاطمۃ الزہراء علیہم السلام، جابر بن عبد اللہ انصاری، ابو سعید خدری، زید بن ارقم، حذیفہ بن اسید، زید بن ثابت، سلمان فارسی، ابوذر، ابن عباس، ابوالہیثم، ابو رافع، حذیفہ بن یمان، حزیمۃ بن ثابت، ابو ہریرہ، عبد اللہ بن حنطب، جبیر بن مطعم، البراء بن عازب، انس بن مالک، طلحہ بن عبد اللہ تیمی، عبد الرحمٰن بن عوف، سعد بن ابی وقاص، عمرو بن عاص، سہل بن سعد انصاری، عدی بن حاتم، ابو ایوب انصاری، ابو شریح خزاعی، عقبہ بن عامر، ابو قدامہ انصاری، ابو لیلیٰ انصاری، ضمیرہ اسلمی، عامر بن لیلیٰ، ام سلمہ اور ام ہانی نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے روایت کیا ہے ۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو عبقات الانوار جلد اول و دوم۔
حدیث کا تقابل: اس حدیث کے مقابلے میں ایک حدیث اس طرح پیش کی جاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ترکت فیکم امرین کتاب اللہ و سنۃ نبیّہ ۔ مگر اس حدیث کے مضمون اور سند کے بارے میں چند حقائق کا بیان ضروری ہے:
i۔ بعض روایات میں اس حدیث کو خطبۂ حجۃ الوداع میں شامل کیا گیا ہے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ خطبۂ حجۃ الوداع میں اعتصام بالسنۃ کا ذکر ثابت نہیں ہے۔ جو ثابت ہے وہ اعتصام بالعترۃ ہے۔ ( ملاحظہ ہو مستدرک حاکم)
ii۔ کسی حدیث کا صححین میں نہ ہونا اہل سنت کے اعلام کے نزدیک اس حدیث کی کمزوری کی علامت ہے۔ یہ حدیث صححین میں نہیں ہے۔
iii۔ یہ حدیث صرف موطا امام مالک میں موجود ہے، مگر امام مالک مراسیل کو بھی صحیح تصور کرتے ہیں۔ (کشف الظنون ۲: ۱۹۰۸)
ابن حزم نے کتاب مراتب الدیانۃ میں کہا ہے:
میں نے موطا امام مالک کی احادیث کو شمار کیا تو پانچ سو کچھ احادیث مسند اور تین سو کچھ احادیث مرسل ہیں اور ستر سے زائد احادیث پر خود امام مالک نے عمل کرنا چھوڑ دیا ہے اور ان میں کچھ کمزور احادیث بھی ہیں جن کو جمہور علماء نے بے اعتبار قرار دیا ہے۔ (تنویر الحوالک ۱:۹)
سند: اس حدیث کی کوئی سند قابل اعتبار نہیں۔ ذیل میں ہم اس پر ایک مختصر سا تبصرہ کریں گے:
i۔ مالک بن انس نے سند کے بغیر یہ حدیث نقل کی ہے۔
ii۔ ابن ہشام نے خطبہ حجۃ الوداع کے ضمن میں روایت کی ہے بغیر سند کے۔
iii۔ حاکم نے دو سندوں سے روایت کی ہے۔ ایک ابن عباس سے دوسری ابو ہریرہ سے۔ پہلی روایت کی سند میں اسماعیل بن ابی اویس ہے جو مجروح ہے۔ نسائی ابن عدی کہتے ہیں: ابن معین، ابن حزم نے ان کو ضعیف ناقابل قبول اور جعل حدیث کا مرتکب قرار دیا ہے۔(تہذیب التھذیب ۱ : ۲۷۱) دوسری سند میں صالح بن موسیٰ طلحی کوفی ہے۔ ابن معین کہتے ہیں: لیس بشیء ۔ بخاری کہتے ہیں: یہ منکر الحدیث ہے۔ نسائی کہتے: ضعیف ہے۔ عقیلی کہتے ہیں: اس کی کوئی حدیث قابل قبول نہیں ہے۔ (تہذیب التھذیب ۴ : ۳۵۴)
iv۔ بیہقی کی روایت میں بھی کوئی نئی سند نہیں ہے، وہی حاکم کی دونوں سندیں ہیں۔
v۔ التمہید میں ابن عبدالبر کی ایک مسند تو حاکم کی سند ہے، دوسری سند میں کثیر بن عبد اللہ موجود ہے۔ امام احمد بن حنبل نے اس کو بے اعتبار قرار دیا ہے۔ ابن عبد البر کہتے ہیں: اہل رجال کا اس بات پر اجماع ہے کہ یہ شخص ضعیف الروایہ ہے۔ ابن حیان کہتے ہیں: یہ شخص جو روایات اپنے باپ اور اپنے دادا سے نقل کرتا ہے وہ ایک ایسے نسخہ سے نقل کرتا ہے جو جعلی ہے۔ اس کو کسی کتاب کے شمار میں لانا مناسب نہیں ہے۔ (تہذیب التھذیب ۸ : ۳۷۷)
vi۔ قاضی عیاض نے یہ روایت ابو سعید خدری سے نقل کی ہے۔ اس سند میں شعیب بن ابراہیم اور سیف بن عمر جیسے ضعفاء ہیں۔ خصوصاً سیف بن عمر کے بے اعتبار ہونے پر تمام اہل رجال متفق ہیں۔ (تہذیب التھذیب ۴ : ۲۵۹)
vii۔ متقی ہندی نے کنز العمال میں اس روایت کو ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے: یہ حدیث ناقابل تائید ہے۔ (کنزالعمال ۲ باب دوم الاعتصام بالکتاب و السنۃ)
viii۔ حسن بن علی سفاف شافعی کہتے ہیں: مجھ سے سوال ہوا : حدیث ثقلین کتاب ﷲ و عترتی اہل بیتی کے الفاظ صحیح ہیں یا کتاب ﷲ و سنتی ؟ جواب یہ ہے :صحیح اور ثابت کتاب ﷲ و عترتی اہل بیتی کے الفاظ کے ساتھ ہے اور کتاب ﷲ و سنتی سند اور متن کے اعتبار سے باطل ہے۔ چنانچہ کتاب اللہ و عترتی کے الفاظ کی مسلم اور ترمذی اور دوسرے حضرات نے صحیح سند کے ساتھ روایت کی ہے اور کتاب اللہ و سنتی سند کے کمزور ہونے کی وجہ سے جعلی ہے۔ اس میں شک نہیں ہے کہ اس حدیث کے جعل میں بنی امیہ کا ہاتھ ہے۔ ( صحیح صفۃ صلوٰۃ النبی صفحہ ۲۸۹۔۲۹۲ )
دوسری جگہ لکھتے ہیں:
ix۔ حدیث ترکت فیکم ما ان تمسکتم بہما لن تضلوا بعدی ابداً کتاب اللہ و سنتی جو کہ زبان زد عام ہے اور خطیب حضرات بھی منبروں سے بیان کرتے ہیں، ایک جعل اور جھوٹ پر مبنی ہے، جسے بنی امیہ اور ان کے پیروکاروں نے جعل کیا ہے تاکہ لوگوں کی توجہ صحیح حدیث کتاب ﷲ و عترتی سے ہٹ جائے۔ ( صحیح شرح عقیدہ الطحاویۃ صفحہ ۶۵۴)
ج۔ حدیث اثنا عشر خلیفۃ جس میں رسول اللہ (ص) فرمایا:
ان ہذا الامر لا ینقضی حتی یمضی فیھم اثنا عشر خلیفۃ کلھم من قریش ۔
اس حدیث کو مختلف الفاظ میں جابر بن سمرہ، سمرۃ العدوی، عبد اللہ بن مسعود، عبد اللہ بن عمر، انس بن مالک ، ابو سعید خدری، سلمان فارسی، حذیفہ، عبد اللہ بن عباس وغیرہ نے روایت کیا ہے۔
امام احمد بن حنبل نے اس حدیث کو ۳۴ طرق سے روایت کیا ہے اور علامہ حمیدی نے جامع میں، صحیح بخاری اور صحیح مسلم نے ۶ طرق سے یہ روایت نقل کی ہے۔ علامہ ابن حجر نے تو یہ بھی کہدیا کہ اس حدیث کی صحت پر اجماع قائم ہے۔ (اس حدیث پر مزید تحقیق کے لیے ملاحظہ ہو صحیح بخاری کتاب الاحکام، صحیح مسلم کتاب الامارۃ، صحیح ترمذی ابواب فتن، مسند احمد بن حنبل جلد ۵ و دیگر مصادر۔)
اسلامی مصادر کے علاوہ توریت میں آیا ہے:
و یجعل من ذریتی اثنی عشر عظیما ۔ (ملاحظہ ہو سفر تکوین اصحاح ۱۷: ۱۸۔۲۰)
حضرت ابراہیم (ع) کو یہ بشارت دی گئی ہے کہ اسماعیل کی اولاد سے بارہ عظیم ہستیاں ہوں گی ۔
اس حدیث کے ذیل میں علمائے حدیث کو بارہ خلیفہ یا بارہ امیر کی توجیہ پیش کرنے میں جو اضطراب لاحق ہوا ہے، وہ قابل مطالعہ ہے۔ علامہ ابن عربی شرح صحیح ترمذی میں خلفاء کی تعداد ۲۷ تک ذکر کرنے کے بعد کہتے ہیں: و لم اعلم للحدیث معنی ۔ مجھے اس حدیث کا مطلب سمجھ نہیں آیا۔ سچ کہا: چونکہ جب اس حدیث کے اصل مصادیق کو نظرانداز کیا جائے تو اس حدیث کے معنی نہ صرف علامہ ابن عربی کے لیے ناقابل فہم ہیں بلکہ اضطراب اقوال بتاتے ہیں کہ یہ سب کے لیے ناقابل فہم ہے۔
فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِیۡ شَیۡءٍ: اگر تمہارے درمیان کسی بات میں نزاع ہو جائے تو اس میں اللہ اور رسول (ص) کی طرف رجوع کرو۔
۱۔ اس جملے میں بھی خطاب چونکہ مومنین سے ہے، لہٰذا اس نزاع کی بات ہے جو مومنین میں آپس میں واقع ہو جاتا ہے۔
۲۔ نزاع کی حالت میں رجوع اللہ اور رسول (ص) کی طرف ہی کرنا ہے، چونکہ مصدر تشریع، قرآن و سنت ہے، اولی الامر ان کے محافظ ہیں۔
چنانچہ حضرت علی علیہ السلام سے روایت ہے:
اعرفوا ﷲ باﷲ والرسول بالرسالۃ۔ واولی الامر بالامر بالمعروف و العدل و الاحسان ۔ (الکافی ۱ :۸۵)
اللہ کو خود اللہ سے پہچانو، رسول کو رسالت سے اور اولوالامر کو امر بالمعروف اور عدل و احسان سے پہچانو۔
اہم نکات
۱۔ جب رسولؐ کی اطاعت کے بغیر اللہ کی اطاعت نہیں ہو سکتی تو اولی الامر کی اطاعت کے بغیر بھی رسولؐ کی اطاعت نہیں ہو سکتی۔
۲۔ نزاع کی صورت میں گروہی تعصب سے ہٹ کر اللہ اور رسول کی طرف رجوع کرنا ایمان کی نشانی ہے: فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِیۡ شَیۡءٍ فَرُدُّوۡہُ اِلَی اللّٰہِ وَ الرَّسُوۡلِ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ ۔
الکوثر فی تفسیر القران جلد 2 صفحہ 336

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=27792

ٹیگز