امت واحدہ پاکستان کےسربراہ علامہ محمدامین شہیدی نےحج بیت اللہ اورعیدالاضحی کےحوالہ سےخصوصی پیغام میں کہاہےکہ حج وعیدکےروحانی اورعظیم لمحات میں اللہ سےدعاہےکہ امتِ مسلمہ کوبیداری اورابراہیمی قربانی کاشعور،امت کےرہنماؤں کونمرودِ وقت کی شناخت اورسنتِ ابراہیمی کےمطابق اپنےاسماعیل کوقربان کرنےکاحوصلہ عطاکرےاوراسلام کےمشترکہ مفادات کےدفاع اورحفاظت کےلئےمتحدہونےکی توفیق عطافرمائے۔
انہوں نےفلسفہ حج پرروشنی ڈالتےہوئےکہاکہ حج اللہ کی طرف سےمسلمانوں پرمخصوص شرائط کےساتھ واجب قراردیاگیاہے؛لہذاہمیں چاہیےکہ حج کےپس منظرمیں موجودفلسفہ کےمطابق اسےانجام دیں۔حج کےدوران خداتعالی کےحکم مطابق حجاج کرام بہت سی حلال اشیاء سےخودکوروک دیتےہیں؛اس مشق کامقصدخداکی اطاعت وفرمانبرداری ہے۔اسی طرح شیطان کوکنکریاں مارنےکافلسفہ یہ ہےکہ کنکرمارنےوالاہرشخص شیطان کی شیطانیت سےبرأت وبیزاری کااظہارکرتاہے۔حقیقی بیزاری یہی ہےکہ حج سےواپس آنےکےبعدتمام لوگ ابلیسی مفادات کوایک طرف رکھتےہوئےاپنی زندگی کاآغازاللہ کی اطاعت اورمظلوم انسانوں کی مددسےکریں۔حج سےمرادخودکوشیطان کےشرسےآزادکرناہے۔اس کےبعدجب حجاج کرام کعبة اللہ کی طرف لوٹیں تو”لبیک اللھم لبیک”کہ کراس بات کا اعلان کریں کہ ہم اللہ کی طرف پلٹ آئےہیں اوردوبارہ شیطان کی طرف نہیں جائیں گے۔
علامہ امین شہیدی نےمسلم امہ کےنام اپنےپیغام میں کہاکہ مسلمان حکمرانوں اورعوام کومشترکہ مفادات کےحصول کےلئےمغربی طاقتوں کی فکری غلامی سےنجات حاصل کرناہوگی۔مسلمان حکمرانوں کی اپنےہم مذہب وہم عقیدہ لوگوں کےساتھ اللہ کےگھرمیں ایک ساتھ نمازکی ادائیگی کافی نہیں۔اسلام تہذیبِ نفس کادین ہےجواللہ اوربندوں کےدرمیان پاکیزہ رابطہ کوبرقراررکھنےکادرس دیتاہے۔اللہ کےگھرکی طرف آنےوالےتمام انسان اللہ کےمطیع ہیں اورظلم سےنفرت کرتےہیں۔مسلمان حکمرانوں کوچاہیےکہ وہ امتِ مسلمہ کےمفادات کواپنےاقتدارپرترجیح دیں اورجہاں جہاں طاغوت نےمسلمانوں پرظلم کابازارگرم کررکھاہے،اس کےخلاف مسلمان عوام کےساتھ کھڑےہوجائیں۔اگرمسلمان حکمرانوں نےامہ کےمسائل کی طرف توجہ نہ دی توحج جیسی اہم اوراجتماعی عبادت اصل روح سےخالی رہےگی۔












