34

آیت اللہ العظمیٰ صافی گلپائیگانی اخلاص، تقوی، شجاعت، فقاہت کا عملی نمونہ تھے، آیت اللہ نوری ہمدانی

  • News cod : 47159
  • 12 می 2023 - 1:57
آیت اللہ العظمیٰ صافی گلپائیگانی اخلاص، تقوی، شجاعت، فقاہت کا عملی نمونہ تھے، آیت اللہ نوری ہمدانی
بزرگ مرجع تقلید نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ حضرت آیت اللہ العظمیٰ صافی گلپائیگانی بھی انہی میں سے ایک ہیں کہ جنہوں نے علم، تقوی اور بیان کا حق ادا کیا

وفاق ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، حوزه علمیه دارالشفاء میں “آیت اللہ العظمٰی صافی گلپائیگانی کی نظر سے مہدوہت اور انتظار” کے عنوان سے منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس سے حضرت آیت اللہ نوری ہمدانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ

آیت اللہ العظمیٰ صافی گلپائیگانی اخلاص، تقوی، شجاعت، فقاہت کا عملی نمونہ تھے۔

انہوں نے امام زمانہ(عج) کی توقیع «اَمَّا الْحَوادِثُ الْواقِعَهُ فَارْجِعوُا فیها اِلی رُواهِ حَدیثِنا؛ فَاِنَّهُمْ حُجَّتی عَلَیْکُمْ وَاَنَا حُجَّهُ اللّهِ عَلَیْهِمْ»، کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امام زمانہ(عج) نے لوگوں کیلئے یہ بات ثابت کرنے کیلئے کہ ہر کام میں اہل بیت علیہم السلام کی جانب رجوع کریں، معتبر سند کے ساتھ ایک توقیع میں کہ جسے صاحب وسائل نے 18ویں جلد میں ذکر کیا ہے، فرمایا: (لوگوں کو چاہیئے کہ پیش آنے والے حوادث میں ہمارے راویوں کی جانب رجوع کریں کیونکہ وہ تم پر ہماری حجت ہیں اور ہم ان پر اللہ کی حجت ہیں۔

انہوں نے نہج البلاغہ کے 139ویں کلمات قصار کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ خداوند عالم نے روی زمین پر اپنی حجت قرار دی ہے اور زمین کبھی بھی اس کی حجت سے خالی نہیں ہوتی۔ لیکن کبھی یہ حجت سب کے سامنے واضح و ظاہر ہوتی ہے اور کبھی پنہان کہ لوگوں کو چاہیئے کہ اس حجت کی جانب رجوع کریں اور ایسے افراد کہ جو اس پنہان حجت کی جانب متوجہ ہوتے ہیں بہت کم ہیں۔

بزرگ مرجع تقلید نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ حضرت آیت اللہ العظمیٰ صافی گلپائیگانی بھی انہی میں سے ایک ہیں کہ جنہوں نے علم، تقوی اور بیان کا حق ادا کیا اور اپنی ذمہ داری کی ادائیگی میں ہمیشہ کوشاں رہے۔

آیت اللہ نوری ہمدانی نے کہا کہ 1322 شمسی کہ جب آپ قم تشریف لائے تب ان کے ساتھ آشنا ہوئے اور دین کی خدمت میں مصروف عمل رہے۔ آپ کا کہنا تھا کہ آیت اللہ العظمیٰ صافی گلپائیگانی اخلاص، تقوی، شجاعت، فقاہت کا عملی نمونہ تھے۔

انہوں نے کہا کہ آیت اللہ العظمیٰ صافی گلپائیگانی کی کتاب «منتخب الاثر» کہ جو آپ نے آیت اللہ العظمیٰ بروجردی کے زمانہ میں تالیف کی، بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔

حضرت آیت اللہ نوری همدانی نے کہا کہ اس کتاب میں امام زمانہ(عج) اور مہدویت کے متعلق نہایت ہی جامع و کامل مطالب ہیں، لہذا حوزه ہائے علمیہ اسے اپنے نصاب میں شامل کریں۔ لوگوں کو امام عصر(عج) سے آشنا کرانے کیلئے ضروری ہے کہ یہ کتاب عام کی جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آیت اللہ العظمیٰ صافی گلپائیگانی ایک شجاع فقیہ تھے کہ جہاں بھی ضرورت ہوتی آپ اخلاص و شجاعت کے ساتھ اپنا قدم اٹھاتے اور لوگوں پر اثر انداز ہوتے۔ یہ کتاب منتخب الاثر آپ کی اس خصوصیت کا روشن مصداق ہے۔ آیت اللہ بروجردی بھی اس کتاب کو بہت اہمیت دیتے اور اس کی تعریف کرتے تھے۔ آپ ہر پہلو سے خواہ عظمت ہو یا اخلاص، کامل اسوہ تھے۔ آپ کی موت سے ایک ایسی خلاء ایجاد ہوئی ہے جو شاید ہی کبھی بھر پائے۔ جن لوگوں نے اس کانفرنس کا انعقاد کیا ان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اللہ آپ سب کی توفیقات میں اضافہ فرمائے۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=47159

ٹیگز