وفاق ٹائمز، جماعت اہل سنت پاکستان پنجاب کے صوبائی ناظم اعلی علامہ حافظ محمد فاروق خان سعیدی، ممبر سپریم کونسل جماعت اہل سنت پاکستان وسیم ممتاز ایڈووکیٹ، رہنما تنظیم المدارس اہل سنت و مہتمم جامعہ غوثیہ صاحبزادہ مفتی محمد عثمان پسروری، صدر جمعیت علماپاکستان جنوبی پنجاب محمد ایوب مغل، ڈویژنل امیر علامہ سید محمد رمضان شاہ فیضی، صدر سنی تحریک جنوبی پنجاب و قائد متحدہ میلاد کونسل ملتان مرزا محمدارشد القادری و دیگر نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ اگر سانحہ مستونگ کے مجرموں کو 5 اکتوبر تک بے نقاب نہ کیا گیا تو 6 اکتوبر کو جماعت اہل سنت کی مرکزی قیادت پاکستان بھر اور آزادکشمیر میں احتجاج کی کال دے گی۔ مرکزی قیادت کی ہدایت کے مطابق پنجاب اور خاص طور پر ملتان سمیت جنوبی پنجاب میں پرامن احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جائے گا، اس سلسلے میں بہت جلد مرکزی قیادت حتمی لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔ مشترکہ پریس کانفرنس میں قائدین نے کہا کہ ہمارے پرامن رہنے کو کمزوری نہ سمجھا جائے ہم ابھی تک نشتر پارک کراچی اور اولیااللہ کے مزارات پر ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کو فراموش نہیں کر سکے کہ مستونگ اور پشاور میں ربیع الاول سے دہشت گردی کے واقعات سے ہمارا دل خون کے آنسو رو رہا ہے، نگران حکومت ہمارے صبر کا امتحان نہ لے دہشت گردی اور فرقہ واریت کی لہر کو سختی سے روکا جائے اور مجرموں کو نشان عبرت بنایا جائے۔
مشترکہ پریس کانفرنس میں شرکا نے مزید کہا کہ 12ربیع الاول شریف کے مقدس دن مستونگ بلوچستان میں عید میلادالنبی کے جلوس میں بم دھماکے اور عاشقانِ رسول کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی نگران حکومتوں سے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ اس سنگین سانحہ کے ذمہ داروں اور ان کے سرپرستوں کو کڑی سے کڑی سزا دے کر نشان عبرت بنایا جائے، تنظیمات اہل سنت کے ان نمائندگان نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ مستونگ کا حالیہ حادثہ تشدد اور سفاکیت کی بدترین مثال ہے70سے زیادہ عاشقان رسالت مآب کی المناک شہادت اور300 سے زیادہ افراد کا شدید زخمی ہونا اور اس پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی بے حسی انتہائی افسوک ناک ہے۔ بلوچستان سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق زخمیوں کا کوئی پرسان حال نہیں نہ دوائیاں موجود ہیں اور نہ انجیکشن دستیاب ہیں۔ یاد رہے کہ جلوس کو کوئی سیکورٹی مہیا نہیں کی گئی اور نہ کوئی حفاظتی انتظامات کئے گئے، جو ڈی ایس پی شہید ہوئے ہیں وہ اپنی عقیدت اور محبت کی بنا پر شریک ہوئے تھے۔
رہنمائوں نے کہا کہ جڑانوالہ واقعہ کے بعد مرکزی اور صوبوں کی پوری انتظامیہ فوری حرکت میں آئی تھی لیکن سانحہ مستونگ پر تغافل مجرمانہ ہر طرح قابلِ مذمت ہے۔ اس حادثے میں شہید ہونے والوں میں ایسے نوجوان بھی تھے جو اپنے کنبے کے واحد کفیل تھے اور معصوم ننھے بچوں نے بھی جامِ شہادت نوش کیا اس کا مدوا کو ن کرے گا۔ حکومت فوری طور پر شہدا کے ورثا اور زخمی افراد کو معقول مالی امداد فراہم کرے اور اس سانحہ کے ذمہ داروں کو فوری طور پر گرفتار کرکے نشان عبرت بنایا جائے۔ جس ملک میں عید میلاد النبی کے دن اپنے آقاو مولا کے میلاد کی خوشی منانے والوں کی جانیں محفوظ نہیں ہیں وہاں کے امن و امان کا اللہ ہی حافظ ہے، اس سانحہ نے نشتر پارک کے زخم تازہ کر دیئے ہیں، اگر نشتر پارک کے مجرموں کو سزا دی جاتی تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا، اس موقع پر کہا جا رہا ہے کہ اس میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے اگر ایسا ہے تو اس کی روک تھام کس کی ذمہ داری ہے؟












