3

متحدہ طلبہ محاذ کا ملک بھر کی یونیورسٹیز میں فلسطین کے حق میں احتجاج تحریک کا اعلان

  • News cod : 55515
  • 17 می 2024 - 11:30
متحدہ طلبہ محاذ کا ملک بھر کی یونیورسٹیز میں فلسطین کے حق میں احتجاج تحریک کا اعلان
طلبہ قائدین نے کہا کہ امریکہ، یورپ اور دنیا بھر کے طلباء کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔ جو غزہ میں جنگ کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ ہم ان کے ہم آواز ہیں ہم USA میں طلباء کیخلاف کریک ڈاؤن کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

وفاق ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی تمام طلبہ تنظیموں کے قائدین نے امریکی طلبہ کی فلسطین کے حق میں عالمی تحریک کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے ملک بھر کی جامعات میں احتجاجی مظاہروں کافیصلہ کیا ہے۔ متحدہ طلبہ محاذ کے زیر اہتمام اور امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے زیر انتظام کانفرنس کا انعقاد لاہور میں مرکزی سیکرٹریٹ المصطفیٰ ہاوس میں ہوا۔ کانفرنس میں تمام طلبہ تنظیموں کے مرکزی قائدین نے شرکت کی۔ کانفرنس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طلبہ رہنماوں نے مطالبہ کیا کہ مسلمان ممالک کو فلسطین اور کشمیر پر ایک موقف اختیار کرنا چاہیے، مسئلہ فلسطین حل ہونے تک اسرائیل کیساتھ کسی قسم کے سفارتی تعلقات ختم کئے جائیں اور اسلامی ممالک کو اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا چاہئے۔

اس موقع پر امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر حسن عارف، جمیعت طلباء اسلام (ف) کے سینئر نائب صدر رانا عثمان سرور، جمعیت طلباء اسلام سمیع الحق نائب صدر غیاث، مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن (ن) جنرل سیکرٹری یاسر عباسی، مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن ق مرکزی صدر سہیل چیمہ، اسلامی جمعیت طلباء، انجمن طلباء اسلام کے محمد دانش، اہلحدیث سٹوڈنٹس فیڈریشن محمد وسیم، مسلم سٹوڈنٹس لیگ کے ترجمان محمد اعظم، مصطفی سٹوڈنٹس موومنٹ مرکزی صدر فرحان عزیز، یپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن اور مرکزی صدر محمد موسیٰ، جعفریہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن محمد ذیشان نے گفتگو کی۔

طلبہ قائدین کااس موقع پر کہنا تھا کہ غزہ کی حمایت میں طلبا کی یہ تحریک امریکی یونیورسٹیوں سے شروع ہوئی اور اس نے یورپ کی یونیورسٹیوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اس تحریک نے دنیا پر یہ بھی ثابت کردیا کہ انسانی حقوق کے علمبردار امریکی سامراج اپنے نعروں میں کھوکھلے نکلے۔ امریکی سامراج کا چہرہ دنیا پر آشکار ہو گیا۔ امریکا کی 505 سے زیادہ یونیورسٹیوں اور کالجوں میں 2000 سے زیادہ طلبا گرفتار کئے جا چکے ہیں، کولمبیا یونیورسٹی سے شروع ہونے والی طلبہ تحریک کے تحت احتجاجی مظاہروں میں شدت آ گئی ہے، جہاں طالبعلم اپنے اساتذہ کے ساتھ خیمے لگا کر بیٹھے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ اسرائیل سے فوجی تعلقات فوری طورپر ختم کیے جائیں اور غزہ کی صحت اور تعلیم کے مسائل میں فوری مدد کی جائے۔

متحدہ طلبہ محاذ کے اجلاس کے بعد طلبہ قائدین نے پریس کانفرنس میں مطالبہ کیا کہ بے گناہوں کے خون بہانے اور صہیونیوں کو تشدد سے روکنے کے لیے غزہ میں فوری جنگ بندی کی جائے ۔اسرائیل رفح کراسنگ پر حملہ اس لیے کر رہا ہے تاکہ فلسطینیوں کی آخری پناہ گاہ بھی ختم کرسکے کہ جس کا مقصد ایک اور نکبہ بنانا ہے۔ رفع میں ہونے والے اسرائیلی تشدد اور مظالم کو فوری طور پر بند کیا جائے۔طلبہ قائدین نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ اسرائیلی جارحیت کو روکا جائے، تاکہ غزہ کے خلاف اسرائیلی جنگ کے نتائج سے دوچار ہونے والے فلسطینی عوام تک انسانی امداد کی بلا روک ٹوک رسائی ممکن ہوسکے۔ نسل کشی اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیاں کرنے پراس بات کو یقینی بنایا جائے کہ مجرموں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔

طلبہ قائدین نے کہا کہ امریکہ، یورپ اور دنیا بھر کے طلباء کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔ جو غزہ میں جنگ کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ ہم ان کے ہم آواز ہیں ہم USA میں طلباء کیخلاف کریک ڈاؤن کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ پریس کانفرنس میں تمام قائدین نے امریکی یونیورسٹیز کی طلبہ کی امریکی سامراج کے خلاف تحریک کی مکمل حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تمام یونیورسٹیوں میں احتجاجی تحریک کے تحت احتجاجی مظاہرے اور سیمینارز کا انعقاد کیا جائے گا۔مظلومین کے حامیوں کی حمایت میں تحریک کو مکمل سپورٹ اور مظلوم فسلطینیوں کی داد رسی کیلئے ہر پلیٹ فارم سے صدائے احتجاج بلند کریں گے۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=55515

ٹیگز