2

ایم ڈبلیو ایم کراچی کے تحت سید ابراہیم رئیسی اور دیگر کی شہادتوں پر تعزیتی ریفرنس

  • News cod : 55764
  • 23 می 2024 - 14:17
ایم ڈبلیو ایم کراچی کے تحت سید ابراہیم رئیسی اور دیگر کی شہادتوں پر تعزیتی ریفرنس
تعزیتی ریفرنس سے علامہ سید رضی جعفر نقوی، علامہ شبیر حسن میثمی، علامہ باقر زیدی، معراج الہدیٰ صدیقی، علامہ شیخ محمد سلیم، علامہ اصغر حسین شہیدی، علامہ باقر حسین زیدی، علامہ محمد حسین رئیسی سمیت دیگر نے خطاب کیا۔

وفاق ٹائمز، مجلس وحدت مسلمین کراچی ڈویژن کے زیر اہتمام صدر جمہوری اسلامی ایران آیت اللہ ڈاکٹر سید ابراھیم رئیسی اور دیگر حکومتی ومذہبی شخصیات کی ہیلی کاپٹر حادثے میں شہادتوں کی یاد میں تعزیتی ریفرنس صوبائی سیکریٹریٹ وحدت ہاؤس سولجر بازار کراچی میں منعقدہوا۔ تعزیتی ریفرنس نے ایم ڈبلیو ایم صوبہ سندھ کے صدر علامہ سید باقر عباس زیدی، جعفریہ الائنس کے صدر علامہ سید رضی جعفر نقوی، شیعہ علماء کونسل کے مرکزی جنرل سیکریٹری علامہ شبیر حسن میثمی، جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما معراج الہدیٰ صدیقی، علامہ شیخ محمد سلیم، علامہ اصغر حسین شہیدی، علامہ باقر حسین زیدی، علامہ محمد حسین رئیسی، ایم ڈبلیو ایم کے ڈویژنل صدر علامہ صادق جعفری، ڈویژنل رہنما علامہ مبشرحسن، علامہ حیات عباس نجفی، علامہ نشان حیدر ساجدی و دیگر نے خطاب کیا۔

مقررین نے کہا کہ شہید ابراہیم رئیسی انقلاب اسلامی کا حاصل تھے، وہ حقیقی معنیٰ میں رہبر انقلاب کے مطیع محض تھے، ایک جفا کش سیاست دان جو عوام کی خدمت کیلئے دن کا چین دیکھتا تھا نہ رات کا آرام، دور دراز علاقوں میں جاکر غریبوں کی داد رسی کرنا ان کی دلجوئی کرنا شہید کا وطیرہ تھا، حکومت اسلامی کے قیام کے بعد سے لیکر تا دم مرگ شہید ابراہیم رئیسی نے مختلف شعبہ جات میں خدمات انجام دیں۔ مقررین نے کہا کہ شہید ڈاکٹر ابراہیم رئیسی نوجوانی میں ایران عراق جنگ میں محاذ کے فرنٹ لائن پر نظر آئے، چیف جسٹس آف ایران مقرر ہوئے تو انصاف کی اعلیٰ مثالیں قائم کیں، حرم مطہر امام رضاؑ کے متولیٰ بننے تو زائرین کے لئے جدید سہولیات کا انتظام کیا۔ انہوں نے مختصر سیاسی زندگی میں عالمی سطح پر اپنا لوہا منوالیا تھا۔

مقررین نے مزید کہا کہ شہید ڈاکٹر ابراہیم رئیسی کی سیاسی جدوجہد میں جو دو کام ہمیشہ سنہری حروف سے لکھے جائیں گے وہ ایک سعودی عرب کے ساتھ طویل عرصے سے معطل سیاسی و سفارتی تعلقات کی بحالی اور غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے مقابل حماس کی اخلاقی، سیاسی و عسکری مدد اور اسرائیلی پر براہ راست فضائی حملہ ہے۔ مقررین نے مزید کہا کہ اوائل انقلاب سے اب تک لاکھوں جوان، عام عوام، حکومتی شخصیات اور عسکری حکام دشمنوں کے حملوں میں شہید ہوچکے ہیں لیکن اس اسلامی انقلاب کی برکات کے سبب یہ نظام ہر سانحے کے بعد مزید قوی اور مستحکم ہوکر ابھرتا ہے، انشاءاللہ وہ وقت دور نہیں جب یہ نظام اسلامی پوری دنیا کو ظلم و جور سے نجات دلانے کا وسیلہ بننے گا اور امام مہدیؑ کی عالمی اسلامی حکومت کا زمینہ ساز قرار پائے گا۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=55764

ٹیگز