19

قرآنی بشارت کے مطابق بہت جلد لشکر خدا اسرائیل کا خاتمہ کرے گا، علامہ ڈاکٹر محمد یعقوب بشوی

  • News cod : 57995
  • 14 اکتبر 2024 - 9:26
قرآنی بشارت کے مطابق بہت جلد لشکر خدا اسرائیل کا خاتمہ کرے گا، علامہ ڈاکٹر محمد یعقوب بشوی
قرآنی بشارت کے مطابق بہت جلد لشکر خدا اسرائیل کا خاتمہ کرے گاعلامہ ڈاکٹر محمد یعقوب بشوی کا لاہور میں حمایت از مظلومین کانفرنس سے خطاب

وفاق ٹائمز ، مادر علمی جامعہ المنتظر لاہور میں حمایت از مظلومین کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ پروفیسر ڈاکٹر محمد یعقوب بشوی صاحب نے کہا دشمن شناسی بہت ضروری ہے اس کے بغیر ہم دشمن کا مقابلہ نہیں کرسکتے ہیں ہم نعرہ بازی سے دشمن کو شکست نہیں دے سکتے بلکہ دشمن کی سازشوں کو سمجھنے اور اسے ناکام بنانے کی ضرورت ہے آج کیا ہو رہا ہے اور کیوں ہورہا ہے؟ قرآن مجید نے آج کا نقشہ پیش کیا ہے اور راہ حل کی طرف بھی اشارہ کیا ہے سورہ مبارکہ اسرا کی 4آیتیں آیت 4سے7تک کا مطالعہ کریں مجھے اختصار کے ساتھ گفتگو کرنی ہے ان آیتوں میں یہود اور ان کی سازشوں کا تذکیره ہے کہ یہ دو مرتبہ زمین میں فساد پھیلائیں گے تباہی مچائیں گے لتفسدن فی الارض مرتین دوعالمی فساد اور ان کا راستہ ہر دو مرتبہ خدا کے عباد روکیں گے یہاں پر مفسرین کے تفسیری خطا کی طرف میں آپ حضرات کی توجہ دلائوں یاد رکھیں قرآن کریم کی تفسیر کے لیے سیاق آیات اور خود آیتوں میں غور کرنا بہت ضروری ہے اس کے بغیر کوئی تفسیر نہیں کرسکتا
ابن عباس کے بقول قرآن کریم کی بعض آیتوں کی تفسیر زمانہ کرےگا اللہ تعالٰی یہود کی سازشوں کو مرتین کہکر ياد کیا فاذا جاء وعد اولاھما بعثنا علیکم عبادا لنا اولی باس شدید فجاسوا خلال الدیار یعنی پہلے فساد کے مقابلے میں ہمارے کچھ بندے ان پر ہم مسلط کریں گے جو فلسطین کے اندر گھس کر اسرائیل کو ماریں گے یہ الہی سچا وعدہ ہے یہ ہو کر رہے گا
اس آیت میں اسرائیل کو شکست دینے والے لشکر کے بارے میں کہ یہ لوگ کون ہونگے کافی باتیں ہیں بعض مفسرین نے بخت نصر کو بعض نے بادشاہ روم اور بعض نے حتی ہٹلر کا نام لیا ہے کہ وہ ان آیتوں میں مقصود ہے پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ سب کافر ہیں آیت میں آیا ہے بعثنا اور عبادا لنا جو اس لشکر کے خدائی ہونے پر دلیل ہے اور ساتھ ساتھ اس لشکر کی صفات اولی باس شدید سے کیا یہ فولاد کے دیوار اور سخت جنگجو ہونگے جو اسرائیل کے بموں، ٹینکوں اور جہازوں کے مقابلے میں کھڑے ہونگے اور ان کو شکست دیں گے کتنے سالوں سے لشکر خدا ان کا مقابلہ کر رہا ہے اس آیت میں اولی ھما،یہ ثانی کے مقابلے میں نہیں ہے کیونکہ ثانی کے بعد ثالث پھر رابع هوگا اور یه سلسله جاری رہے گا آیت میں اولی یه آخر کے مقابلے میں ہے یعنی اول اور آخر فساد دو مرتبہ اسرائیل کرے گا اور دو ہی مرتبہ عبدالنا اسرائیل کو شکست دیں گے فاذا جاء وعد الاخرہ یہ وعدہ اول کے مقابلے میں آیا ہے اس لشکر کے ہاتھوں اسرائیل کی نابودی یقینی ہے
مجھے تعجب ہے آج یہاں پر بعض مقررین مایوسی پھیلا رہے تھے گرم بستر پر بیٹھ کر قوم کو مایوس مت کرو اسرائیل کا وجود بزدلوں سے نہیں بلکہ کچھ عبادا لنا کے ہاتھوں ختم ہوگا اور یہ میدان جنگ میں موجود ہیں
اسرائیل شہید راہ مقاومت سید حسن نصراللہ کی شہادت سے اور زیادہ کمزور ہوا ہے زندہ نصراللہ سے شہید نصراللہ کی قدرت زیادہ ہے تم نے ایک نصراللہ کو شہید کیا آج اس کے خون سے ہزاروں نصراللہ وجود میں آپکے ہیں وہ وقت قریب ہیں کہ مسلمان فلسطین کو آزاد کراکر قدس میں نماز جماعت ادا کریں گے انشاءاللہ
اس کانفرنس میں پاکستان بھر سے بڑی تعداد میں علماء کرام نے شرکت کی اس کانفرنس سے آیت اللہ سید حافظ ریاض حسین نجفی، قونصل جنرل ایران مہران موحد فر، اسلامی نظریاتی کونسل کے چئیرمین علامہ راغب نعیمی، علامہ افتخار حسین نقوی، علامہ عارف حسین واحدی، علامہ شبیر حسن میثمی، علامہ محمد افضل حیدری، علامہ مرید حسین نقوی، علامہ محمد حسین اکبر، لیاقت بلوچ، مولانا اظہر حسن خان، مولانا ناصر حسین نجفی، علامہ باقر گھلو، مولانا مشتاق حسین عمرانی، مفتی عاشق حسین، مولانا انیس الحسنین خان، مولانا حسین علی نجفی، علامہ کرم علی حیدری، علامہ محسن مہدوی، مولانا اظہر عباس شیرازی، مولانا لعل خان توحیدی، مفتی نزاکت حسین کاظمی، خواہر ساجدہ زینب، خانم افشین زینب اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔
دراین اثناجامعہ المنتظر لاہور میں فارغ‌التحصیلان کے جلسے سے بھی علامہ ڈاکٹر محمد یعقوب بشوی صاحب نے خطاب کیا اور کہا جامعہ المنتظر ایک ادارہ نہیں بلکہ یہ شجرہ طیبہ مبارکہ ہے جو نہ تنہا پاکستان بلکہ امریکہ، یورپ، آفریقہ، ایران عراق ہر جگہ اس کے تربیت یافتہ علماء نظر آتے ہیں علماء کو زمان شناسی کے ساتھ مسئولیت شناسی کی بھی ضرورت ہے ہمیں اپنی شناخت کی ضرورت ہے ہم بہت کچھ کرسکتے ہیں ہمیں اپنی طاقت کا اندازہ نہیں ہے اس لیے ہمارا وہ کردار نہیں ہے جو ہونا چاہیے
دوسری بڑی کمزوری عدم ارتباط ہے خود ارتباط ایک علمی تخصصی شعبہ ہے ہم نے اسے فقط ایک تلفونی رابطے تک محدود کرکے رکھا ہوا ہے ارتباط کے ذریعے ہم ایک عالمی کردار ادا کرسکیں گے
اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا اور معاشرے میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے ہمیں قلم اور بیان سے آشنائي ضروری ہے لیکن ہم نے اس میدان کو بھی خالی چھوڑا ہوا ہے ایک بات یاد رکھیں ہمیں کوئی نہیں ماننے گا ہم اپنی صلاحیتوں اور کردار کے ذریعے اپنے آپ کو منوائین گے
مادر علمی جامعہ المنتظر استاد الاساتذ حضرت آیت اللہ سید حافظ ریاض حسین نجفی حفظہ اللہ کی بابصیرت رہنمائی میں ملت کی علمی پیاس بجھانے میں مصروف ہے ہم شکریہ ادا کرتے ہیں۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=57995

ٹیگز