پاراچنار سے متعلق مسجد و امام بارگاہ بقیۃ اللہ، ڈیفنس کراچی میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے دوران حجۃ الاسلام و المسلمین علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے خطبہ دیتے ہوئے کہا، میری سمجھ میں نہیں آتا کہ کہاں جا کر شکوہ کریں، کس سے شکوہ کریں۔ کیوں ہم ساٹھ سے زیادہ دن ہوگئے ہیں، اگر میں غلطی نہیں کر رہا: Today it’s 64th day۔ ڈیزل نہیں ہے۔ پانی کی موٹریں چلنا بند ہوگئی ہیں۔ سبزیاں ختم ہو رہی ہے۔ میں DAWN اخبار کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آج انہوں نے بہت detailed آرٹیکل لکھا ہے جو میں سب کو وٹس ایپ بھی کروں گا۔ انہوں نے دو ہفتے پہلے اتوار کو بھی اچھا کیا تھا۔ ٹھیک ہے جو اچھا کام کرتے ہیں، تو پھر ہمیں ان کا شکریہ بھی ادا کرنا ہے۔ آپ جو حضرات لے سکتے ہیں وہ لے کر پڑھ لیں۔ اچھا لگے گا آپ کو کہ کیا حالات ہیں؟ پاراچنار کا راستہ کھلنا چاہیے۔ دوائیاں پہنچنی چاہئیں۔ کل تک کی آخری خبر یہ تھی کہ جرگہ ففٹی ففٹی پرسنٹ پر پہنچا ہے۔ کسی نے 90 پرسنٹ کہا ہے لیکن ہماری اطلاع ہے کہ ففٹی ففٹی پرسنٹ پر ابھی بھی کوئی دروازہ کھلنے کی کوئی امید نہیں ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہم بھی دعا کرنے میں کمزور رہے ہیں۔ اپنے دل سے پوچھئے گا کہ کیا ان پاراچنار کے مظلومین کے لئے بلکہ میں کہوں گا کہ کُرم کے مظلومین کے لئے۔ اس لئے کہ ہر کوئی تو دشمن خدا و رسول نہیں ہے۔ جو بھی اللہ کا دوست ہے، جو بھی اللہ کے رسول کا دوست ہے، ان کے لئے خدارا نماز کے بعد ایک دعا ضرور کیجئے۔ اللہ تعالیٰ ان کے مسائل کو حل کرنے میں ہماری مدد فرمائے۔ اور جو زخمی ہیں، ہم کوشش کر رہے ہیں مسلسل۔ پھر میں یہاں سے نکل گیا تھا، وہاں پر ذمہ داروں سے بات کی۔ زخمیوں کو پشاور لانے کی ہم کوشش کر رہے ہیں۔ دعا کیجئے ہماری کوشش کامیاب ہوجائے۔
انہوں نے کہا کہ شام کی بات پر آتے ہوئے سب سے پہلے تو حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کروں گا کہ جیسے ہی مسئلہ ہوا، ہم نے زائرین اور طالب علموں کو وہاں سے واپس لانے پر حکومت سے رابطہ کیا۔ میں اس بات پر حکومت کو کہوں گا کہ انہوں نے ہمیں فوراً رسپانس کیا، ہم نے میسج چلایا اور بالآخر ذمہ داروں نے ان زواروں اور طالب علموں کو لبنان پہنچایا۔ وہاں سے کل پہلی فلائٹ آگئی ہے۔ ہم ان سے درخواست کرتے ہیں کہ جو باقی زوار اور طالب علم ہیں ان کو بھی جلدی واپس لائیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو سلامتی کے ساتھ واپس لائے۔ شام کی صورتحال آپ نے دیکھ لی۔ یہ سب unexpected تھا ان کے لئے کہ جن کو پتہ نہیں تھا۔ جن کو پتہ تھا ان کے لئے پورا ایک پروگرام واقعہ ہوا ہے۔ اب اس میں پہلی چیز یہ ہے کہ اب کیا ہونا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات بہتر جانتی ہے۔ ہم تو جو ہوا ہوتا ہے اس میں سے کہتے ہیں۔ یا شام لیبیا بن جائے گا۔ یا شام عراق بن جائے گا یا شام پچھلا والا افغانستان بن جائے گا۔ اب ان تینوں صورتوں میں وہاں کے لوگوں کے لئے کوئی چیز بھی امید افزا نہیں ہے۔ بشارالاسد کے بارے میں ہم نے مسلسل کہا ہے کہ ہماری اس سے کوئی محبت یا دوستی کے رشتے نہیں ہیں۔ اور ایک تجزیہ نگار نے کہا کہ علوی جو ہیں وہ شیعہ ہیں۔ علویوں کا شیعہ ہونا کہیں سے بھی ہے۔ اس لئے کہ شیعہ وہ ہے جو مولائے کائنات کو اپنا مولیٰ اور اللہ کا بندہ جانے۔ واضح ہے نا میری بات۔ اور جس طرح سے وہ نکلا، اب یہ بات پتہ نہیں نیوز میں آئی کہ نہیں، چوبیس گھنٹے پہلے اس کے پاس رہبر معظم کے نمائندے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی بھی تم مان جاؤ اور دیکھ لو۔ کیوں؟ اس لئے کہ اس کا والد جو ہے چاہے وہ دو نمبری ہی ہو، والد والد ہوتا ہے اور گھر پر دوسروں کے حملے کو بچا کے رکھتا ہے۔ میری بشار الاسد سے کوئی محبت نہیں ہے۔ ظالم ظالم ہے۔ ان کو جواب ملا کہ اگر آپ لڑ کر بچا سکتے ہیں تو آپ بچا لیں، ہماری فوج لڑنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ سوال: بشارالاسد کی فوج لڑنے کے لئےکیوں تیار نہیں تھی؟ میں نے بڑی محنت کی ہے۔ میرے تجزیہ ہیں اور کچھ ہمارے پاس اس کے evidences ہیں۔ پچھلی بار ISIS کے حملے ہوئے تو اس وقت بشار الاسد کی فوج اور باقی جو اس کی مدد کے لئے آئے ہوئے تھے، وہ ساتھ تھے۔ اور اس سے کئی گنا طاقتور کو پیچھے دھکیل دیا گیا، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے۔ اور اس کے نتیجہ میں وہ جو بنانے والے ہیں، امریکہ، یو کے، اسرائیل، ہندوستان بدبخت، انہوں نے دیکھا کہ اس طرح تو ہم آگے نہیں بڑھ سکتے ہیں۔ شام سے ان کو کیا پرابلم ہے؟ شام جو ہے وہ Axis of Resistance ہے۔ اس کا سنٹر پوائنٹ بھی تھا۔ نتیجہ کیا ہوا؟ نتیجہ یہ ہوا کہ پیسوں کا سونامی آیا ان لوگوں کے لئے جو فوج کو لیڈ کر رہے تھے۔ بہت ہی ذمہ داری سے بات کر رہا ہوں۔ اور اتنا پیسہ آیا کہ اس کے بعد دنیا میں جب فوج عیاشی میں لگ جاتی ہے تو پھر وہ کسی کام کی نہیں رہتی ہے۔ بشارالاسد نے اپنے جرنل کرنل جو بھی تھے ، ان کو بلایا اور بلا کر کہا کہ یہ حملے ہونا شروع ہو رہے ہیں۔ رپورٹ تو ایجنسیز دے دیتی ہیں۔ کیا کرنا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہمارے فوجی لڑنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ مسئلہ فوجیوں کا نہیں تھا۔ مسئلہ ان ستارے والوں کا تھا۔ اور جب رہبر معظم کا نمائندہ آخری بار گیا اور اس نے کہا کہ ہماری فوج لڑنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ بات ختم۔ نکل گیا۔ اب اس میں ترکی کا کیا ر ول ہے؟ مجھ سے زیادہ آپ سوشل میڈیا پر دیکھ لیجئے۔ اب یہاں سے کہانی کیا آگے بڑھتی ہے؟ سمجھا یہ گیا ہے کہ وہاں سے لبنان کے ساتھ سیزفائر کرتے ہی حزب اللہ کے ساتھ سیزفائر کرتے ہی، کہ دو مہینے تک حزب اللہ کوئی بھی فوجی اقدام نہیں کرے گی، یہ حملہ شروع ہوا۔ خوش ہونے والے بڑے خوش ہوئے۔ بارات آئی۔ وہ ہوا جو آپ نے دیکھا۔ بہت سے الفاظ میں ادا نہیں کرنا چاہتا۔ لیکن اہل سنت کے علماء کا جو نظریہ ہے وہ میں آپ کے سامنے بیان کرتا ہوں۔ انہیں بھی یہ اندازہ ہے۔ پہلے ہی دن انہوں نے یہ بات کہی کہ یہ بہت بڑا کھیل ہوگیا ہے۔ اور پہلے دن کے بعد سے پرسوں رات تک شام کے فوجی اڈے، ships، ہوائی جہاز، سب تباہ و برباد کردئیے گئے۔
ان کا کہنا تھا ہمارا ایک سوال بنتا ہے۔پھر بات آگے بڑھاتا ہوں۔ اب اعلان ہوا ہے دربارِ یزید (لعنت اللہ علیہ) والی مسجد میں کہ اب ہم غزہ کو آزاد کرنے جا رہے ہیں اور اسرائیل کے خلاف لڑنے جا رہے ہیں۔ ماشاءاللہ۔ اھلاً و سھلاً۔ 7؍اکتوبر 2023ء سے اب تک آپ کہاں تھے؟ کیوں آپ نے ایک لمحہ بھی یہ اعلان نہیں کیا؟ اور جب شام کی ساری چیزیں تباہ و برباد ہوگئیں، شام پر وہ حملے ہوئے۔ اچھا یہ میں صرف اسرائیلی حملوں کی بات کر رہا ہوں۔ جو امریکہ نے حملے کئے وہ الگ ہیں۔
ان کا کہنا تھا عزیزانِ گرامی! انقلاب اسلامی کے بعد اگر اس ایریا میں کوئی بہت بڑا واقعہ ہوا ہے تو یہ واقعہ ہوا ہے۔ اس واقعہ کے بعد ہمارے جوان پریشان ہوگئے۔ علامہ صاحب! یہ کیا ہوگیا؟ میں نے کہا، دیکھیں ذمہ داروں کام جو ظواہر ہیں، جو پتہ چل رہا ہے اس کے مطابق فیصلہ کرنا ہے۔ نتیجہ صرف اللہ سبحانہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ مثال میری بہت اچھی نہیں ہے۔ لیکن حضور ا کرم کے بعد کائنات کی عظیم ترین ہستی مولائے کائنات خیبر و خندق میں وہ کام کئے جو کسی کے تصور میں بھی نہیں آسکتے تھے۔ 28؍ صفر کے بعد کیا ہوا؟ اور وہاں تک پہنچے کہ مولائے کائنات کی مظلومیت کو آج سن بھی رہے ہیں اور سب مان بھی رہے ہیں۔ تاریخ وہیں سے پلٹی ہے۔ میں آپ کو بتاتا ہوں۔ چیزیں تو ہوتی رہیں گی۔ کیا کربلا کا واقعہ نہیں ہوا تھا؟ اس کے بعد اسیروں کے ساتھ کیا ہوا؟ وہ واقعہ تو ہوگیا۔ لیکن وہ دن اور آج کا دن ہے ”حسین زندہ باد ہے، یزید مردہ باد ہے“۔ تو واقعہ کے ہوتے وقت پریشان نہیں ہونا ہے۔ واقعہ تو ہوا ہے۔ او جناب! Axis of Resistance کا کیا ہوگا؟ یہ جو Axis of Resistance بنا رہے تھے، ان کو نہیں سمجھ آتی کہ یہ ہمارا روڈ بند ہوگیا تو ہم کیا کریں گے؟ و من یتکل اللہ یجعل لہ مخرجا، و یرزقہ من حیث لا یحتسب، و من یتوکل علی اللہ فھو حسبہ۔ جو اللہ پر توکل کرتا ہے وہ کافی ہے۔ شہادت، زندگی، موت، یہ کچھ نہیں ہوتی۔ ہمیں اپنے فیصلوں کو سوچ سمجھ کر کرناہوتا ہے۔ اس کے بعد نتیجہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے ہاتھ میں دیا جاتا ہے۔
آج میں اس پلیٹ فارم سے واضح بتاتا ہوں۔ نہ تشیع، نہ اہل سنت۔ ذمہ داری سے بات کر رہا ہوں، کوئی بھی اس معاملہ سے خوش نہیں ہے۔ کیوں؟ اس لئے کہ شام ایک ہی لمحے میں تتر بتر ہوگیا ہے۔ ایک گروہ ہوتا ہے، اس کی باتیں اتنی پھیلتی ہیں، ہمارے لوگ تھوڑے کمزور ہوتے ہیں۔ مثبت چیزیں نہیں پھیلاتے۔ خاص کر ہم سے نزدیک والے۔ یاد رکھئے گا، اگر اللہ سبحانہ تعالیٰ کو منظور ہوگا یہی سارے واقعات کے باوجود بھی انشاءاللہ، انشاءاللہ مسلمانوں کو وہی کامیابی ملے گی جو ان کا حق ہے۔ لیکن مسلمانوں سے درخواست ہے، پاکستان کے اور پاکستان سے باہر کے۔ دیکھ لیا کہ آج اتحاد اور وحدت کتنی کام آرہی ہے۔ بعض جگہوں پر اتحاد و وحدت نہیں، ان کو سمجھا رہا ہوں کہ جو اتحاد و وحدت ہماری جہاں جہاں ہے، میں آپ کو ایک لسٹ دے دوں گا، وہ اتحاد و وحدت ہمیں آج بھی سنبھالے ہوئے ہے۔ جو اس اتحاد و وحدت میں نہیں ہے ان سے ہاتھ جوڑ کر درخواست کرتا ہوں، آجاؤ۔ کلمہ ایک ہے۔ رسول ایک ہے۔ خاتم الانبیاء و المرسلین وہی ہیں۔ قرآن ایک ہے۔ قبلہ ایک ہے۔ کیا کیا ایک نہیں ہے۔ اور میں واقعاً ملی یکجہتی کونسل کے صدر اور جنرل سیکرٹری کو شاباش دیتا ہوں۔ ان حالات میں اسی وقت چاہے وہ پاراچنار کا مسئلہ تھا، چاہے شام کا مسئلہ تھا، فوراً میٹنگ بلا کر بیانیہ جاری کیا اور وہ بیانیہ امت مسلمہ کے لئے بہت ہی بہترین چیز ہے۔
عزیزو! یہ بات ذہن نشین کرلیجئے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی مصلحت تھی تو شہادت ائمہ معصومین علیہم السلام واقع ہوئی ہیں۔ مسائل ہوسکتے ہیں۔ صرف ہمیں اللہ پر بھروسہ کرنا ہے اور صحیح فیصلے کرنے ہیں۔ ایک جملہ نصیحت کا۔ حکومت پاکستان، ذمہ داران، ایٹم بم والا ملک کہاں ہے؟ کیا جواب دوں گا میں اللہ سبحانہ تعالیٰ کو۔ کہ میرا پیارا ملک پاکستان کل جب اسلامک کیپیٹل مارکیٹ کی کانفرنس تھے، ہم بھی حاضر تھے۔ جب قومی ترانا چلا ہےتو آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ پالنے والے! میرے ملک کو ایسا پھر سے بنا دے۔ بہت پیارا ملک ہے۔ خدا شاہد ہے۔ جائیے۔ جو جاتے ہیں وہ بھی جانتے ہیں، جو نہیں گئے وہ جائیں، دیکھیں کہ جتنی اللہ تعالیٰ کی نعمت اس ملک پر ہے، چاہے وہ فورسز کے لحاظ سے ہو، چاہے قدرتی وسائل اور معدنیات کے لحاظ سے ہو، چاہے افرادی قوت کے لحاظ سے ہو۔ جو لوگ ملک سے باہر گئے ہیں وہ کچھ تھے تو گئے ہیں نا۔ اور اسی طرح کے بارہ لاکھ پاکستان میں ہوں گے، بلکہ انشاءاللہ بارہ کروڑ پاکستان میں ہوں گے۔ آج بھی بیٹھ کر فیصلہ کرو کہ پہلے اپنے ملک کو سنوارنا ہے۔ جو گندگی اور ٹوٹے روڈ اور ہاسپٹل کے حالات پتہ نہیں کیا کیا۔ میرے پاس اب ٹائم بھی ختم ہوگیا۔ I am sorry۔ ان سب کی طرف توجہ کریں اور پھر امت مسلمہ کے لئے۔ اسماعیل ہانیہ شہید کہتے ہوئے چلے گئے۔ اللہ رحمت کرے ان تمام شہداء پر کہ ایک صرف تم جملہ کہہ دو، ہمارے فلسطین کے مسائل حل ہوجائیں گے۔ امید ہے انشاءاللہ تعالیٰ ہم ان مظلومین کے لئے دعا بھی کریں گے اور کوئی عملی اقدام بھی کریں گے۔ فعلاً شام پر اتنی گفتگو کافی ہے۔ لیکن آپ سے ایک وعدہ۔ ہر نماز کے بعد، چاہے وہ پاراچنار ہو، چاہے وہ کشمیر ہو، چاہے وہ شام ہو، ان کے لئے اللہ کو اللہ کے رسول اور اہل بیت کا واسطہ دے کر دعا کریں گے۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ ہماری دعائیں اثر رکھتی ہیں اور انشاءاللہ مسلمانوں کو فتح و نصرت حاصل ہوگی۔
ایک جملہ اور۔ یہ جو لوگوں نے شروع کیا ہوا ہے کہ بس امامؑ کا ظہور ہونے والا ہے، بس امام کا ظہور ہونے والا ہے۔ خدا کے واسطے! تم نے 1990ء میں بھی کہا تھا کہ بکریاں پال لو۔ چھت پر سبزیاں اُگا لو۔ ارے ہندوؤں کی prediction کو لا کر ہمیںبیان کرتے ہو۔ وہ بلغاریہ کی بابا وانگا کی predictions سنا کر تم ہمیں کہتے ہو کہ اب یوں ہونے والا ہے۔ خدارا! اللہ اور رسول پر ایمان رکھو اور لوگوں کے ذہن میں ابھی شروع ہوا ہے۔ یوٹیوب پر جا کر دیکھئے۔ بس امامؑ کا ظہور نزدیک ہے۔ پہلے شیعہ علماء کرتے تھے اب اہل سنت بھی کرنے لگے ہیں۔ ہمیں نہیں معلوم ہے، کل ہوگا، آئندہ جمعہ کو ہوگا یا آئندہ دس سال، یا دس کروڑ۔ ہمیں نہیں معلوم۔ ہمارا کام ہے انتظار کرنا اور تیاری صحیح طرح سے انجام دینا۔ لیکن جب یہ 1990ء میں جب میں ایک اسٹوڈنٹ گروپ سے ملا تو ا نہوں نے کہا کہ مولانا! امامؑ تو بس تشریف لا رہے ہیں۔ ہم تیاری کر رہے ہیں۔ ہم سوچ رہے ہیں ہم گرین آئی لینڈ پر چلے جائیں۔ میں ذمہ داری سے بات کر رہا ہوں۔ تاکہ امام آئیں تو ہم ان کے ساتھ چلے جائیں۔ او میرے بھائی! گرین آئی لینڈ کی کہانی ہے؟ گرین آئی لینڈ یہ والا ہے؟ برمودا والا ہے؟ خدارا! امام علیہ السلام کے ظہور میں کوئی شک نہیں ہے لیکن ٹائم کسی کو نہیں بتایا گیا۔ اور جو علامتیں ہیں ان میں سے کچھ قطعی علامتیں ہیں۔ اور کچھ جو ہیں وہ غیر قطعی علامتیں ہیں۔ نشانیاں دی گئی ہیں۔ خدارا! ہر واقعہ کے بعد۔ شاہ عبداللہ مرگیا، بس عبداللہ کنگ مرے گا تو۔۔۔ پھر شاہ فہد مر گیا۔ تو پھر کہا ۔۔۔ مت کیجئے۔ اس سے لوگوں کے عقیدے کمزور ہوتے ہیں۔












