21

امام مہدی کو محب کے بجائے سفير کی ضرورت ہے ڈاکٹر یعقوب بشوی

  • News cod : 60320
  • 20 فوریه 2025 - 15:31
امام مہدی کو محب کے بجائے سفير کی ضرورت ہے ڈاکٹر یعقوب بشوی
ہمیں ریاکاری اور شہرت نہیں چائیے اسلامی مفاهیم کو ناقص سمجھنے کی وجہ سے آج ہم نقصان اٹھا رہے ہیں اور اپنی رسالت ادا نہیں کر رہے ہیں

وفاق ٹائمز، ائمہ مساجد و علماء امامیہ پاکستان کے زیر اہتمام یوم مستضعفان جہاں منايا گیا۔یہ عظیم الشان پروگرام مسجد سید الشهداء آئی آر سی فیڈرل بی ایریا کراچی میں منعقد ہوا جس میں بہت بڑی تعداد میں علماء کرام نے شرکت کی۔

اس کانفرنس کے مہمان خصوصی خطیب المصطفی انٹرنیشنل یونیورسٹی قم ایران کے استاد اور معروف خطیب حجةالاسلام ڈاکٹر محمد یعقوب بشوی صاحب تھے جنہوں نے اس عظیم الشان پروگرام کے شرکاء سے تفصیلی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امام مہدی علیہ السلام کو آج سفير کی ضرورت ہے نہ محب کی۔محب بہت ہیں لیکن سفير کی کمی ہے۔محب خود محبت کرے گا امام سے لیکن سفير دنیا میں سفارتکاری کرےگا اور ظہور کے نصاب سے دنیا کو آگاہ کرےگا اور ظہور کے لیے مقدمہ سازی کرے گا آپ محب مہدی نہیں بلکہ سفير مہدی ہو لہذا اپنی رسالت کو سمجھیں آپ کی تبلیغ خدا محور ہو دعوت الی اللہ ہو تو لوگوں کے دلوں میں اترجاوگے تبلیغ کوشش یہ کریں کہ لوگوں کو دین آشنا کریں لوگوں کے دلوں میں دین کو اتارنے کی کوشش کریں آپ بھی دلوں سے نہیں دلوں میں اتر جائیں گے۔

اللہ تعالٰی نے اپنے دین کو پہنچاتے کے لیے تین طرح کے رسول بیجا ہے پہلا رسول ملائکہ سے چناہے دوسری قسم انسانوں سے313چنا ہے اور تیسرا رسول قرآن نے اعلان کیا الذین یبلغون رسالات اللہ و یخشونہ و لا یخشون احدا الا اللہ و کفی باللہ حسیبا،تیسرا رسول، مبلغان دین ہیں کہ جن کو رسول تبلیغ کہا ہے بس علماء کرام کی ذمہ داری، تبلیغ ہے اس آیت میں یبلغون کہا تبلیغ سوشل میڈیا پر ایک رسالت ہے بعض کا خیال ہے ہمیں ریاکاری اور شہرت نہیں چائیے اسلامی مفاهیم کو ناقص سمجھنے کی وجہ سے آج ہم نقصان اٹھا رہے ہیں اور اپنی رسالت ادا نہیں کر رہے ہیں دکھانا اور شہرت تو تبلیغ کا مقصد ہے تاکہ لوگوں کو ہدایت ہو ورنہ کیسے تبلیغ کریں گے تبلیغ دین الہی کی کریں اس کے لیے اپنے وقت کی تنظیم ضروری ہے آیت میں علماء کی صفات میں یبلغون کہا سوشل میڈیا پر تبلیغ یہ ریاکاری نہیں یہ شہرت طلبی نہیں یہ ایک ذمہ داری اور رسالت ہے۔اربوں انسانوں کو دوسرے گمراہ کررہے ہیں ہم صرف تماشا دیکھ رہے ہیں۔بس اہتمام کرنا پڑے گا۔

رسول تبلیغ کی دوسری خصوصیات اس کی تبلیغ خدا محور ہو کسی شخص یا پارٹی کی تبلیغ نہ ہو رسالات ہو،یہ آیت منشور روحانیت ہے۔ہماری ذمہ داریاں ہمیں بتا رہی ہے آیت میں یخشونہ آیا۔خوف کے بجائے خشیت کا استعمال کیا خوف عام ہے جو کبھی مذموم ہے کبھی ممدوح، خوف کبھی کسی کے ظلم سے بھی پیدا ہوتا ہے اما خشیت کسی کی عظمت کو دیکھ کر وجود میں پیدا ہوتی ہے انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء، آج تبدیلی لانے کی ضرورت ہے تبدیلی فقط نعرے سے نہیں آئے گی تبدیلی عمل سے آئے گی۔تبدیلی آپ لائیں گے ہر محلے کو آپ مدرسے میں تبدیل کریں تب جاکر تبدیلی آئے گی۔مہدویت کے نظام کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے قرآن اس نظام کے غلبے کی بات کرتا ہے ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق ليظهرہ علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکون،بشر کو بدلنے کا قانون قرآن ہے اسے سمجھنا ہوگا اب تو رمضان آرہا ہے آپ اس رمضان کو زندگی کا منفرد رمضان بناو تلاوت قرآن کے ساتھ ساتھ فہم قرآن کا اہتمام کرو،قرآن کی مظلومیت یہ ہے کہ اس کتاب زتدگی کو میتوں اور استخارہ کے لیے مخصوص کیا ہوا ہے قرآن مردوں کو زندہ کرنے کے لئے اترا ہے کتاب انزلناہ الیک مبارک لیدبروا آیاتہ،تدبر اور فہم قرآن یہ ہمارا حق ہے آج ڈرایا جاتا ہے تفسیر برائہ نہ ہوجائے تدبر تفسیر نہیں بلکہ آیتوں سے نظام زندگی کے اصول و ضوابط اور فارمولے نکالنا ہے۔آج 20سال حوزات علمیہ میں رہ کر بھی قرآن آشنا نہیں ہمیں مرجع نہیں بلکہ استنباط کرنے والے مجتہد بننے کی ضرورت ہے۔جو کوئی مشکل کام نہیں ۔20سال میں اجتہاد تک نہ جاسکے تو یہ منہ پر طمانچہ ہے۔

نظام مہدویت کا سفير اسے8ارب مخاطبین تک پہنچانا ہے اس کے لیے یبلغون کا حق ادا کرنا ہوگا آج تین چیزوں کی ضرورت ہے تبلیغ میں فکر،آپ کی فکر صحیح ہو اور دوسروں کی صحیح فکری تربیت کریں ورنہ منحرف فکر میں تبدیلی اور رسالت نہیں،رسول تبلیغ قلم کے ذریعے نظام مہدویت کو عالمی سطح پر متعارف کرواسکتا ہے۔قلم مقدس ہے پہلی وحی میں آیا ہے ایک سورہ قلم کی حرمت اور تحریر کے تقدس پر ہے لہذا ہاتھ میں قلم اٹھانا پڑے گا ۔رسالت کی ذمہ داری ادا کرنے کے لئے تیسرا اہم کام بیان ہے آج ممبروں سے لوگوں کو مشرک بنا رہے ہیں جن کے ہاتھ میں ممبر ہے وہ مہارت رکھتے ہیں لیکن علمی کمزوری ہے اور جن کے پاس علم ہے لیکن وہ ممبر کے لیے مہارت نہیں رکھتے اس مسئلے کا حل یہ ہے ک…

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=60320

ٹیگز