امام حسین علیہ السلام کا عالمی پیغام اور اس کی تبلیغ کی ذمہ داری
امام حسین بن علی علیہ السلام ہدایت کے چراغ ہیں جن کی روشنی میں کمال کے طالبین اللہ تعالیٰ کے قرب کی اعلیٰ ترین منازل تک پہنچتے ہیں۔ آپ علیہ السلام نجات کی کشتی ہیں جو گناہوں، معاصی، خطاؤں، جہالت اور گمراہی کے سمندر میں ڈوبنے والوں کو نکال کر امن و ایمان کے ساحل پر پہنچاتی ہے، تاکہ وہ امید و سعادت سے بھری نئی زندگی کا آغاز کر سکیں۔ جیسا کہ امام صادق علیہ السلام سے مروی زیارت اربعین میں ہے:
“اور انہوں نے آپ کی راہ میں اپنی جان قربان کر دی تاکہ آپ کے بندوں کو جہالت اور گمراہی کے حیرانی سے نجات دلائیں۔”
امام حسین علیہ السلام نے یزید کی حکومت کے خلاف نہ اقتدار کی خاطر، نہ ذاتی دشمنی کی وجہ سے، اور نہ ہی شہرت حاصل کرنے کے لیے قیام کیا، بلکہ آپ کا مقصد صرف حق و انصاف کا قیام، مظلوموں کی حمایت اور قرآن و سنت نبوی کا احیاء تھا۔ یزید نے امت کے دستور (قرآن و سنت) کو معطل کر دیا، قومی دولت کو اپنی خواہشات پر لٹایا، مقدسات سے کھیلا، صالح علماء کو دور کیا اور نااہلوں کو مسلط کیا۔
امام حسین علیہ السلام نے اپنے مقاصد بیان کرتے ہوئے فرمایا:
“میں نہ سرکشی کے لیے نکلا ہوں، نہ فساد کے لیے، میں صرف اپنے نانا رسول اللہ(ص) کی امت کی اصلاح چاہتا ہوں۔ میں معروف کا حکم دینا اور منکر سے روکنا چاہتا ہوں۔”
آپ نے مزید فرمایا:
“کیا تم نہیں دیکھتے کہ حق پر عمل نہیں ہو رہا اور باطل سے نہیں روکا جا رہا؟ میں موت کو سعادت اور ظالموں کے ساتھ زندگی کو عذاب سمجھتا ہوں۔”
جب امت خوف و طمع کی وجہ سے اس ظالم حکومت کے سامنے جھک گئی، تو امام حسین علیہ السلام نے اپنا پاک لہو، اہل بیت اور مخلص اصحاب کی قربانی پیش کر کے امت کے ضمیر کو جگایا۔ آپ نے ہدایت و گمراہی کے درمیان واضح فرق کر دیا۔ آپ کی شہادت امت پر ایک زبردست حجت ہے، کیونکہ آپ رسول اللہ (ص)کے نواسے، ان کی خوشبو اور جنت کےجوانوں کے سردار ہیں۔
امام حسین علیہ السلام کا یہ تاریخی ندا “کیا کوئی ہے جو میری مدد کرے؟” صرف کربلا میں موجود لوگوں کے لیے نہیں تھا، بلکہ قیامت تک آنے والی تمام نسلوں کے لیے تھا۔ ہر زمانے کے لوگ آپ کے مقدس مقاصد کی حمایت کر کے یہ کہہ سکتے ہیں: “کاش! ہم آپ کے ساتھ ہوتے۔”
خطباء، شعراء اور ذاکرین پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ امام حسین علیہ السلام کے بلند مقام، آپ کی عظیم تحریک اور اس کے الہی مقاصد کو مؤثر طریقے سے پیش کریں۔ انہیں چاہیے کہ: اللہ کے لیے خلوص، حقیقی آزادی، سماجی انصاف اور اخلاقی اقدار کو نمایاں کریں
اورضروری ہے کہ یہ محبّانِ حسینی ذمہ داری کے درجے پر ہوں اور لوگوں کے لیے امام حسین علیہ السلام کی تحریک کے اعلیٰ اصول و اقدار کو واضح کریں، جن میں سرِفہرست اللہ تبارک و تعالیٰ کے لیے خلوص، شہوات کی غلامی اور طاغوتوں و مستکبروں کی عبادت سے نجات، حقیقی آزادی کا حصول، سماجی عدل کا قیام، تمام انسانوں کے درمیان مساوات، اخلاقی فضیلت سے آراستگی، اور گفتار و کردار میں احسان شامل ہیں:
{بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے} (النحل: 90)
اسی طرح سامعین کی ثقافتی و فکری سطح کے مطابق گفتگو کریں مختلف زبانوں میں پیغام حق پہنچائیں
یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ منبر حسینی کو ذاتی مفادات، تعصبات یا گروہ بندیوں کے لیے استعمال کرنا اللہ، رسول (ص)، امیر المومنین اور امام حسین علیہ السلام کے ساتھ خیانت ہے۔ ہمارا فریضہ عوام کو حق کی راہ دکھانا ہے نہ کہ گمراہ کرنا۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ تمام خدام اہل بیت اور مقررین کو توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں امام حسین علیہ السلام، ان کے جد امجد، والدین اوران کے بھائی کی شفاعت میں شامل فرمائے۔












