موجودہ حالات کے تناظر میں ایران اور پاکستان کے مابین اسٹریٹجک تعلقات کے فروغ کی ضرورت و اہمیت کے موضوع پر ایک علمی و فکری نشست 27 دسمبر 2025 کو حوزۂ علمیہ الامام المنتظرؑ (قم) میں منعقد ہوئی۔
نشست کا آغاز حسبِ روایت نہایت روح پرور انداز میں تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ اس علمی نشست میں ممتاز علمی و فکری شخصیات نے خطاب کیا جن میں حجت الاسلام و المسلمین ڈاکٹر رئیس اعظم شاہد، علامہ سید حسنین عباس گردیزی، حجت الاسلام و المسلمین سید علی شمسی پور اور حجت الاسلام و المسلمین سید محمد حسن نقوی شامل تھے۔
مقررین نے اپنے خطابات میں ایران اور پاکستان کے باہمی تعلقات کی تاریخی، فکری، مذہبی اور اسٹریٹجک جہات پر تفصیلی اور بصیرت افروز گفتگو کی۔
حجت الاسلام و المسلمین ڈاکٹر رئیس اعظم شاہد (استاد جامعہ المصطفیٰ العالمیہ) نے خطے کی موجودہ سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان مضبوط اور مربوط تعلقات نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے ناگزیر ہیں۔ انہوں نے مشترکہ چیلنجز اور مفادات کی بنیاد پر اسٹریٹجک تعاون کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔
علامہ سید حسنین عباس گردیزی (صدر مجلس علماء مکتب اہل بیتؑ اسلام آباد) نے ایران و پاکستان کے تعلقات کو فکری، ثقافتی اور مذہبی رشتوں کے تناظر میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کو اپنے مشترکہ نظریاتی ورثے اور دینی اقدار کی بنیاد پر باہمی روابط کو مزید مستحکم کرنا چاہیے۔
حجت الاسلام و المسلمین سید علی شمسی پور (نمائندہ جامعہ المصطفیٰ العالمیہ پاکستان) نے عالمی طاقتوں کی پالیسیوں اور خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران اور پاکستان کا قریبی تعاون امتِ مسلمہ کے اجتماعی مفادات کے تحفظ میں مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔
حجت الاسلام و المسلمین سید محمد حسن نقوی نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات کا فروغ صرف سیاسی و دفاعی شعبوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ تعلیمی، معاشی اور عوامی سطح پر روابط کو بھی فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے نوجوان نسل کے درمیان فکری ہم آہنگی اور باہمی تبادلوں پر خصوصی زور دیا۔
نشست کے اختتام پر اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان مضبوط، بامقصد اور دیرپا اسٹریٹجک تعلقات موجودہ دور کے چیلنجز کا مؤثر جواب ثابت ہو سکتے ہیں۔
یہ نشست فکری تبادلۂ خیال اور باہمی ہم آہنگی کے فروغ کی ایک کامیاب اور بامقصد کوشش قرار دی گئی۔












