پاکستان اور ایران کے درمیان زمینی راستے تجارت کا آغاز
























امام جمعہ سکردو علامہ شیخ محمد حسن جعفری نے رہبرِ انقلابِ اسلامی کے چہلم اور دشمنوں کی طرف سے اسلامی جمہوریہ ایران کی جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنے پر ایک بیان میں کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی یہ کامیابی صرف ایک ملک کی نہیں، بلکہ امتِ مسلمہ کے عزم، صبر اور ایمان کی فتح ہے۔
خاتم الانبیاء کی وفات کے بعد مسلمانوں کے ایک طبقے نے نظام غدیر اور امامت کو تسلیم نہیں کیا، ولایت پذیر ملک ایران یہودی اور عیسائیوں کے خلاف قوت کے ساتھ کھڑا ہے۔
حوزہ/ رہبر معظم انقلاب اسلامی ایران (قدس اللہ نفسہ الزکیہ) کی شہادت کے چہلم اور تیسری مسلط کردہ جنگ سے متعلق اہم امور کے حوالے سے رہبر انقلاب آیت اللہ سید مجتبی حسینی خامنہای کا پیغام
قوم نے تقریباً چالیس روزہ مقدس مزاحمت اور استقامت کے دوران تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے، اور اب کامیابی کے ثمرات حاصل کرنے کا وقت قریب آ پہنچا ہے۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج ایران سر خرو اور سامراج و صہیون پسپا ہوگیا، تاہم خبردار رہنا ہوگا، زندہ اقوام اپنے وقار، خود داری اور حقوق پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتیں۔
آیت اللہ العظمیٰ حسین نوری ہمدانی نے ایران کے عوام، مسلح افواج اور حکومتی ذمہ داران کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ امریکہ اور صہیونی حکومت کی فتنہ انگیزی کے خاتمے تک قومی وحدت، عوامی حمایت اور استقامت کو برقرار رکھا جائے۔
جامعۃ المنتظر لاہور میں آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی اور امام جمعہ اسکردو علامہ شیخ محمد حسن جعفری کے درمیان ملاقات میں ایران پر امریکی حملوں کی سخت مذمت کی گئی اور امت مسلمہ کے اتحاد و ہم آہنگی پر زور دیا گیا۔
رہبر انقلاب نے سپاہ کے انٹیلی جنس کمانڈر سید مجید خادمی کی شہادت پر پیغام جاری کرتے ہوئے دشمن کی کارروائیوں کو ناکام قرار دیا ہے۔
حجت الاسلام والمسلمین سید صدر الدین قبانچی نے غاصب صیہونی اور امریکی استکبار کے مقابلے میں عراقی مزاحمت کا شکریہ اور ان کی قدردانی کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اسرائیل لازماً تباہ ہو جائے گا، امریکہ سقوط اور شکست کھا جائے گا۔
خانہ فرہنگ کراچی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر طالبی نیا نے کہا کہ اسلامی انقلاب کی کامیابی اور اس کا تسلسل، فکری بیداری اور عوامی شعور کی بدولت ممکن ہوا، جسے مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے۔