مولانا سید سلیمان حسینی ندوی انتقال کر گئے
























اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ نے مشترکہ طور پر اور حسنِ نیت کے ساتھ، 18 جون 2026 کو درج ذیل امور پر اتفاق کیا
مرجع تقلید آیت اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی نے کہا ہے کہ انتظامی اور حاکمیتی اداروں کی کامیابی کا سب سے اہم سہارا عوام کا باخبر ہونا اور ان کا ہر میدان میں موجود رہنا ہے۔ جب تک عوام منظرِ عام پر موجود ہیں، ملک نقصان سے محفوظ رہے گا۔
شہید امت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای، آغاز ان قلاب سے لے کر عالمی جنگ تک، سپاہ و فوج کے کمانڈرز کی زبان میں، دنیا کی بڑی خبر رسانی ایجنسیوں نے بھی یہ تسلیم کیا کہ خامنہ ای شہید صرف ایک روحانی پیشوا نہیں بلکہ ایک مضبوط فوجی ذہنیت کے مالک تھے،
قوم نے تقریباً چالیس روزہ مقدس مزاحمت اور استقامت کے دوران تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے، اور اب کامیابی کے ثمرات حاصل کرنے کا وقت قریب آ پہنچا ہے۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج ایران سر خرو اور سامراج و صہیون پسپا ہوگیا، تاہم خبردار رہنا ہوگا، زندہ اقوام اپنے وقار، خود داری اور حقوق پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتیں۔
آیت اللہ العظمیٰ حسین نوری ہمدانی نے ایران کے عوام، مسلح افواج اور حکومتی ذمہ داران کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ امریکہ اور صہیونی حکومت کی فتنہ انگیزی کے خاتمے تک قومی وحدت، عوامی حمایت اور استقامت کو برقرار رکھا جائے۔
جامعۃ المنتظر لاہور میں آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی اور امام جمعہ اسکردو علامہ شیخ محمد حسن جعفری کے درمیان ملاقات میں ایران پر امریکی حملوں کی سخت مذمت کی گئی اور امت مسلمہ کے اتحاد و ہم آہنگی پر زور دیا گیا۔
رہبر انقلاب نے سپاہ کے انٹیلی جنس کمانڈر سید مجید خادمی کی شہادت پر پیغام جاری کرتے ہوئے دشمن کی کارروائیوں کو ناکام قرار دیا ہے۔
حجت الاسلام والمسلمین سید صدر الدین قبانچی نے غاصب صیہونی اور امریکی استکبار کے مقابلے میں عراقی مزاحمت کا شکریہ اور ان کی قدردانی کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اسرائیل لازماً تباہ ہو جائے گا، امریکہ سقوط اور شکست کھا جائے گا۔
خانہ فرہنگ کراچی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر طالبی نیا نے کہا کہ اسلامی انقلاب کی کامیابی اور اس کا تسلسل، فکری بیداری اور عوامی شعور کی بدولت ممکن ہوا، جسے مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے۔