امام جمعہ نجف اشرف حجت الاسلام والمسلمین سید صدر الدین قبانچی نے حسینیہ اعظم فاطمیہ میں خطاب کرتے ہوئے غاصب صیہونی اور امریکی استکبار کے مقابلے میں عراقی مزاحمت کا شکریہ اور قدردانی کی ہے۔
واضح رہے غاصب صیہونی اور امریکی استکبار نے حشد الشعبی کے ہیڈ کوارٹر پر حملہ کیا تھا اور اس حملے کے نتیجے میں جوانوں کی شہادت ہوئی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ آیت الله العظمیٰ سید سیستانی کی اپیل کے جواب میں ایران اور لبنان کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے پر ہم عراق کے عام عوام بالخصوص حرم حسینی کے شکر گزار ہیں۔
امام جمعہ نجف اشرف نے کہا کہ اسرائیلی کنیسٹ کا فلسطینی قیدیوں کو پھانسی دینے کا فیصلہ، ان وحشیانہ خلاف ورزیوں پر عالمی خاموشی تمام بین الاقوامی اور انسانی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ ہم خاص طور پر بین الاقوامی، اسلامی اور عرب برادریوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس قانون کا مقابلہ کریں اور انہیں ہماری جیلوں میں سزائے موت پانے والے دہشت گردوں کو پھانسی دینے کی دھمکی دیں۔
حجت الاسلام والمسلمین سید صدر الدین قبانچی نے عالمی امور کے حوالے سے کہا کہ امریکی صدر کے خلاف لاکھوں مظاہروں اور چیف آف اسٹاف سمیت 12 جرنیلوں کی برطرفی اور اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف جنگ میں جانے کے فیصلے پر عالمی غصے کے بعد، امریکہ میں بغاوت کی توقع ہے؛ انشاء الله ہم جلد ہی ٹرمپ انتظامیہ کے زوال اور امریکہ کی تحلیل کی چونکا دینے والی خبر کا انتظار کریں گے۔
انہوں نے یمن کی طرف سے جنگ میں داخل ہونے اور باب المندب کو بند کرنے کی درخواست کرنے پر بھی شکریہ ادا کیا۔
امام جمعہ نجف اشرف نے یہ سوال، رضاکارانہ مہم کا کیا مطلب ہے؟ کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب، جب اعلان کیا جائے تو جارحیت کو پسپا کرنے اور اسلام کی فتح کے لیے تیاری کا اعلان کرنا ہے۔ یہاں میں عراقی باوفا جوانوں سے درخواست کرتا ہوں کہ رضاکارانہ طور پر کام کریں اور اسلام اور شیعیت کی حمایت کے لیے تیار رہیں اور اس پکار پر لبیک کہنے کے لیے تیار رہیں۔
حجت الاسلام والمسلمین سید صدر الدین قبانی نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اسرائیل لازماً تباہ ہو جائے گا، امریکہ سقوط کرے گا اور شکست کھا جائے گا، کہا کہ سوال یہ ہے کہ اس عظیم جنگ میں عراقی عوام کا کیا کردار ہے؟ ہمیں ایک عظیم جنگ کا سامنا ہے جو سرحدوں اور قومیتوں سے ماورا ہے، ہمیں عالمی بیداری کے آثار کا سامنا ہے، ہمیں امام زمانہ علیہ السلام کی آمد کے قریب آنے کے آثار کا سامنا ہے۔ ہمارا کردار کیا ہے؟ ہمارا کردار تیاری، میڈیا کی کارکردگی، مالی مدد اور سیاسی حمایت ہے۔












