1

سپاہ پاسدارانِ انقلاب کی بھرپور طاقت سے امریکہ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوا،امام جمعہ تہران

  • News cod : 64209
  • 18 آوریل 2026 - 18:21
سپاہ پاسدارانِ انقلاب کی بھرپور طاقت سے امریکہ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوا،امام جمعہ تہران
آیت الله سید احمد خاتمی نے نمازِ جمعہ کے خطبوں میں یہ بیان کرتے ہوئے کہ اسلامی جمہوریہ ایران علاقائی طاقت سے ایک عالمی طاقت میں تبدیل ہو گیا ہے؛ کہا کہ آج آبنائے ہرمز کی کنجی اسلامی جمہوریہ ایران کے ہاتھ میں ہے۔آبنائے ہرمز کے قریب امریکی جہاز کے سامنے سپاہ پاسدارانِ انقلاب کی افواج مضبوطی سے کھڑی رہیں اور انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔

آیت الله سید احمد خاتمی نے نمازِ جمعہ کے خطبوں میں یہ بیان کرتے ہوئے کہ اسلامی جمہوریہ ایران علاقائی طاقت سے ایک عالمی طاقت میں تبدیل ہو گیا ہے؛ کہا کہ آج آبنائے ہرمز کی کنجی اسلامی جمہوریہ ایران کے ہاتھ میں ہے۔آبنائے ہرمز کے قریب امریکی جہاز کے سامنے سپاہ پاسدارانِ انقلاب کی افواج مضبوطی سے کھڑی رہیں اور انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔

انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کی طاقت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ خدا پر بھروسہ اور نظام کے لیے لوگوں کی حمایت جنگ بندی کی شرائط میں دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے دو ضروری ستون ہیں۔

خطیب نمازِ جمعہ نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ ٹرمپ جھوٹ کا مجسمہ ہے، کہا کہ شاید یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ ٹرمپ کی طرح جھوٹا دنیا کا کوئی اور صدر نہیں؛ اس نے تین سے چار سال کے دوران رات سے صبح تک 3000 جھوٹ بولے، کبھی کبھی دن میں 22 جھوٹ بولے، اس لیے ایسے شخص کے بارے میں ہوشیار رہنا ہوگا۔

آیت الله خاتمی نے کہا کہ جنگ بندی کے دوران دشمنوں سے نمٹنے کے لیے یا رہبرِ انقلابِ اسلامی آیت الله سید مجتبی حسینی خامنہ ای نے خاموشی کی اصطلاح استعمال کی ہے، جس میں دو بہت اہم نکات ہیں۔ پہلا، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ اور دوسرا نکتہ، جو اسی پہلے اصول سے پیدا ہوتا ہے، لوگوں کی موجودگی ہے۔

انہوں نے عوام کی سڑکوں پر بروقت موجودگی کی قدردانی کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں میدان میں رہنا ہوگا؛ اتحاد وہ ہے جس پر امام خمینی رحمۃ اللّٰہ علیہ اور رہبر انقلابِ اسلامی شہید امام خامنہ ای نے بارہا تاکید کی ہے، یعنی ایران سے ایک آواز اٹھنی چاہیے، یہ ایک آواز ہے جو آپ کی موجودگی میں ظاہر ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دو اہم محوروں پر توجہ ضروری ہے: سب سے پہلے، پچھلے 50 دنوں کی مزاحمت کا مسئلہ ہے؛ اس عرصے میں ہم پر بھاری زخم آئے اور ہم نے چار ہزار سے زائد شہداء پیش کیے جن میں سے ہر ایک نے ہمارے دلوں کو مغموم کیا۔

امام جمعہ تہران نے کہا رہبرِ انقلابِ اسلامی کی شہادت کے شدید زخموں کے باوجود، انقلابِ اسلامی نے عظیم کامیابیاں سمیٹی ہیں۔ ایک کامیابی یہ ہے کہ انقلاب غیر ملکی حملوں سے محفوظ ہوا۔ آٹھ سالہ جنگ، 12 روزہ جنگ، رمضان جنگ (تیسری مسلط کردہ جنگ) اور دیگر میدانوں سمیت مختلف جنگوں میں دشمن اب حملہ کرنے کی ہمت نہیں رکھتا اور اگر وہ کاروائی بھی کرتا ہے تو اسے نتائج حاصل نہیں ہوں گے۔

آیت اللہ خاتمی نے عوام کی انقلابِ اسلامی سے یکجہتی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی میدان میں موجودگی امریکہ کی کٹھ پتلی خوف کے خاتمے اور دباؤ کے منصوبوں کی ناکامی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ آج مزاحمتی محاذ پہلے سے زیادہ مضبوط ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں مذاکراتی ٹیم کا بھی، دشمن کے ضرورت سے زیادہ مطالبات پر ڈٹ جانے پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔

امام جمعہ تہران نے مزاحمتی محاذ بشمول حزب اللہ، انصار اللہ، حشد الشعبی اور وہ ممالک جنہوں نے اس جنگ میں امریکہ کا ساتھ نہیں دیا جن میں چین، روس، اٹلی اور اسپین شامل ہیں، کا نیز شکریہ ادا کیا۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=64209

ٹیگز