شہید امت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای، جو اسلامی جمہوریہ ایران کے دوسرے رہبر اور عظیم الشان مجاہد تھے، نے 28 فروری 2026 کو شہادت پائی۔ ان کی زندگی جدوجہد، علم، سیاست، اور شجاعت کا ایک حسین امتزاج تھی۔ رہبر شہید نہ صرف ایک مجتہد اور عالم دین تھے بلکہ ایک منفرد فوجی صلاحیتوں کے مالک بھی تھے، جو بحرانوں کے دوران انہیں ایک عظیم کمانڈر کے طور پر ابھارتا تھا۔
*سپاہ و فوج کے کمانڈرز کی زبان میں*
تحریروں اور تاریخی شواہد میں یہ بات بہت نمایاں ہے کہ مشکل ترین حالات میں جب فوجی قیادت دباؤ میں آجاتی تھی، رہبر شہید خود میدان میں اترتے تھے اور براہ راست کمان سنبھالتے تھے۔ فوج اور س پاہ پاس داران ان قلاب کے کمانڈرز کہتے تھے کہ “آٹھ سالہ ایران عراق جنگ کے نازک مورچوں پر جب فیصلہ کن وقت آتا تھا، تو رہبر معظم خود فرنٹ لائن پر جاکر حوصلہ افزائی کرتے اور حکمت عملی ترتیب دیتے تھے۔” یہی وجہ تھی کہ انہیں “کمانڈر ان چیف” کا لقب حقیقی معنوں میں حاصل تھا۔
*آغاز ان قلاب سے لے کر عالمی جنگ تک*
رہبر شہید کی قیادت کا سفر 1979 کے اسلامی انقلاب سے شروع ہوا، جب وہ شاہ ایران کی فوج کے خلاف صف اول میں موجود تھے۔ اس کے بعد آنے والی آٹھ سالہ دفاعی جنگ (1980-1988) میں ان کا کردار تاریخی ہے۔ وہ نہ صرف سیاسی قیادت فراہم کر رہے تھے بلکہ فوجی حکمت عملیوں کے نفاذ میں بھی پیش پیش تھے۔
حالیہ دنوں میں جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ چھیڑ دی، رہبر شہید 86 سال کی عمر میں بھی اپنے عوام اور فوج کے ساتھ کھڑے تھے۔ ان کی شہادت اسی عالمی استکبار کے خلاف جنگ کی ایک علامت ہے۔
*عالمی اعتراف*
دنیا کی بڑی خبر رسانی ایجنسیوں نے بھی یہ تسلیم کیا کہ خامنہ ای شہید صرف ایک روحانی پیشوا نہیں بلکہ ایک مضبوط فوجی ذہنیت کے مالک تھے۔ امریکی اور اسرائیلی ذرائع نے بھی انہیں ایک “سخت ترین حریف” اور “بہترین اسٹریٹجسٹ” قرار دیا۔ بی بی سی کی رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی کہ ایران کی دفاعی پالیسی مکمل طور پر انہی کی ذہنی پیداوار تھی۔
*خصوصیاتِ کمال*
رہبر شہید نے اپنی روایتی لڑائی کے ساتھ ساتھ “ثقافتی جنگ” اور “سافٹ وار” جیسے تصورات بھی دیے۔ وہ شاعری، تاریخ اور فلسفہ میں مہارت رکھتے تھے، لیکن جب جنگ کی بات آتی تھی، وہ ایک مکمل سپاہی بن جاتے تھے۔ ان کا تخلص “امین” تھا، لیکن دشمنوں کے لیے وہ “امین امن” نہیں بلکہ “امین امنیت” تھے۔
*نتیجہ*
شہید امت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے اپنی زندگی میں یہ ثابت کیا کہ ایک عالم اور مجتہد کس طرح بہترین فوجی کمانڈر بن سکتا ہے۔ ان کی شہادت (28 فروری 2026ء) نے اسلامی دنیا میں خلا چھوڑ دیا ہے، لیکن ان کے وضع کردہ دفاعی اصول اور “مق اومت” کا راستہ ہمیشہ زندہ رہے گا۔ ان کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ جہاد اور سیاست لازم و ملزوم ہیں۔












