دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























قوم نے تقریباً چالیس روزہ مقدس مزاحمت اور استقامت کے دوران تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے، اور اب کامیابی کے ثمرات حاصل کرنے کا وقت قریب آ پہنچا ہے۔
آج صبح حبر اعظم "پوپ فرانسیس" کیتھولیک کنیسہ کے پاپ اور ویٹیکن کے رئیس نے نجف الاشرف میں مرجع عالی قدر السید علی الحسینی السیستانی سے ملاقات کی. اس موقع پر آیت اللہ سیستانی نےمشرق وسطی میں جنگ ، پر تشدد کاروئیوں، اقتصادی پابندیوں اور ھجرت پر مجبور ہونا وغیرہ جیسے مشکلات کا ذکر کیا گیا ۔مرجع عالی قدر نے اس سلسلے میں مقبوضہ فلسطین کے مظلوم لوگوں ذکر کیا ۔
شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی رہنماء علامہ ڈاکٹر شبیر میثمی نے کہا کہ پوپ صاحب کی عراق میں آیت اللہ سیستانی صاحب سے ملاقات انسانیت کے درمیان روابط کا برقرار رہنا بہت اچھی بات اور نیک شگون ہے،یہ باب کھلے رہنے چاہئیں۔
آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی نے جناب ابوطالب کی مظلومیت کی طرف توجہ مبذول کرتے ہوئے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ جناب ابوطالب (ع) امیر المومنین علی علیہ السلام کی وجہ سے مظلوم واقع ہوئے، اور کہا کہ وہ افراد جو امیر المومنین علی علیہ السلام کے ساتھ دشمنی رکھتے تھے وہ من گھڑت باتوں اور روایتوں کے ذریعے ہمیشہ کوشش کرتے رہے ہیں کہ جناب ابوطالب (ع) کے چہرے کو داغدار کریں اور انہیں سوشلسٹ پہچنوائیں اور اس کی وجہ صرف علی علیہ السلام سے دشمنی تھی۔
کرگل سے تعلق رکھنے والے شیخ محمد آخوندی کو آبائی گاؤں آپاتی میں سپردخاک کردیا گیا۔تشیع جنازہ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کی شرکت, مرکزی امام جمعہ والجماعت کرگل کی اقتداء میں نماز جنازہ ادا کی گئی.
پاپ فرانسس کی عراق آمد پر عراقی وزیر اعظم کی جانب سے شاندار استقبال کیا گیا اور بغداد میں وزیر اعظم، صدر سے ملاقات کے بعد کچھ دیر پہلے نجف اشرف میں مرجع عالیقدر جہان حضرت آیت اللہ العظمیٰ سیستانی سے کی ہے ۔
اہواز ایران میں ایک بار پھر کورونا کے پھیلاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے حوزہ علمیہ امام ہادی(ع)خواہران کا پہلا جہادی گروپ ، جس میں 25 جہادی خواتین شامل ہیں، کو صبح اور سہ پہر کی دو شفٹوں میں کورونا اسپتالوں میں رضاکار عملے کے طور پر مریضوں کی دیکھ بھال کے ساتھ میڈیکل عملے کی مدد بھی کریں گی۔
آيۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے اپنے اس بیان میں اسی طرح نئے ایرانی سال کے موقع پر کورونا وائرس کے مسئلے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ کورونا سے مقابلے کی قومی کمیٹی جو بھی اعلان کرے، اس پر عمل ہونا چاہیے، اگر وہ سفر کو ممنوع قرار دیتی ہے تو عوام کو سفر نہیں کرنا چاہیے۔
بزرگ عالم دین کی رحلت سے علاقے میں ایک خلا پیدا ہو گیا ہے جس کو پر نہیں کیا جا سکتا مرحوم مغفور کا انتقال کرگل کے عوام کیلئے بالعموم اور علاقہ صوت کیلئے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔
عراقی میڈیا پر آنے والے ان پیغامات کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر آج عراق و دیگر مناطق میں کلیسا کی گھنٹی کی آواز گونجتی ہے تو یہ حاج قاسم سلیمانی اور ابو مھدی مھندس کی مرہون منت ہے.