دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























قوم نے تقریباً چالیس روزہ مقدس مزاحمت اور استقامت کے دوران تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے، اور اب کامیابی کے ثمرات حاصل کرنے کا وقت قریب آ پہنچا ہے۔
شیعہ علما کونسل نے ظالمانہ اقدامات کے خلاف احتجاجی پروگرام تشکیل دے دیا ہے ، اس کا باقاعدہ اعلان 15 مارچ کو پریس کانفرنس میں کیا جائے گا ۔
قومی کمیشن بین المذاہب مکالمہ کے چیئرمین آرچ بشپ سبسٹین فرانسس شاہ نے وفد سمیت حوزہ علمیہ جامعۃ المنتظر آکر وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر حضرت آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی سے ملاقات کی ہے.
انہوں نے کہا کہ آج کچھ نام نہاد اس ہستی کے ایمان میں شک و شبہ کا گناہ کرتے ییں ۔امام صادق علیہ السلام نے ایک صحابی جناب ابان کے ایمان ابوطالب پر سوال کے جواب میں فرمایا تھا کہ جو ایمان ابوطالب میں شک بھی کرے گا خدا اسے جھنم میں ڈالے گا خواہ وہ کتنا بڑا نیک مسلمان ہی کیوں نہ ہو۔
علامہ سید ساجد علی نقوی نے 27رجب المرجب کو بعثت رسول خدا معراج النبی کے موقع پر کہاکہ حضور اکرم کا مبعوث ہونا عالم ِ انسانیت کیلئے ایک عظیم خوشخبری ہے، عید مبعث انسانیت کو بت پرستی اور ہر قسم کے منفی عقائد سے نجات دلا کر خدا پرستی اور توحید شناسی کی سمت لے جانے کا مبارک دن ہے۔
دفتر رہبر معظم کے بین الاقوامی روابط کے معاون حجتالاسلام والمسلمین محسن قمی نے کہا کہ آیتالله سیستانی کی اس تاکید سے وہ تمام سازشیں دم توڑ گئیں جو غاصب صہیونی ریاست کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لئے کی جا رہی تھیں۔
اس کانفرنس میں قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد نقوی، وزیر مذہبی امور پیرنورالحق قادری، سربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ راجہ ناصرعباس جعفری، سربراہ امت واحدہ علامہ امین شہیدی، شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی سمیت دیگر جید علماء کرام نے شرکت کی.
مجمع جہانی اہل بیت ؑ کے زیر اہتمام قم میں منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آیت اللہ العظمیٰ صافی گلپائیگانی نے فرمایا کہ امت مسلمہ حضرت ابوطالب کی مقروض ہے۔حضرت ابوطالب اور ان کے عظیم خاندان نے دین مبین اسلام کی ناقابل فراموش خدمت کی ہے۔ تمام مسلمانوں بالخصوص شیعیان اہل بیت کا فریضہ ہے کہ اس عظیم شخصیت کو پہچاننے اور دوسروں میں متعارف کرانے کی زیادہ سے زیادہ کوشش جاری رکھیں۔
آیت اللہ مقتدائی نے دنیا بھر کے مسلمانوں خصوصا شیعیان اہل بیت کو "عید مبعث" کی مبارکبادی دیتے ہوئے کہا کہ یہ عید اسلامی امت کی بہت بڑی اور انتہائی فضیلت عید ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس عید اور بعثت پیغمبر اکرم ﷺکو بہت بڑی نعمت سے تعبیر کیا ہے۔
آیت اللہ اختری نے جناب ابوطالب کے ایمان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے ایمان کا مسئلہ ایک واضح اور روشن مسئلہ ہے لیکن تحریف، حسد، بدنیتی، دشمنی، ان چیزوں نے تاریخی حقیقت پر پردہ پوشی کر دی، ابتدائے اسلام میں بھی اس حقیقت کو چھپایا گیا اور آج بھی اس پر پردہ ڈالا جا رہا ہے اور حقیقت کو آشکار کرنے کے بجائے الٹا یہ سوال پوچھا جا رہا ہے کہ کیا ابوطالب مومن تھے یا نہیں؟