مولانا سید سلیمان حسینی ندوی انتقال کر گئے
























اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ نے مشترکہ طور پر اور حسنِ نیت کے ساتھ، 18 جون 2026 کو درج ذیل امور پر اتفاق کیا
مدرسہ آیۃ اللہ خامنہ ای اور تحریک حسینی پاراچنار کے زیراہتمام یوم ولادت امام حسین (ع) کے سلسلے میں سالانہ اجتماع کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں کثیر تعداد میں عوام کے علاوہ علاقے کی تمام مذہبی اور سیاسی تنظیموں کے رہنماوں اور علماء نے شرکت کی۔
علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں مضبوط قوم اور ترقی یافتہ ملک بننے کےلئے خود داری اور خود مختاری کے نظریے پر عمل لازم ہے، افسوس عالمی بڑوں کی بیٹھک میں مسئلہ کشمیر پر لفظ تک نہیں بولا گیایہ خارجہ پالیسی کی کمزوری نہیں تو کیا ہے؟ریاست مدینہ کا نام لینے والوں کے دور میں بنیادی حقوق ا ور شہری آزادیوں پر قدغنیں اور زیادتیوں کا سلسلہ جاری یہ داخلہ پالیسی کی ناکامی نہیں تو کیاہے؟
حجت الاسلام سید رضی الموسوی نے کہا کہ آج مخالف مذاہب کے کتنے ہزار مدارس ہیں مگر افسوس مومنین کےمدارس کی تعداد سینکڑوں میں ہے اسقدر کم تعداد میں ہونا لمحہ فکریہ ہے مومنین شعور پیدا کریں حسین ابن علی جیسی ہستیوں نے بھی میدان میں اتر کر دین کی نصرت کی لہذا ہمیں بھی میدان میں اترنے کی ضرورت ہے۔
حضرت آیت اللہ حافظ ریاض نجفی نے کہا کہ ریاستِ مدینہ نے وحدت ایجادکی، تفریق نہیں۔ بھائی چارہ قائم کیا،لوگوں کو تقسیم نہیں کیا۔ حکومت اپنے ریاستِ مدینہ کے دعوو ں پر غور کرے۔تمام مسالک کے دینی مدارس کے بورڈز کے اتحاد کو دنیا بھر میں سراہا جاتا تھا کہ ہر اسلامی مکتبہ فکر کا ایک بورڈ ہے ، اتحاد تنظیمات مدارس کے پلیٹ فارم سے آپس میں متحد ہیں۔
حضرت عباس ؑ کی زندگی کا اہم پہلو یہ ہے کہ وہ اپنے والد گرامی امیر المومنین کے تربیت یافتہ تھے
ملاقات میں وزیراعلیٰ خالد خورشید نے گلگت سکردو روڈ اور عوام کو درپیش مسائل کے فوری حل کیلئے بھی کوششیں کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
جی بی کے آئینی حقوق اورخطے سے عوامی مشکلات ،محرومیتوں کےازالے اور باھمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
انسان جس چیز سے جاہل ہو اس کا دشمن ہوتا ہے اور آج کے علم و آگاہی کے دور میں یہ جہالت قابل قبول نہیں ہے۔
امت مسلمہ حضرت امام حسین ؑکے الہی‘ آفاقی اور مجاہدانہ کردار کو مشعل راہ بناتے ہوئے عالم اسلام کے مسائل کو حل کرے