دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























قوم نے تقریباً چالیس روزہ مقدس مزاحمت اور استقامت کے دوران تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے، اور اب کامیابی کے ثمرات حاصل کرنے کا وقت قریب آ پہنچا ہے۔
حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی نے نوروز کے ساتھ خصوصی وابستگی رکھنے والے وابستگان ولایت و امامت سے تاکید کی کہ وہ اس ایام میں زیادہ سے زیادہ عبادت الٰہی انجام دیں اور اپنے نادار و مستحق لوگوں کی دلجوئی کریں۔
انہوں نے کہا کہ آج دشمن اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ عظیم ایرانی قوم کو طاقت، دھمکیوں اور پابندیوں کی زبان سے مرعوب نہیں کیا جاسکتا لہذا وہ مجبور ہوکے اس قوم کے ساتھ تعمیری تعاون کے راستے پر واپس آنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ماہِ شعبان عبادتوں کا بہترین مہینہ ہے۔ اس سے استفادہ کیجئے۔ کچھ بھی نہ کرسکیں تو درود پڑھتے رہیں، استغفار کرتے رہیں تاکہ جب ماہِ رمضان میں داخل ہوں تو تھوڑے پاک صاف دل کے ساتھ داخل ہوں
ہمارے دشمن جن میں سب سے آگے امریکا ہے، اپنے حد اکثر دباؤ سے ہماری قوم کو جھکا دینا چاہتے تھے۔ آج وہ خود اور ان کے یورپی دوست کہتے ہیں کہ حد اکثر دباؤ ناکام ہو گیا۔ ہم تو جانتے ہی تھے کہ ناکام ہوگا اور ہم دشمن کو شکست دینے کے لئے پرعزم بھی تھے۔ ہم جانتے تھے کہ ایرانی قوم استقامت دکھائے گی۔ لیکن آج وہ خود بھی اعتراف کر رہے ہیں کہ یہ حد اکثر دباؤ ناکام ہو گیا۔
ڈاکٹر فخر الحسن رضوی نے ملعون وسیم رضوی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دریدہ دہن گستاخ قرآن پاک ملعون وسیم رضوی مرتد ہوگیا ہے اور اپنے ذاتی مفاد کے لئے اس طرح کی مذموم حرکت کی ہے تاکہ امت مسلمہ میں اختلاف پیدا ہو ملعون وسیم رضوی نے اپنے آقاؤں کے اشارے پر یہ گستاخی کی ہے.
مرحوم علامہ قاضی سید نیاز حسین نقوی کی کوشش سے تین سال قبل ایران کے دینی مراکزو مدارس کے سربراہ آیت اللہ اعرافی پاکستان آئے تو تمام مسالک کے مدارس کے قائدین کے اس اتحاد سے بہت متاثر ہوئے.
مدرسہ آیۃ اللہ خامنہ ای اور تحریک حسینی پاراچنار کے زیراہتمام یوم ولادت امام حسین (ع) کے سلسلے میں سالانہ اجتماع کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں کثیر تعداد میں عوام کے علاوہ علاقے کی تمام مذہبی اور سیاسی تنظیموں کے رہنماوں اور علماء نے شرکت کی۔
علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں مضبوط قوم اور ترقی یافتہ ملک بننے کےلئے خود داری اور خود مختاری کے نظریے پر عمل لازم ہے، افسوس عالمی بڑوں کی بیٹھک میں مسئلہ کشمیر پر لفظ تک نہیں بولا گیایہ خارجہ پالیسی کی کمزوری نہیں تو کیا ہے؟ریاست مدینہ کا نام لینے والوں کے دور میں بنیادی حقوق ا ور شہری آزادیوں پر قدغنیں اور زیادتیوں کا سلسلہ جاری یہ داخلہ پالیسی کی ناکامی نہیں تو کیاہے؟
حجت الاسلام سید رضی الموسوی نے کہا کہ آج مخالف مذاہب کے کتنے ہزار مدارس ہیں مگر افسوس مومنین کےمدارس کی تعداد سینکڑوں میں ہے اسقدر کم تعداد میں ہونا لمحہ فکریہ ہے مومنین شعور پیدا کریں حسین ابن علی جیسی ہستیوں نے بھی میدان میں اتر کر دین کی نصرت کی لہذا ہمیں بھی میدان میں اترنے کی ضرورت ہے۔