ایران کے ایک اعلی سکیورٹی و سیاسی عہدیدار نے کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے تہران نے چھ بنیادی شرائط پیش کی ہیں جنہیں سنجیدگی سے زیر غور لانا ضروری ہے۔
خبر رساں ادارے کے مطابق اس نام ظاہر نہ کرنے والے عہدیدار نے المیادین ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اس وقت جو اقدامات کر رہا ہے وہ ایک پہلے سے تیار کردہ دفاعی منصوبے کا حصہ ہیں جسے کئی ماہ قبل ترتیب دیا گیا تھا اور اسے مرحلہ وار اور اسٹریٹجک صبر کے ساتھ نافذ کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے دعوی کیا کہ دشمن کے فضائی دفاعی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے بعد ایران کو اب اس کی فضائی حدود پر مکمل برتری حاصل ہوچکی ہے۔
ایرانی عہدیدار کا کہنا تھا کہ موجودہ فوجی برتری کے باوجود تہران کو فوری جنگ بندی کا کوئی قریب امکان نظر نہیں آتا اور ایران امریکا، اسرائیلی حکومت اور ڈونلڈ ٹرمپ کو تاریخی سبق دینے تک اپنی پالیسی جاری رکھنا چاہتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جنگ بندی کے لیے بعض علاقائی فریقوں اور ثالثوں کی جانب سے تجاویز ایران تک پہنچائی گئی ہیں، تاہم تہران نے واضح کیا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے چھ بنیادی شرائط پوری کرنا ہوں گی۔
ان کے مطابق ان شرائط میں جنگ دوبارہ نہ ہونے کی ضمانت، خطے میں امریکی فوجی اڈوں کی بندش، حملہ آور فریق کی جانب سے ایران کو جنگی ہرجانہ ادا کرنا، خطے کے تمام محاذوں پر جنگوں کا خاتمہ، آبنائے ہرمز کے لیے نیا قانونی نظام قائم کرنا اور ایران کے خلاف سرگرم میڈیا عناصر کے خلاف کارروائی اور انہیں ایران کے حوالے کرنا شامل ہیں۔












