حوزہ علمیہ ایران کے سربراہ آیت اللہ علی رضا اعرافی نے خطے کی حالیہ صورتحال پر الازہر کے بیان کے ردعمل میں شیخ الازہر ڈاکٹر احمد الطیب کے نام عربی زبان میں ایک تفصیلی خط ارسال کیا ہے، جس میں انہوں نے موجودہ تنازع کو اس کے تاریخی اور تمدنی پس منظر میں سمجھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
انہوں نے شیخ الازہر کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ دینی و اخلاقی ذمہ داری ہم سب کو امت کی خیرخواہی کا پابند بناتی ہے، اور اسی جذبے کے تحت یہ گزارش پیش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے الازہر کے علمی، معتدل اور وحدت بخش کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس ادارے نے ہمیشہ فلسطین کے مظلوم عوام کی حمایت، امتِ مسلمہ کے اتحاد اور اسلامی بھائی چارے کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ الازہر کے حالیہ بیان نے انہیں حیرت میں ڈال دیا ہے اور وہ مخلصانہ طور پر اس پر نظرِ ثانی کی دعوت دیتے ہیں، کیونکہ کچھ ایسی بنیادی حقیقتیں ہیں جنہیں نہ شرعی، نہ سیاسی اور نہ اخلاقی لحاظ سے نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔
آیت اللہ اعرافی نے وضاحت کی کہ موجودہ کشمکش کو اس کے تاریخی و تمدنی پس منظر کے بغیر سمجھنا ممکن نہیں، کیونکہ یہ دراصل مغربی و امریکی استعماری منصوبے کا تسلسل ہے، جس کا مقصد خطے کو اپنے مفادات کے مطابق ڈھالنا، امت کی طاقت کو کمزور کرنا اور اندرونی تنازعات کو ہوا دینا ہے، جبکہ صہیونی حکومت اس منصوبے کا مرکزی ستون ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ مسئلہ فلسطین آج بھی امتِ مسلمہ کا بنیادی مسئلہ ہے اور فلسطینی عوام کی دہائیوں پر محیط مظلومیت، قبضہ، جلاوطنی اور مقدسات کی بے حرمتی ایک ایسا ناسور ہے جسے نظر انداز کر کے کسی بھی تجزیے کو درست نہیں کہا جا سکتا۔
آیت اللہ اعرافی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا امت کے اتحاد اور بھائی چارے پر یقین محض نعرہ نہیں بلکہ عملی پالیسی ہے، اور ایران ہمیشہ امت کو قریب لانے کی کوشش کرتا رہا ہے، نہ کہ اختلافات کو ہوا دینے کی۔
انہوں نے واضح کیا کہ تاریخ گواہ ہے کہ ایران نے کبھی کسی جنگ یا مسلم ممالک کے درمیان تنازع کا آغاز نہیں کیا، بلکہ ہمیشہ حسنِ ہمسائیگی اور عدم جارحیت کی پالیسی اپنائی ہے۔ موجودہ صورتحال میں بھی ایران پر جنگ مسلط کی گئی جبکہ وہ مسائل کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے لیے مذاکرات میں مصروف تھا، اور اب وہ بارہا حملوں کے بعد اپنے اقتدار اور عوامی وقار کا دفاع کر رہا ہے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ بعض اسلامی ممالک اس واضح حقیقت کو نظر انداز کر رہے ہیں اور کھلے ظلم کی مذمت میں ناکام ہیں، جو اخلاقی، انسانی اور شرعی اعتبار سے سنگین کوتاہی ہے۔
آیت اللہ اعرافی نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف ہونے والے شدید حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے بنیادی ڈھانچے کو منظم انداز میں تباہ کیا گیا، ہزاروں غیر فوجی مراکز کو نشانہ بنایا گیا، اور بے گناہ شہریوں، بچوں اور خواتین کو شہید و زخمی کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ان جرائم میں سرکردہ علمی شخصیات اور اہم رہنماؤں کو بھی نشانہ بنایا گیا، حتیٰ کہ رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای کو بھی ٹارگٹ کیا گیا، جو امت کے اتحاد کی ایک بڑی آواز ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان واضح حقائق کو نظر انداز کرنا اور صرف ایران کے دفاعی ردعمل کو موردِ الزام ٹھہرانا عدل کو مسخ کرنے اور شرعی اصولوں سے انحراف کے مترادف ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران نے اپنے دفاع میں دشمن کے ان اڈوں کو نشانہ بنایا جو بعض ممالک میں قائم ہیں، اور یہ ممالک نہ تو ہمسائیگی کے تقاضے پورے کر رہے ہیں اور نہ ہی ایران کے حقوق کا احترام کر رہے ہیں۔
آیت اللہ اعرافی نے کہا کہ امتِ مسلمہ پر لازم ہے کہ وہ ایسے اہم معاملات میں جلد بازی سے عمومی فیصلے صادر کرنے کے بجائے غور و فکر اور تحقیق سے کام لے۔
انہوں نے مزید کہا کہ الازہر کے بیان میں اگرچہ جنگ بندی اور خونریزی روکنے کی خواہش قابلِ قدر ہے، لیکن اس میں تنازع کے اسباب کو نظر انداز کر کے صرف نتائج پر توجہ دی گئی ہے، اور ہزاروں بے گناہ شہریوں کی شہادت کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ شریعتِ اسلامیہ کا تقاضا ہے کہ ہر حال میں مظلوم کا ساتھ دیا جائے اور انصاف کو مقدم رکھا جائے۔
خط کے اختتام پر آیت اللہ اعرافی نے تجویز پیش کی کہ عالم اسلام کے علماء، خصوصاً قم اور الازہر کے درمیان مضبوط روابط اور سنجیدہ علمی مکالمہ دوبارہ شروع کیا جائے، تاکہ امتِ مسلمہ کو موجودہ بحران سے نکال کر اتحاد، ترقی اور استحکام کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔
انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ الازہر کو علم و عدالت کا مرکز قائم رکھے، امتِ مسلمہ کو حق پر متحد کرے اور سب کو درست راستہ دکھائے۔
واضح رہے کہ الازہر نے 27 رمضان کو جاری اپنے بیان میں ایران کے فوجی ردعمل کو “عرب و اسلامی ممالک کے خلاف بلاجواز جارحیت” قرار دیتے ہوئے اس کی فوری بندش کا مطالبہ کیا تھا اور خطے کے امن و سلامتی کے حوالے سے شدید خدشات کا اظہار کیا تھا۔












