انجمنِ امامیہ بلتستان کے زیر اہتمام “تجدیدِ عہد و عظمتِ شہداء کانفرنس” مرکزی امامیہ جامع مسجد سکردو بلتستان میں منعقد ہوئی، جس میں بلتستان بھر سے علمائے کرام، ائمہ جمعہ و جماعت، واعظین، مبلغین اور اساتذہ نے بھرپور شرکت کی۔
کانفرنس کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک (حافظ حیدر علی) اور نعتِ رسولِ مقبول (شیخ نذیر انصاری) سے ہوا جبکہ نظامت کے فرائض آغا سید قمر عباس حسینی نے انجام دیے۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شیخ زاہد حسین زاہدی نے کہا کہ شہداء کی عظمت کا تقاضا ہے کہ ان کے مشن کو عملی طور پر آگے بڑھایا جائے۔ انہوں نے رہبرِ معظم شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای رضوان اللہ علیہ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ملتِ ایران کے لیے چندہ مہم اور رہبر معظم کے چہلم کے اجتماعات کا اعلان کیا۔ صدر انجمن امامیہ گمبہ سکردو شیخ محمد حسین واعظی نے محراب و منبر کو فعال بنانے اور علماء کی تنظیم سازی پر زور دیتے ہوئے ہر قسم کی قربانی کے لیے آمادگی ظاہر کی۔
شیخ ڈاکٹر مشتاق حکیمی نے روندو کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ رہبرِ معظم کی شہادت کے بعد حجت تمام ہو چکی ہے، عوام علماء کے ساتھ ہیں، اور علماء کو عوامی رابطہ مزید مضبوط کرنا ہوگا۔ انہوں نے چارٹر آف ڈیمانڈ پر عمل نہ ہونے کی صورت میں سخت احتجاج کی تنبیہ بھی کی۔
سید محمد سعید الموسوی (شگر) نے کہا کہ رہبرِ معظم کی شہادت نے امتِ مسلمہ کو متحد کر دیا ہے اور اس عظیم قربانی کے مقصد کو محفوظ رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
شیخ سجاد حسین مفتی (خپلو) نے کہا کہ کربلا ایک زندہ پیغام ہے، خانقاہی نظام سے نکل کر عملی میدان میں آنا ہوگا اور استکباری قوتوں کا مقابلہ کرنا ہوگا۔
امام جمعہ حسین آباد آغا سید مظاہر موسوی نے حبِ اہلِ بیتؑ کو امت کی سب سے بڑی طاقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اصل قوت عوام ہیں، بندوق نہیں۔
شیخ یداللہ عزیزی (گلتری) نے مرکز کی مضبوطی کو اتحاد کی علامت قرار دیتے ہوئے علماء و عوام کو سازشی عناصر سے ہوشیار رہنے اور قیادت کے ساتھ آگے بڑھنے کی تاکید کی۔ شیخ ذوالفقار یعسوبی نے مظلوموں کے حقِ احتجاج کو قرآن و سنت کے مطابق قرار دیتے ہوئے عالمی استکبار کے خلاف بھرپور ردعمل کا عندیہ دیا۔ آغا سید علی موسوی (صدر انجمن امامیہ کھرمنگ) نے اتحاد و وحدت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ علماء نے صبر کا مظاہرہ کیا ہے، تاہم تقدس پامال ہونے کی صورت میں شدید ردعمل آئے گا۔ علامہ شیخ محمد جواد حافظی (نائب امام جمعہ مرکزی جامع مسجد سکردو) نے علماء کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ حالیہ مذاکرات میں علماء نے ملت کے مؤقف کا بھرپور دفاع کیا ہے اور آئندہ بھی مرکز کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔
کانفرنس کے اختتام پر آغا سید عباس موسوی (صدر انجمن امامیہ شگر) نے متفقہ قراردادیں پیش کیں جن میں امریکہ و اسرائیل کی ایران کے خلاف جارحیت کی مذمت، مظلومینِ فلسطین و غزہ کی حمایت، بلتستان کے حالیہ واقعات کی شفاف تحقیقات اور انجمن امامیہ کے چارٹر آف ڈیمانڈ پر من و عن عملدرآمد کا مطالبہ شامل تھا۔
آخر میں صدر انجمن امامیہ بلتستان آغا سید باقر الحسینی نے علماء کی شرکت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بلتستان کا امن اولین ترجیح ہے، تاہم چارٹر آف ڈیمانڈ پر عمل نہ ہونے کی صورت میں سخت لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا۔ انہوں نے خواتین ونگ اور نوجوانوں کے لیے الگ پلیٹ فارم کے قیام کا بھی اعلان کیا۔ کانفرنس کا اختتام شہداء کے درجات کی بلندی، رہبرِ معظم رضوان اللہ علیہ اور دیگر شہداء کے لیے دعا اور اتحادِ امت کے عزم کے ساتھ ہوا۔












