3

شہید سید علی خامنہ ایؒ۔۔۔۔۔ لشکر کریں گے میری دلیری پر تبصرے

  • News cod : 64058
  • 05 آوریل 2026 - 18:32
شہید سید علی خامنہ ایؒ۔۔۔۔۔ لشکر کریں گے میری دلیری پر تبصرے
ہر دور میں جہاں انبیائے کرام کے مخالفین موجود رہے، وہیں ایسے لوگ بھی میدان میں رہے، جنہوں نے ظلم و جبر اور انسانی وقار کی پامالی کے خلاف انبیائے کرام کا ساتھ دینے کی ہمت کی۔

تحریر: ڈاکٹر نذر حافی

دنیا میں کوئی ہستی ایسی نہیں، جس کا کوئی دشمن نہ ہو۔ دشمن تو خدا کے انبیاء کے بھی تھے۔ لہذا پہلی بات تو یہ سمجھ لیجئے کہ دنیا میں خدا کی پسندیدہ کچھ ہستیاں ایسی ہوتی ہیں کہ جن سے دشمنی کرنا دراصل اپنے ہی خلاف جنگ چھیڑنے کے مترادف ہوتا ہے۔ جتنا کوئی ان کے خلاف آگے بڑھتا ہے، اتنا ہی خود کو نقصان پہنچاتا ہے۔ یعنی انہیں شکست دینے کی کوشش میں انسان خود شکست کھا جاتا ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ خدا کے مقرب بندے بھی ہمیشہ دشمنوں کی زد پر رہے۔ لوگوں نے گروہ در گروہ انبیائے کرام اور اُن کے جانشینوں کی مخالفت کی۔ ایسی ہستیوں کا دشمن شخص یہ سمجھتا ہے کہ وہ اُن کی مخالفت کر رہا ہے، حالانکہ حقیقت میں وہ اپنی ہی روشنی کم کر رہا ہوتا ہے۔ ان کے ساتھ دشمنی کرنا ایسے ہی ہے، جیسے کوئی روشنی کو تلوار سے کاٹنے کی کوشش کرے۔ تلوار چلتی ہے لیکن روشنی ویسے ہی رہتی ہے۔

ہر دور میں جہاں انبیائے کرام کے مخالفین موجود رہے، وہیں ایسے لوگ بھی میدان میں رہے، جنہوں نے ظلم و جبر اور انسانی وقار کی پامالی کے خلاف انبیائے کرام کا ساتھ دینے کی ہمت کی۔ تاریخ بشریت شاہد ہے کہ حق و انصاف کے ساتھ کھڑا ہونا یا اس کی مخالفت کرنا یہ صرف ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک ایمان دار انسان کے ایمان کی کسوٹی ہے۔ انسانوں کے درمیان ایک ایسا گروہ بھی ہر دور میں موجود رہا ہے کہ جو زبان سے تو لوگوں کے ساتھ دوستی کا دعویٰ کرتا ہے، لیکن حقیقت میں وہ لوگوں سے بہت دور ہوتا ہے۔ اسے اندرونی تضاد یا منافقت کہتے ہیں۔ فراعین کا گروہ ایسا ہی تھا۔ فرعون لوگوں سے کہتا تھا کہ میں تمہارا رب ہوں، یعنی تمہیں پالنے پوسنے والا ہوں، حالانکہ وہ اُن کا بدترین دشمن تھا۔ ایسا گروہ آج کی سُپر طاقتوں کی شکل میں ہمارے سامنے ہے۔

خلیجی ریاستوں کو امریکہ نے کہا تھا کہ میں تمہارا محافظ ہوں۔ آج وقت نے ثابت کیا کہ امریکہ کا مقصد خلیجی ریاستوں کی حفاظت کے بجائے امریکی مفادات کیلئے اُنہیں ایران سے لڑانا تھا۔ یعنی امریکہ خلیجی ریاستوں کا محافظ نہیں، اُن کا بدترین دشمن ہے۔ صرف خلیجی ریاستیوں کا ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں امریکہ نے اپنے دوستوں کے ساتھ دوستی کے نام پر جو بدترین سلوک کیا ہے، وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ دوستی کے لبادے میں امریکی منافقت کا انکار کرنا بالکل ایسے ہی ہے، جیسے بِلّی کو دیکھ کر کبوتر آنکھیں بند کر لے اور پھر یہ دعویٰ کرے کہ بِلّی موجود نہیں۔ خلیجی ریاستوں اور اُن کے ہمنواوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ حقیقت کو رد کرنے سے حقیقت ختم نہیں ہوتی لیکن انسان کی بصیرت ختم ہو جاتی ہے۔ جب انسان میں بصیرت ہی نہ ہو تو سچ سامنے ہوتے ہوئے بھی اوجھل رہتا ہے۔

کیا عرب ممالک نے امریکہ کی گود میں بیٹھ کر اور امریکہ کی ایما پر فلسطینیوں و ایران کے ساتھ جو کیا ہے، اُسے بصیرت کہا جا سکتا ہے۔؟ دوسری طرف ایران نے ہمیشہ خلیجی ریاستوں کی بھلائی چاہی ہے۔ بہت ہی عجیب بات ہے کہ بے بصیرت انسان اسی ہاتھ کو جھٹک دیتا ہے، جو اسے سہارا دے رہا ہوتا ہے۔ یعنی نجات کا دروازہ اُس کے سامنے ہوتا ہے، لیکن انسان خود اسے اپنے اوپر بند کر لیتا ہے۔ وہ غلط کاموں کو اختیار کرکے بعض اوقات اپنی نجات کے خلاف چل پڑتا ہے۔ اسرائیل کو گریٹر اسرائیل بننے سے آج تک ایران نے ہی روک رکھا ہے اور خلیجی ممالک ہنوز ایران سے ہی برسرِ پیکار ہیں۔ ایران کی ساری اعلیٰ سطحی قیادت فلسطین اور غزہ کے اہلِ سُنّت مسلمانوں کی خاطر قربان ہوگئی، لیکن خلیجی ریاستوں کے بہکائے ہوئے مُلاں آج بھی ٹرمپ کے دستر خون پر نُچڑی ہوئی ہڈیاں چوستے ہیں اور ایران کو اہلِ سُنت کا دشمن کہتے ہیں۔

ایسے مُلّاں یہ بھول جاتے ہیں کہ اہلِ ایمان سے عداوت، درحقیقت خدا سے ہی عداوت ہے، ایسی عداوت میں مبتلا انسان دراصل نورِ ایمان سے برسرِ پیکار ہوتا ہے، وہ ایسی روشنی کو بجھانے پر کمر باندھ لیتا ہے کہ اُسے بجھانے سے دراصل اُس کی اپنی بصیرت کا چراغ ہی خاموش ہو رہا ہوتا ہے۔ حق کو دیکھنے کے لیے آنکھ نہیں، ادراک چاہیئے۔ جب ادراک ہی تعصب کا اسیر ہو جائے تو حق کو سامنے دیکھ کر بھی انسان پہچان نہیں سکتا۔ اسرائیل نے ایران سے پہلے کئی سالوں تک فلسطینی علاقوں میں بمباری کی، گھروں کو تہس نہس کیا، بچوں اور خواتین کی زندگیوں کو اجیرن کیا، امدادی سامان روکا اور عام شہریوں کو انسانی شیلڈ کے طور پر استعمال کیا۔ ان مظالم پر اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی رپورٹس نے یا تو خاموشی اختیار کئے رکھی اور یا پھر ان مظالم کو الفاظ کی حد تک بُرا بھلا کہا۔ دوسرے الفاظ میں طاقتور ممالک ہی کمزور انسانوں پر سنگین مظالم کرانے اور ظلم کی نارملائزیشن میں ملوث رہے۔

امریکہ نے آج تک اسرائیل کو مسلسل فوجی امداد اور ہتھیار فراہم کیے، چاہے اس سے فلسطینی شہریوں کی شہادتیں اور انسانی نقصان کتنے ہی بڑے پیمانے پر ہوُا ہو۔ امریکہ نے اسرائیلی مظالم پر تنقید کرنے والے انسانی حقوق کے گروپوں پر پابندیاں لگائیں، بین الاقوامی عدالتوں کی تحقیقات میں رکاوٹیں ڈالیں اور امدادی اداروں کے کام میں خلل ڈالا۔ یہاں سیاست کو ایک طرف رکھ کر یہ دیکھئے کہ ایمان ہمیں امریکہ و ایران کے بارے میں کیا حکم دیتا ہے۔؟ ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ ہم مظلوم کے ساتھ کھڑے ہوں اور ایسے نظاموں کے خلاف موقف اختیار کریں، جو ظلم، بربریت اور انسانی وقار کی پامالی کا سبب ہیں۔ اہلِ ایمان کا فرض کہ صرف الفاظ کی حد سے آگے بڑھ کر انسانیت کے لیے عدل و انصاف کا علم اٹھائیں۔ وہ جو طاقت اور مفاد کی آڑ میں بے گناہ انسانوں پر ظلم کرتا ہے، اس کے ساتھ تعلق رکھنا ایمان دار ہونے کے منافی ہے۔

دینی تعلیمات کی روشنی میں ایران کے ساتھ ہمدردی اور امریکہ و اسرائیل کے خلاف موقف اختیار کرنا، کوئی سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ مسلمان ہونے کا تقاضا ہے۔ مسلمان وہ ہے، جو عدل، انصاف اور مظلوم کے ساتھ ہمدردی کا تقاضا کرتا ہے۔ اسلام ہمیں یہی تو سکھاتا ہے کہ ظلم کی حمایت کبھی نہ کی جائے اور مظلوم کے حق میں ہر ممکن کوشش کی جائے۔ ظالم کی مخالفت اور مظلوم کی مدد ہی وہ واحد راستہ ہے، جس پر قدم رکھ کر انسان اپنے ضمیر کی عدالت میں اخلاقی و روحانی اعتبار سے خود کو مضبوط پاتا ہے۔ یہی وہ مضبوطی ہے، جو شہید سید علی خامنہ ای کی مانند ہر سچّے مسلمان کو انصاف، حق و صداقت اور انسانیت کے لیے آخری سانس تک میدان میں کھڑا رکھتی ہے۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=64058

ٹیگز