تحریر: مولانا دانش عباس خان
علی کے جیالوں نے جنگِ رمضان کے دوران میدانِ نبرد سے اپنی با بصیرت و انقلابی قوم کے نام کیا خوبصورت پیغام دیا تھا کہ “میدان ہمارا ہے اور خیابان تمہارا”
یہ نعرہ جیسے ہی حسینیوں کے گوش سماعت سے ٹکرایا تو نہ ہی فقط ان کے قدم سڑکوں پر سنگ میل بنکر جم گئے بلکہ خواب غفلت میں مبتلا افراد کو بیدار اور گم کردہء راہ کو حر و زہرقین بنا کر اپنی صفوں میں لاکر کھڑا کر لیا، البتہ اگر ابھی بھی دو چار ناعاقبت اندیش ظاہرا ظرافت کا لباس پہن کر حماقت کر رہے ہیں تو ان کی یہ روباہی کام آنے والی نہیں ہے کیونکہ حسینی لشکر کا شیر علمداری کر رہا ہے اور فرزندان عاشورا مستقبل کا روشن نقشہ کھینچ رہے ہیں کہ جس کے بعد غیبت سے آنے والا وقت کا حسین(ع) تنہا نہیں رہے گا۔
غرض کہ جمہورئ اسلامی ایران کہ جو امام زمانہ(عج) کے دولتِ کریمہ کا پیش خیمہ ہے وہ ایک وقت میں دو محاذوں پر ڈٹا ہوا ہے: ایک میدان ہے تو دوسرا خیابان؛ ان دونوں محاذوں کا مقصد ایک ہی ہے کہ کفر کے سربراہوں کی حرم الہی سے بیت المقدس تک بلکہ کل جہاں سے بیخ کنی کی جائے اس لئے جو میدان میں ہے وہ کفار یعنی استکبار و صہیونزم سے مقابلہ کر رہا ہے اور جو خیابان میں ہے وہ منافقوں کے غلط ارادوں کو ناکام بنا رہا ہے۔
میدان و خیابان کی محاذ آرائی میں فرزندان توحید کامیابی کی چوٹی پر ہیں چونکہ ایمان میں قوت اور عمل میں اخلاص کار فرما ہے اور یہ دونوں جوہر قرآنی دستور سے مزین ہیں، لہذا سورہ فاطر کی آیت نمبر ۱۰ میں ارشاد باری تعالی ہے: “إِلَیهِ یَصعَدُ ٱلكَلِمُ ٱلطَّیِّبُ”
“پاکیزہ کلمات” (یعنی درست ایمان یا اذکار و کلمات جو ایمان کی عکاسی کرتے ہیں) خدا کی طرف صعود کرتے ہیں، “وَٱلعَمَلُ ٱلصَّـٰلِحُ یَرفَعُهُ” اور (یہ ایمان یا اذکار و کلمات) نیک عمل کو رفعت اور بلندی عطا کرتے ہیں گویا کہ عقائد یا پاکیزہ اذکار چھوٹے سے چھوٹے نیک عمل کو مؤثر بناتے ہیں۔(۱)
مذکورہ آیت کریمہ اور اس کی تفسیر کی روشنی میں ہم میدان و خیابان میں”کلمات طیبہ” اور ” عمل صالح” کو اس طرح جلوہ نما پاتے ہیں کہ جو میدان میں ہے وہ جب دشمنوں پر وار کرنا چاہتا ہے تو سب سے پہلے مثلا اللہ اکبر، یا رسول اللہ، یا حیدر کرار، یا فاطمة الزہرا جیسے “کلمات طیبہ” کا ورد کرتا ہے گویا کہ یہ سچے ایمان کا اظہار کرتا ہے پھر “عمل صالح” یعنی جہاد کیلئے سجّیل، خیبر، خرم شہر، عماد جیسے میزائیلوں یا ڈرونوں سے حملہ کرتا ہے لہذا اب یہ “کلمات طیبہ” ایمان کا عکاس بنکر “عمل صالح” یعنی جہاد کو اس قدر مؤثر بنا دیتے ہیں کہ دشمنوں کے آئرن ڈوم(ڈھونگ) جیسے پیشرفتہ مدافع کو عبور کرتے ہوئے آج کے ابرہوں( استکبار و صہیونزم) کے جسموں کو “كَعَصف مَّأكُولِ” چبایا ہوا بھونسا بنا دیتے ہیں۔
اور جہاں تک خیابان کی بات ہے تو یہ بھی میدان نبرد سے کم نہیں ہے کیونکہ گھروں سے سڑکوں اور چوراہوں کی طرف نکلنے والے چھوٹے، بڑے، بوڑھے، جوان مرد اور عورتوں کی زبانوں پر “کلمات طیبہ” جیسے اللہ اکبر، لبیک یا حسین، مرگ بر امریکہ، مرگ بر اسرائیل، مرگ بر منافق کا ورد ہوتا ہے گویا کہ ایمان کی قوت کا اظہار ہوتا ہے پھر زمین پر پڑنے والے قدم کسی میزائیل یا ڈرون سے کم نہیں، لہذا یہ اٹھنے والے قدم “عمل صالح” ہیں، زمیں پر پڑنے والے قدموں کی “عمل صالح” سے قرآن مجید نے واضح تعبیر بیان کی ہے: “وَلَا یَطَـُٔونَ مَوطِئًا یَّغِیظُ الکُفَّارَ۔۔۔۔۔۔اِلَّا کُتِبَ لَہمۡ بِہٖ عَمَلٌ صَالِحٌ”(۲) مذکورہ آیت کا مفہوم یہ ہیکہ گھروں سے نکلنے والے مؤمنین کے قدم کفار کو غیظ و غضب میں مبتلا کرتے ہیں اور اللہ اسے عمل صالح میں شمار کرتا ہے، لہذا آج کل راتوں میں ایران کے اسلامی انقلاب کی حمایت میں سڑکوں پر پڑنے والے قدم زمین پر نہیں پڑ رہے ہیں بلکہ استکبار و صہیونزم کے سینے پر جاکر پڑ رہے ہیں کہ جو اس کی زندگی کی آخری سانس کا پیغام سنا رہے ہیں۔
(۱). تفسیر نمونہ، ج۱۸، ص۱۹۴ و ۱۹۵۔
(۲). سورہ توبہ/۱۲۰۔












