24

دو قومی کانفرنسز، دو قومی جماعتیں

  • News cod : 36571
  • 29 جولای 2022 - 12:53
دو قومی کانفرنسز، دو قومی جماعتیں
ایک اور اہم بات یہ دیکھی گئی ہے کہ اس کانفرنس میں وفاق، تحریک اور علامہ شیخ محسن نجفی سے وابستہ علماء، مدارس اور اداروں کے علماء، مولوی صاحبان شریک تھے۔ کے پی کے میں علامہ جواد ہادی، پاراچنار سے علامہ عابد الحسینی جبکہ اسلام آباد میں واقع مجلس وحدت سے مربوط علماء میں سے کوئی بھی شریک نہیں تھا۔ اب یہ معلوم نہیں کہ یہ لوگ مدعو نہیں تھے یا تشریف نہیں لائے۔ اگر مدعو نہیں کیا گیا تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ ایک جماعت یا پارٹی کا اجتماع تھا، اگر دعویٰ پوری قوم کی قیادت و رہبری کا ہے تو قوم کے اس موثر حلقے و حصے کو نظر انداز کرنا مناسب نہیں سمجھتا۔

تحریر: علی ناصر الحسینی

محرم الحرام کی آمد آمد ہے اور اس سے پہلے اسلام آباد کنونشن سنٹر میں دو شیعہ قومی جماعتوں نے دو الگ الگ دنوں میں اپنے اپنے سالانہ پروگرام منعقد کئے، جنہیں کامیاب پروگرام کہا جا رہا ہے۔ پہلا پروگرام 24 جولائی کو مجلس وحدت مسلمین نے شہید الحسینی (رہ) کی برسی کی نسبت سے “مہدی برحق کانفرنس” کے عنوان سے کیا، جو بلاشبہ بھرپور تھا۔ پروگرام میں مختلف سماجی، سیاسی اور دینی شخصیات نے شرکت کی، بڑے اچھے خطابات ہوئے۔ موسم کی وجہ سے یہ پروگرام پریڈ گرائونڈ سے کنونشن سنٹر میں منعقد ہوا۔ پریڈ گرائونڈ ایک کھلی جگہ ہے، جسے بھرنا کافی مشکل کام ہوتا ہے، مگر مجلس وحدت مسلمین یہاں پہلے بھی کئی پروگرام منعقد کرچکی ہے، اس کا تجربہ اچھا ہے۔ بارش کے موسم نے اس پروگرام کو متاثر کیا، اس لئے کنونشن سنٹر کا انتخاب کیا گیا، جو نہایت ہی مستحسن فیصلہ تھا۔

علامہ ناصر عباس جعفری کی سربراہی میں مجلس وحدت مسلمین کا سفر جاری ہے، جس نے سیاسی و سماجی حلقوں میں اپنا ایک مقام بنایا ہے اور اپنے روابط کو مستحکم کیا ہے، بالخصوص سیاسی و دینی جماعتوں کے ساتھ کافی بہتر روابط بنائے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے پروگرام میں کئی سیاسی شخصیات نے بھی شرکت کی۔ مجلس وحدت مسلمین چونکہ موجودہ سیاسی فضا میں پی ٹی آئی کے اینٹی سامراج، بیرونی مداخلت نامنظور موقف، جس کا اظہار پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان اپنی تقاریر، پریس کانفرنسز اور خطابات میں تسلسل سے کرتے آرہے ہیں، اس موقف کیساتھ کاندھا ملا کر کھڑی ہے اور اس کے بارے میں عمومی تاثر بھی یہی ہے کہ اینٹی امریکہ جماعت ہے، جو مزاحمتی و مقاومتی قوتوں کے کافی قریب سمجھی جاتی ہے۔

کنونشن سنٹر میں موجود کئی ایک دوستان نے بتایا کہ پروگرام کیلئے ہال میں اضافی نشستیں لگوائی گئی تھیں، جبکہ ہال سے باہر بھی لوگوں کیلئے اندر کی منظر کشی کا انتظام کیا گیا تھا۔ پروگرام چونکہ کافی لمبا ہوگیا تھا، لہذا جتنے لوگ اندر ہوتے تھے، اتنے ہی باہر بھی موجود ہوتے تھے۔ پروگرام اس حوالے سے بھی بھرپور تھا کہ اس میں سیاسی و دینی شخصیات نے بھی شرکت کی اور ایم ڈبلیو ایم کے پلیٹ فارم سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ میرا خیال ہے کہ ایسے روابط کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ سوسائٹی کے موثر حلقوں اور شخصیات کو تکفیریوں سے دور کیا جا سکے اور مشکل وقت میں ان سے مدد بھی لی جاسکے۔ ایسے پروگرام ان تعلقات کو بہتر بنانے میں خاصے معاون و مدد گار ہوتے ہیں اور یہ روش شہید قائد کہ جن کی 34 ویں برسی کا پروگرام تھا، انہی کی دی ہوئی ہے۔ ہم جو یہ نعرہ لگاتے ہیں کہ “حسینی تیرا راستہ۔۔ ہے ہمارا راستہ” یہ اس کی عملی تفسیر ہے۔

اس پروگرام میں سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا، مفتی گلزار نعیمی، چیئرمین سچ ٹی وی علامہ سید افتخار حسین نقوی، پاکستان عوامی تحریک کے خرم نواز گنڈا پور، چیئرمین البصیرہ جناب ثاقب اکبر نقوی نے بھی گفتگو کی۔ سابق معاون خصوصی وزیراعظم پاکستان جناب زلفی بخاری بھی شریک ہوئے۔ مجلس وحدت مسلمین کے صوبائی وزیر زراعت گلگت بلتستان جناب میثم کاظم بھی شریک ہوئے، سابق وزیر قانون بلوچستان آغا محمد رضا نے بھی گفتگو کی۔ مجلس وحدت مسلمین کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ اس نے شہید قائد علامہ سید عارف حسین الحسینی کی برسی کے ذریعے بھی شہید کے نام و پیغام کو قوم کی اس نسل تک پہنچایا ہے اور اس نام کو کبھی بھی فراموش نہیں کیا۔ عمومی طور پر تو یہ پروگرام اگست کی پانچ کے آس پاس اتوار کو ہوتا رہا ہے، مگر امسال محرم الحرام اور ایام عزا کے باعث اسے اس تاریخ کو منعقد کیا گیا، جو ایک مستحسن فیصلہ تھا۔ محرم الحرام سے قبل یہ پروگرام کئی حوالوں سے اہمیت کا حامل ہے،یقیناًاس کے مثبت اثرات مرتب ہونگے۔

دوسرا پروگرام شیعہ علماء کونسل کے پلیٹ فارم سے 26 جولائی کو منعقد کیا گیا، جو “ذاکرین و علماء کانفرنس” کے عنوان سے تھا۔ یہ پروگرام بھی اپنے عنوان کے لحاظ سے کامیاب تھا کہ اس میں علماء کی بڑی تعداد شریک تھی۔ علمائے کرام کی بڑی تعداد کے ساتھ ایک اچھا پاور شو تھا۔ یہ روش بھی ماضی میں رہی ہے، جب تحریک جعفریہ پاکستان کے پلیٹ فارم سے قوم متحد تھی تو سال بھر کے بعد ایک آدھ علماء کانفرنس منعقد کی جاتی تھی، جس میں علماء کے مسائل بھی سامنے آتے تھے، ان کے حل کی تجاویز بھی سامنے لائی جاتی تھیں اور قومی پلیٹ فارم کے علمائے کرام سے روابط بھی مستحکم ہوتے تھے۔ اس پروگرام کیلئے اگرچہ علماء کے موثر طبقات بالخصوص پنجاب سے علامہ شیخ محسن نجفی، علامہ ریاض حسین نجفی، ان سے وابستہ مدارس و اداروں اور شخصیات نے بھرپور کمک و تعاون کیا، جس کا نتیجہ ایک بھرپور پروگرام کی صورت میں دیکھا گیا۔

پروگرام کا عنوان اگرچہ ذاکرین و علماء کانفرنس تھا، مگر مجھے تو کوئی نامی گرامی ذاکر کا کوئی ویڈیو کلپ دکھائی نہیں دیا۔ سوشل میڈیا پر جو کچھ دکھایا گیا، تصاویر شیئر کی گئیں، ان میں بھی کسی ذاکر کی تصویر نہیں تھی۔ اس سے پہلے بھی جامعہ امام صادق ؑ میں جو کانفرنس ہوئی تھی، اس میں بھی کسی ذاکر کی گفتگو نہیں تھی۔ ایک ذکر کے بھائی جو غیر معروف ہیں، اس کو سٹیج پر کچھ وقت دیا گیا تھا۔ یوں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ کانفرنس جس کا نام علماء و ذاکرین کانفرنس رکھا گیا تھا، اس کے شرکاء ایک حصہ یعنی ذاکرین سے محروم رہے، البتہ علماء کی بھرپور نمائندگی موجود تھی۔ ویسے ذاکرین میں سے اگر کوئی اس معیار کا نہیں تھا تو منقبت خوان بھی بلائے جا سکتے ہیں، جو ذاکرین کے زمرے میں ہی آتے ہیں۔ بہرحال اس کانفرنس کی پبلسٹی میں ایک تبدیلی بھی محسوس کی گئی کہ قائد تحریک کی تصاویر کیساتھ جناب ڈاکٹر میثمی کی تصاویر بھی لگی ہوئی تھیں، جس پر سوشل میڈیا میں مثبت تبصرے بھی دیکھے گئے، اسے ایک مثبت علامت کے طور پر محسوس کیا گیا ہے۔

ایک اور اہم بات یہ دیکھی گئی ہے کہ اس کانفرنس میں وفاق، تحریک اور علامہ شیخ محسن نجفی سے وابستہ علماء، مدارس اور اداروں کے علماء، مولوی صاحبان شریک تھے۔ کے پی کے میں علامہ جواد ہادی، پاراچنار سے علامہ عابد الحسینی جبکہ اسلام آباد میں واقع مجلس وحدت سے مربوط علماء میں سے کوئی بھی شریک نہیں تھا۔ اب یہ معلوم نہیں کہ یہ لوگ مدعو نہیں تھے یا تشریف نہیں لائے۔ اگر مدعو نہیں کیا گیا تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ ایک جماعت یا پارٹی کا اجتماع تھا، اگر دعویٰ پوری قوم کی قیادت و رہبری کا ہے تو قوم کے اس موثر حلقے و حصے کو نظر انداز کرنا مناسب نہیں سمجھتا۔

اسی طرح مجلس وحدت مسلمین کے زیراہتمام قائد شہید کی سالانہ برسی کے اجتماع میں بھی اس طرف یعنی شیعہ علماء کونسل کی نمائندگی نہیں تھی، جبکہ یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے کہ ایم ڈبلیو ایم نے قائد تحریک کے خصوصی سیکرٹری جناب سکندر گیلانی کو دعوت دی تھی۔ میرے خیال میں شہید قائد کی برسی کے اجتماع میں غیر مشروط شرکت بھی کی جائے تو اشکال نہیں ہونا چاہیئے، مگر قومی سطح کے ان پروگراموں میں جب محرم قریب ہے اور وحدت و اخوت اور اتحاد کی طاقت کے مظاہرے کی اشد ضرورت تھی، اس موقعہ کو ضائع کیا گیا، بہتر تو یہی تھا کہ ان کانفرنسز میں دونوں اطراف کے لوگ بھرپور شریک ہوتے، مگر اب کیا کہا جا سکتا ہے، اب تو یہ کانفرنسز اگلے برس ہونگی، اب اگلے برس تک امید رکھیں۔۔
شائد کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=36571