43

شکر نعمت ایک عظیم عبادت ہے، حجت الاسلام غضنفر فائزی

  • News cod : 44736
  • 08 مارس 2023 - 12:50
شکر نعمت ایک عظیم عبادت ہے، حجت الاسلام غضنفر فائزی
سب سے کم ترین شکر لسانی یہ ہے کہ کسی بھی نعمت کو خدا کا احسان سمجھے

وفاق ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق مدرسہ الامام المنتظر قم ایران میں درس اخلاق دیتے ہوئے استاد حجت الاسلام غضنفر فائزی نے کہا کہ آج جس دعا کے حوالے سے گفتگو کریں گے یہ دعا تقریباً تمام دعا کے منابع میں ایک جیسی ہے فقط اقبال الاعمال کے بعض نسخوں میں ایک جملہ موجود نہیں ہے مگر جو نسخہ آج کل عام ہے اس کی دعا میں کوئی فرق نہیں ہے

اس دعا کے چار جملات ہیں

اللهُمَّ قَوِّنِی فِیهِ عَلَى إِقَامَةِ أَمْرِکَ

اے معبود! آج کے دن مجھے قوت دے کہ تیرے حکم کی تعمیل کروں

وَ أَذِقْنِی فِیهِ حَلاوَةَ ذِکْرِکَ

اس میں مجھے اپنے ذکر کی مٹھاس کا مزہ عطا کر

وَ أَوْزِعْنِی فِیهِ لِأَدَاءِ شُکْرِکَ بِکَرَمِکَ

آج کے دن اپنے کرم سے مجھے اپنا شکر ادا کرنے کی توفیق دے

وَ احْفَظْنِی فِیهِ بِحِفْظِکَ وَ سِتْرِکَ یَا أَبْصَرَ النَّاظِرِینَ

مجھے اپنی نگہداری اور پردہ پوشی کی حفاظت میں رکھ اے دیکھنے والوں میں زیادہ دیکھنے والے

اس دعا کو پڑھنے کا ثواب یہ بیان ہوا ہے کہ جو شخص بھی اس دعا کو پڑھے گا تو اسے جنت الخلد میں گھر دیا جائے گا کہ جس گھر میں ستر ہزار تخت ہوں گے اور ہر تخت پر ایک حور عین بیٹھی ہوگی

یہ دعائیں در واقع ہمیں خدا سے مانگنے کا طریقہ بیان کررہی ہیں

روایت میں اس انسان کی مذمت ہوئی ہے کہ جو اپنی دعاؤں میں فقط دنیا کو طلب کرتا ہے بلکہ دنیا کے ساتھ آخرت کو بھی شامل کرے

خداوند متعال کی نعمات میں سے ایک نعمت شکر ہے جس کی بہت زیادہ فضیلت ہے قرآن مجید میں ہے

رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَالِدَيَّ

پروردگار مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکریہ ادا کروں جو تو نے مجھے اور میرے والدین کو عطا کی ہے

ایک مقام پر ارشاد ہے

إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا

یقیناً ہم نے اسے راستہ کی ہدایت دے دی ہے چاہے وہ شکر گزار ہوجائے یا کفرانِ نعمت کرنے والا ہوجائے

شکر نعمت ایک عظیم عبادت ہے اورنماز و روزہ اس کے مقابل میں معمولی عبادتیں شمار ہوتی ہیں

معنی شکر یہ ہے کہ کسی کے احسان کے مقابلے میں زبان سے ،فعل سے یا عمل سے بدلہ دینا

شکر نعمت عقلا بھی واجب ہے اور شرعا بھی واجب ہے بلکہ اوجب الوجبات میں سے ہے

خداوند متعال نے قرآن مجید میں دو مقام پر اپنا شکر واجب قرار دیا ہے

۱) فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ

اب تم ہم کو یاد کرو تاکہ ہم تمہیں یاد رکھیں اور ہمارا شکریہ ادا کرو اور کفرانِ نعمت نہ کرو

اس آیت میں امر کا صیغہ وجوب پر دلالت کرتا ہے

۲) أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ

کہ میرا اور اپنے ماں باپ کا شکریہ ادا کرو کہ تم سب کی بازگشت میری ہی طرف ہے

شکر نعمت، عظیم کام ہے قرآن مجید میں آٹھ انبیاء علیہم السلام کی تعریف و توصیف شکر کے ساتھ ذکر ہے اگر حضرت لقمان کو بھی شامل کیا جائے تو نو انبیاء شمار ہوتے ہیں کیونکہ ان کے نبی ہونے میں اختلاف پایا جاتا ہے

حضرت نوح علیہ السلام کے بارے میں ہے

إِنَّهُ كَانَ عَبْدًا شَكُورًا

حضرت نوح ہمارے شکر گزار بندے تھے

شکور مبالغہ کا صیغہ ہے یعنی بہت زیادہ شکر کیا کرتے تھے

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں ملتا ہے

إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِّلَّهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ *شَاكِرًا لِّأَنْعُمِهِ ۚ اجْتَبَاهُ وَهَدَاهُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ

بیشک ابراہیم علیہ السّلام ایک مستقل امّت اور اللہ کے اطاعت گزار اور باطل سے کترا کر چلنے والے تھے اور مشرکین میں سے نہیں تھے وہ اللہ کی نعمتوں کے شکر گزار تھے خدا نے انہیں منتخب کیا تھا اور سیدھے راستہ کی ہدایت دی تھی

پیغمبر خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شکر کا تو کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا ہے تو اس سلسلے میں پندرہ شعبان کی مناسبت سے واقعہ نقل کرتا ہوں کہ ۱۵ شعبان کی رات جبرائیل علیہ السلام رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کہ آسمان کی طرف نگاہ کریں تو جب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اوپر نگاہ کی تو دیکھا کہ آج کی رات آٹھ ابواب رحمت کھلے ہوئے ہیں تو اس کا سبب پوچھا تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کی کہ آج کی رات بہت عظیم ہے اور ملائکہ آج کی رات اللہ کی عبادت کرتے ہیں پس آپ بھی عبادت کریں اور اپنی امت کو بھی عبادت کا کہیں تو ایک روایت کے مطابق رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنت البقیع یا دوسری روایت کے مطابق مسجد چلے گئے اور عبادت میں مشغول ہوگئے رات کو کسی پہر حضرت عائشہ متوجہ ہوئی کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بستر پر نہیں ہیں تو اپنی زنانہ نفسیات کی وجہ سے تمام ازواج سے رسول خدا کا پوچھنے لگی تو ایک بار مسجد میں یا جنت البقیع میں ان کا سامنا رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہوا کہ جو سجدہ کی حالت میں تھے اور خاص دعا پڑھ رہے ہیں

سَجَدَ لَکَ سَوَادِی وَ خَیَالِی وَ آمَنَ بِکَ فُؤَادِی هَذِهِ یَدَایَ وَ مَا جَنَیْتُهُ عَلَى نَفْسِی یَا عَظِیمُ تُرْجَى لِکُلِّ عَظِیمٍ اغْفِرْ لِیَ الْعَظِیمَ فَإِنَّهُ لا یَغْفِرُ الذَّنْبَ الْعَظِیمَ اِلّا الرَّبُّ الْعَظِیمُ

تو حضرت عائشہ نے عرض کی کہ آپ کیوں اس قدر اپنی عاقبت کے بارے میں پریشان ہیں حالانکہ خدا نے آپ کے تمام گناہوں کے بخشنے کا وعدہ دیا ہے تو اس کے جواب میں فرمایا

ا یکون عبدا شکورا

کیا میں اپنے رب کا شاکر بندہ نہ بنوں

شکر کی دو قسمیں ہیں

۱) لسانی : روایات کے مطابق اس کے پانچ مرحلے ہیں

۲) عملی) روایات کے مطابق اس کے نو مرحلے ہیں

سب سے پہلے شکر لسانی کے مراحل بیان کرتے ہیں

۱) پہلا مرحلہ یہ ہے کہ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں

مَن أنعَمَ اللّه علَيهِ بنِعمَةٍ فَعَرَفَها بقَلبِهِ فقد أدّى شُكرَها

جس پر اللہ کی کوئی نعمت نازل ہو اور وہ اس نعمت کے خدادادی ہونے کو سمجھ جائے تو اس نے شکر ادا کردیا

سب سے کم ترین شکر لسانی یہ ہے کہ کسی بھی نعمت کو خدا کا احسان سمجھے کیونکہ اس نعمت کو پانے میں انسان کا کوئی کمال نہیں ہے بلکہ خدا نے یہ سب توفیق عطا فرمائی ہے پس نعمت کو مان لینا حد اقل شکر ہے کیونکہ بعض لوگ تو اس کو بھی قبول نہیں کرتے جیسے قارون کا واقعہ قرآن مجید میں موجود ہے کہ جو اپنی تمام نعمات خدا دادی نہیں سمجھتا تھا

۲) دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں

ما أنعَمَ اللّہ على عَبدٍ بنِعمَةٍ صَغُرَت أو كَبُرَت فقالَ: الحمدُ للّه إلاّ أدّى شُكرَها

جسے خداوند کی طرف سے کوئی نعمت میسر ہو چاہے چھوٹی چاہے بڑی اور وہ اس کے جواب میں کہے الحمد للہ تو اس نے اس نعمت کا شکر ادا کردیا

پس اللہ کی نعمت کے بدلے میں الحمد للہ بولنا دوسرا مرحلہ ہے

۳) تیسرا مرحلہ یہ ہے کہ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں

شُكرُ النِّعمَةِ اجتِنابُ المَحارِمِ ، وتَمامُ الشُّكرِ قولُ الرجُلِ : الحَمدُ للّه رَبِّ العالَمِينَ

نعمت کا شکر محرمات سے اجتناب کرنا ہے اور انسان کا تمام شکر الحمد للہ رب العالمین کہنا ہے

یعنی جس کو بھی خدا کی طرف سے کوئی نعمت نصیب ہو تو وہ اس کے جواب میں مکمل جملہ الحمد للہ رب العالمین کہے

۴) چوتھا مرحلہ یہ ہے کہ امام زین العابدین علیہ السلام حج پر جارہے تھے تو راستے میں سواری گم ہوگئی تو امام نے نذر کی کہ اگر میری سواری مل جائے تو میں خدا کا واقعی شکر ادا کروں گا تو جب وہ سواری مل گئی تو امام نے تین مرتبہ کہا “الحمد للہ رب العالمین ” اور پھر تین مرتبہ کہا “شکرا للہ ”

۵)آخری مرحلہ یہ ہے کہ امام صادق علیہ فرماتے ہیں

أوحَى اللّه تعالى إلى موسى: يا موسى، اشكُرْني حَقَّ شُكرِي ، فقالَ: يا ربِّ كيفَ أشكُرُكَ حَقَّ شُكرِكَ ، و ليسَ مِن شُكرٍ أشكُرُكَ بهِ إلاّ و أنتَ أنعَمتَ بهِ عَلَيَّ؟ فقالَ: يا موسى شَكَرتَني حَقَّ شُكري حينَ عَلِمتَ أنَّ ذلكَ مِنّي

خداوند نے حضرت موسی علیہ السلام کی جانب وحی کی کہ اے موسی میرا حق شکر ادا کرو تو عرض کی اے مالک تیرا کیسے حق شکر ادا ہوسکتا ہے حالانکہ تیرا شکر بھی ایک نعمت ہے جو تو نے مجھے عطا کی ہے؟ تو خطاب ہوا کہ اے موسی تو نے میرا حق شکر ادا کردیا جب تو نے یہ جان لیا کہ یہ شکر بھی میری جانب سے ہے

یہ انبیاء علیہم السلام کی معرفت ہے

انشاء اللہ اگلے درس میں اس کے عملی مراحل کو بیان کریں گے

خداوند ہمیں حق شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=44736

ٹیگز