وفاق ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، مدرسہ الامام المنتظر قم میں استاد محترم غضنفر فائزی نے درس اخلاق دیتے ہوئے کہا کہ ماہ رمضان کی پانچویں دن کی دعا جو مرحوم کفعمی نے اپنی دو کتابوں البلدالامین اور مصباح کفعمی میں نقل کی ہے مفاتیح کے اندر اس کے ایک دو کلمہ مختلف ہیں:
البلد الامین اور مصباح الکفعمی میں یہ دعا اس طرح ہے
اَللَّهُمَّ اِجْعَلْنِي فِيهِ مِنَ اَلْمُسْتَغْفِرِينَ وَ اِجْعَلْنِي فِيهِ مِنْ عِبَادِكَ اَلصَّالِحِينَ
وَ اِجْعَلْنِي فِيهِ مِنْ أَوْلِيَائِكَ اَلْمُتَّقِينَ بِرَأْفَتِكَ يَا أَكْرَمَ اَلْأَكْرَمِينَ
انہوں نے کہا کہ مرحوم کفعمی نے یہ دعائیں اور نمازیں ابن عباس سے نقل کی ہے اور انہوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ مجھے رمضان کی دعائیں اور نمازیں تعلیم فرمائیں تو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں یہ دعائیں تعلیم دیں جس میں ہر دعا کے اندر تین سے چار درخواستوں کا ذکر ہے
اس دعا کا ثواب یہ ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت ہے
مَنْ دَعَا بِهِ أُعْطِيَ فِي جَنَّةِ اَلْمَأْوَى أَلْفَ أَلْفِ قَصْعَةٍ فِي كُلِّ قَصْعَةٍ أَلْفُ لَوْنٍ مِنَ اَلطَّعَامِ
جو بھی اس دعا کو پڑھے گا تو اسے جنت الماوی (یعنی پھلوں اور نعمتوں کی جنت) میں ایک لاکھ تھال عطا کئے جائیں گے جن میں سے ہر تھال پر ہزار قسم کے مختلف کھانے موجود ہوں گے
مفاتیح کا یہ حصہ زاد المعاد سےنقل شدہ ہے مرحوم مجلسی نے معلوم نہیں کس منبع سے یہ دعائیں لی ہیں کیونکہ دعاؤں کے دو اصلی منبع ہیں ایک ابن طاووس کی کتاب اقبال الاعمال اور دوسرا علامہ کفعمی کے دو کتابیں ایک البلد الامین اور دوسری مصباح الکفعمی کتاب اقبال الاعمال میں فقط دعاؤں اور نمازوں کو ذکر کیا ہے اور اس کا کوئی منبع بیان نہیں کیا حتی ان کو ابن عباس یا رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی منسوب نہیں کیا لیکن کتاب زاد المعاد میں یہ دعائیں اور نمازیں ابن عباس سے منسوب ہیں پس معلوم ہوتا ہے کہ علامہ مجلسی نے یہ دعائیں اور نمازیں اقبال الاعمال سے نقل نہیں کی لیکن دیگر دو کتابوں سے بھی نقل نہیں کیا کیونکہ اس کے الفاظ جدا ہیں۔
اقبال الاعمال میں مکمل دعا وہی ہے جو مرحوم کفعمی نے نقل کی ہے فقط ”الصالحین “ کے بعد ”القانتین “ کا اضافہ ہے لیکن زاد المعاد اور مفاتیح میں یہ دعا اس طرح سے ہے۔
اللهُمَّ اجْعَلْنِی فِیهِ مِنَ الْمُسْتَغْفِرِینَ وَ اجْعَلْنِی فِیهِ مِنْ عِبَادِکَ الصَّالِحِینَ الْقَانِتِینَ وَ اجْعَلْنِی فِیهِ مِنْ أَوْلِیَائِکَ الْمُقَرَّبِینَ بِرَأْفَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
اب معلوم نہیں کہ انہوں نے یہ دعا کس منبع سے نقل کی ہے کیونکہ اس میں تیسرا جملہ جدا ہے باقی دعاؤں کے منابع میں وہ جملہ الگ ہے۔
یہ تو تھا دعا میں اختلاف
اس دعا کا معنی یہ ہے
اے معبود! آج کے دن مجھے بخشش مانگنے والوں میں سے قرار دے آج کے دن مجھے اپنے نیکوکار عبادت گزار بندوں میں سے قرار دے اور آج کے دن مجھے اپنے نزدیکی دوستوں میں سے قرار دے اپنی محبت سے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
انہوں نے کہا کہ اس دعا میں بھی خداوند سے کچھ چیزوں کو درخواست کیا جارہا ہے سب سے پہلی درخواست استغفار ہے خداوند متعال مظہر غفران ہے یعنی انسان جتنے بھی گناہ کرئے تو خدا اس کو معاف کر دیتا ہےاگر انسان ان گناہوں پر استغفار کرلے روایت میں ہے
المستغفر لذنب من لا ذنب لہ
خداوند ایسے گناہوں کو معاف کرتا ہے کہ گویا انسان نے گناہ کیا ہی نہیں ہے
یعنی خداوند اس قدر مہربان ہے کہ انسان چاہے ایک ہزار گناہ کرے یا ایک لاکھ یا ایک کڑور یا ایک ارب گناہ کرے تو فقط ایک بار خداوند سے استغفار کرلے تو خداوند اسے معاف کردے گا نہج البلاغہ میں ایک مشہور حدیث ہے کہ
كَانَ فِی الْاَرْضِ اَمَانَانِ مِنْ عَذَابِ اللهِ، وَ قَدْ رُفِـعَ اَحَدُهُمَا، فَدُوْنَكُمُ الْاٰخَرَ فَتَمَسَّكُوْا بِهٖ: اَمَّا الْاَمَانُ الَّذِیْ رُفِعَ فَهُوَ رَسُوْلُ اللهُ ﷺ. وَ اَمَّا الْاَمَانُ الْبَاقِیْ فَالْاِسْتِغْفَارُ، قَالَ اللهُ تَعَالٰی: وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْ ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ.
دنیا میں عذاب خدا سے دو چیزیں باعث امان تھیں، ایک ان میں سے اٹھ گئی، مگر دوسری تمہارے پاس موجود ہے، لہٰذا اسے مضبوطی سے تھامے رہو۔ وہ امان جو اٹھالی گئی وہ رسول اللہ ﷺ تھے، اور وہ امان جو باقی ہے وہ توبہ و استغفار ہے، جیسا کہ اللہ سبحانہ نے فرمایا: ’’اللہ ان لوگوں پر عذاب نہیں کرے گا جب تک تم ان میں موجود ہو (اور) اللہ ان لوگوں پر عذاب نہیں اتارے گا، جب کہ یہ لوگ توبہ و استغفار کر رہے ہوں گے‘‘۔
ان کا کہنا تھا کہ روایت میں ہے کہ شیطان نے خدا سے خواش کی مجھے بنی آدم پرتسلط عطا کر جب تک ان کی سانس باقی ہے تاکہ میں ان کو آخری وقت تک گمراہ کرسکوں تو خداوند نے اسے اجازت دے دی اور فرمایا کہ تو آخری لمحے تک گمراہ کرتا رہ اور میں آخری لمحے تک ان کو معاف کرتا رہوں گا یعنی جب شیطان جب کام پر لگا ہوا ہے تو رحمان بھی اپنا کام کررہا ہے
ایک روایت میں ہے
افضل الکلمۃ القول لا الہ الا اللہ وافضل الدعا الاستغفار
افضل کلمہ لا الہ الا اللہ کہنا ہے اور افضل دعا استغفار ہے
ایک اور روایت میں ہے
افضل العبادہ الاستغفار
افضل عبادت استغفار ہے
امام موسی کاظم علیہ السلام سے روایت ہے کہ میں دن میں پانچ ہزار مرتبہ استغفار کرتا ہوں یعنی اولیاء خدا عبادت سمجھ کر استغفار انجام دیتے تھے نہ کہ کسی گناہ کی وجہ جیسے نماز ، روزہ و حج عبادت ہے تو اسی طرح استغفار کرنا بھی عبادت ہے
قرآن مجید میں آیت ہے
وَيَسْتَغْفِرُونَ لِمَن فِي الْأَرْضِ
ملائکہ زمین والوں کے لئے استغفار کرتے ہیں
تو ملائکہ نے کوئی گناہ انجام نہیں دیا کہ جس کہ وجہ سے استغفار کرتے ہیں
کچھ اوقات میں استغفار کرنا افضل ہے
۱)نماز صبح کے نماز کے بعد ستر مرتبہ استغفار کرنا
۲)نماز عصر کے بعد ستر یا ستتر مرتبہ استغفار کرنا روایت میں ہے کہ ایک شخص رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کہ کہ مجھے کوئی عمل بتائیں تو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے کہا کہ نماز عصر کے بعد ستتر مرتبہ استغفار کرو تو خداوند تمہارے ستتر سال کے گناہ معاف کردے گا تو اس شخص نے کہا اگر میری اتنی عمر نہ ہوئی تو فرمایا کہ تمہارے والدین کے گناہوں کو معاف کردے گا
۳)ماہ رجب ، ماہ شعبان اور ماہ رمضان میں استغفار کرنا
ان میں سے زیادہ فضیلت ماہ شعبان کی ہے امام رضا علیہ السلام سے روایت ہے کہ جو بھی اس ماہ ایک مرتبہ استغفار کرے گا تو خداوند باقی مہینوں کی نسبت ایک ہزار استغفار کا ثواب اس کے نامہ اعمال می درج کرے گا راوی نے پوچھا کہ کس طرح استغفار بجا لاؤں تو فرمایا :
استغفر اللہ واسئلہ التوبہ
پس جتنا ہوسکے اس ماہ میں استغار کریں تاکہ خداوند متعال ہم پر رحمتیں نازل فرمائے۔












