وفاق ٹائمز، ایرانی قونصل جنرل مہران مواحد فر نے کہا کہ تہران میں 7 سے 10 مئی تک منعقد ہونیوالی اقتصادی نمائش میں پاکستان بالخصوص پنجاب کی شرکت کا خیر مقدم کریں گے۔ انہوں نے اس امر کا اظہار صوبائی وزیر صنعت و تجارت ایس ایم تنویر سے پنجاب سرمایہ کاری بورڈ کے کمیٹی روم میں ملاقات کے دوران کیا، جس میں دو طرفہ تجارتی تعاون اور باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت ہوئی۔
صوبائی وزیر صنعت و تجارت ایس ایم تنویر نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا مستقبل زراعت سے وابستہ ہے، ایران کیساتھ زرعی شعبہ میں تعاون بڑھایا جا سکتا ہے۔ پاکستان ایران سے سستے ٹریکٹر اور دیگر زرعی آلات منگوا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سے 700 ملین ڈالر کے چاول کی ایران کو برآمد خوش آئند امر ہے۔ تاہم دونوں ممالک کے مابین تجارتی حجم بڑھانے کیلئے عملی اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے مابین 2 ارب ڈالر کے تجارتی حجم کو 5 ارب ڈالر تک بڑھانے کیلئے محنت سے کام کرنا ہو گا۔ پنجاب سے گوشت اور چاول کے تاجروں کا وفد ایران بھجوایا جائے گا۔ ایس ایم تنویر نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین تجارتی تعاون میں حائل رکاوٹوں کو مل بیٹھ کر دور کرنا ہو گا۔ چین، سعودی عرب اور ایران لوکل کرنسی میں کاروبار شروع کر سکتے ہیں تو پاکستان کیوں نہیں۔
ایرانی قونصل جنرل مہران مواحد فر نے صوبائی وزیر ایس ایم تنویر کو یونائٹیڈ بزنس گروپ کا صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایران کے مابین طے شدہ 5 ارب ڈالر کے تجارتی حجم کے ہدف کے حصول کیلئے مل کر راستہ تلاش کرنا ہے۔ بارٹر ٹریڈ سسٹم کو بڑھا کر تجارتی حجم کو بڑھایا جا سکتا ہے۔












