وفاق ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، مدرسہ الامام المنتظر قم ایران میں 19 رمضان المبارک شب ضربت شہید محراب، پیکر عدل و انصاف امیرالمؤمنین حضرت علی ابن ابی طالب کی مناسبت سے مجلس عزاء منعقد ہوئی۔
جس سے حجت الاسلام و المسلمین سید شجاعت حیدر رضوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یا علی لا یحبک الا طاھر الولادۃولا یبغضک الا نجس الولادۃ
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ اے علی تجھ سے محبت نہیں کرے گا مگر جس کی ولادت پاکیزہ ہو اور تجھ سے بغض نہیں کرے گا مگر جس کی ولادت نجس ہو عربوں میں یہ رواج تھا کہ انہوں نے ایک اژدھا پالا ہوا تھا کہ جو بھی بچہ پیدا ہوتا تو اسے اس اژدھا کے پاس لے جاتے اگر وہ اژدھا اس بچہ کو نقصان نہ پہنچاتا تو معلوم ہوتا کہ اس کی ولادت پاکیزہ ہے اور اگر وہ بچہ کو نقصان پہنچاتا تو معلوم ہوجاتا کہ اس کی ولادت پاکیزہ نہیں ہے جب امام علی علیہ السلام کی ولادت ہوئی تو مشرکین مکہ آئے اور حضرت ابو طالب علیہ السلام کو کہا کہ اپنے بچہ کے لے آو تاکہ معلوم ہوجائے تو حضرت ابو طالب علیہ السلام نے کچھ نہیں کہا اور گھر کے اندر تشریف لے گئے جب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معلوم ہوا تو فرمایا کہ کچھ نہیں ہوگا آپ بچے کو باہر لے جائیں تو جب وہ اژدھا مولا کے قریب آیا تو مولا نے اس کو دو ٹکڑے کردیا تو مشرکین مکہ بہت پریشان ہوئے کہ یہ بہت برا ہوا کیونکہ حلال زادہ اور حرام زادہ کی کسوٹی ختم ہوگئی تو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اب مولا علی علیہ السلام کی محبت اور دشمنی طے کرے گی کہ کون حلال زادہ ہے اور کون حرام زادہ تو اصحاب فرمایا کرتے تھے کہ پھر ہمارے لئے شناخت کرنا مشکل نہیں ہوتا تھا پس جس کے سامنے ہم مولا کا ذکر کرتے اور اس کاچہرہ کھل جاتا تو معلوم ہوتا کہ حلال زادہ ہے اور جس کا چہرہ مرجھا جاتا تو معلوم ہوتا کہ حرام زادہ ہے
انہوں نے کہا کہ ایک شخص خلیفہ دوم کے زمانے میں آیا اور کہا کہ میرا یہ عقیدہ ہے کہ میں بغیر وضو کے نماز پڑھتا ہوں ،فتنہ و فساد سے محبت کرتا ہوں ، خیر کو ناپسند کرتا ہوں ،اور جو چیز میرے پاس زمین پر موجود ہے وہ خدا کے پاس آسمان میں موجود نہیں ہے اور جس کو میں نے نہیں دیکھا اس کی گواہی دیتا ہوں تو یہ سن کر خلیفہ دوم نے اس کی گردن مارنے کا حکم دے دیا تو اسی دوران حضرت علی علیہ السلام آئے اور ماجرا پوچھا تو انہیں بتایا گیا کہ یہ ماجرا ہے تو فرمایا کہ اس کی تمام باتیں درست ہیں کیونکہ یہ شخص صلوات پڑھتا ہے بغیر وضو کے ساتھ اور اس کا ثواب نماز کے برابر ہے اور یہ فتنہ و فساد کو پسند کرتا ہے تو قرآن مجید میں اولاد و مال کو فتنہ قرار دیا گیا ہے اور یہ شخص اولاد و مال کو پسند کرتا ہے اور خیر کو ناپسند کرتا ہے یعنی بارش کو پسند نہیں کرتا کہ جو کہ خیر ہے اور جو چیز یہ زمین پر رکھتا ہے اور خدا آسمان پر نہیں رکھتا وہ بیوی بچے ہیں کہ خدا ان چیزوں سے منزہ ہے اور یہ جس کو نہ دیکھا ہو اس کی گواہی دیتا ہے تو اس نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں دیکھا لیکن ان کی گواہی دیتا ہے تو اسی وقت خلیفہ دوم نے بے ساختہ کہا کہ بابرکت ہے وہ ذات کہ جس نے آپ کو مدینہ العلم قرار دیا
انہوں نے مزید کہا کہ علی علیہ السلام کا نام وحدت کو ایجاد کرنے کے لئے استعمال کرنا چاہیے نہ کہ فتنہ و فساد و اختلاف کے لئے معاشرے میں اصلاح کی ضرورت ہے اس وقت ہمارے علماء مصلحت کا شکار ہیں اور بہت سے مقامات پر خاموش نظر آتے ہیں حالانکہ ان مقامات پر بولنے کی ضرورت ہے پاکستانی معاشرے میں کچھ عقیدتی مسائل بہت حساس ہیں کہ انہیں علمی طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے اور فرقہ واریت اور جہالت کو ختم کرنے کی ضرورت ہے












