22

فرقہ وارانہ بل متنازع ہے، اسے اسلامی نظریاتی کونسل میں بھی مسترد کر چکا ہوں، علامہ محمد حسین اکبر

  • News cod : 49310
  • 12 آگوست 2023 - 15:04
فرقہ وارانہ بل متنازع ہے، اسے اسلامی نظریاتی کونسل میں بھی مسترد کر چکا ہوں، علامہ محمد حسین اکبر
انہوں نے کہا کہ اس بل کا مقصد متنازع اور اہلبیت علیہم السلام کے دشمنوں کو صحابیت کا لبادہ پہنا کر مقدس بنانا ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کریں گے، یہ بل چور دروازے سے پاس کروایا گیا، قومی اسمبلی میں چند ممبران سے پاس کرایا گیا جبکہ کورم پورا نہ تھا،

وفاق ٹائمز، متنازع ترمیمی بل اس ملک کی پُرامن اور اتحاد و وحدت کی خوبصورت فضا کو خراب کرنے کی سازش ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار رکن اسلامی نظریاتی کونسل، ادارہ منہاج الحسین اور تحریک حسینیہ پاکستان کے سربراہ علامہ ڈاکٹر محمد حسین اکبر نے اپنا دو ٹوک موقف دیتے ہوئے کہا کہ ریاست پاکستان، سینٹ کے ممبران اور ایوان صدر کو متوجہ کرتے ہیں کہ شدت پسند کالعدم گروہ کی طرف سے چلائی ہوئی فرقہ وارانہ مہم کو اس ملک میں نہ پنپنے دیں، یہ ملک پوری قوم کا ہے، اس کو مسلکی ملک نہ بننے دیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اہلبیت اطہار علیہم السلام اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی توہین کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا، یہ توہین توہین کہہ کر چلّانا ایک خوفناک ڈرامہ ہے، جس کے خاص مقاصد ہیں، ایک مسلک کی سوچ سب پر مسلط نہ ہونے دیں، متوجہ رہیں قانون وہ ہوتا ہے جس کو پوری قوم تسلیم کرے، ایک گروہ کی سوچ کو مسلط نہیں کرنے دیں گے۔

علامہ محمد حسین اکبر نے کہا کہ توہین اور تنقید کو الگ الگ کر کے دیکھیں شیعہ اور سنی کے درمیان امامت و خلافت کا اختلاف صدیوں سے ہے اور رہے گا، ہم احترام سب کا کرتے ہیں ہم نے اپنے عمل سے ہمیشہ ثابت کیا ہے، مگر پیغمبر اسلام ﷺکے بعد ان کے جانشین اور خلیفہ بلافصل صرف اور صرف حضرت امیرالمومنین امام المتقین علی ابن ابیطالب علیہ السلام کو سمجھتے ہیں، یہ کسی کی توہین نہیں بلکہ ہمارا بنیادی عقیدہ ہے۔ علاوہ ازیں بالکل واضح ہے کہ تمام امت کا مسلمہ عقیدہ ہے کہ اہلبیت اطہار علیھم السلام اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے قاتلوں اور ان کی توہین کرنیوالوں کو مقدسات میں شمار نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ اس بل کا مقصد متنازع اور اہلبیت علیہم السلام کے دشمنوں کو صحابیت کا لبادہ پہنا کر مقدس بنانا ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کریں گے، یہ بل چور دروازے سے پاس کروایا گیا، قومی اسمبلی میں چند ممبران سے پاس کرایا گیا جبکہ کورم پورا نہ تھا، جسے میں اسلامی نظریاتی کونسل سمیت تمام فورمز پر مسترد کر چکا ہوں۔ اگر یہ بل نافذ ہو گیا تو فریقین کی حدیث کو معتبر کتابیں ہیں ان پر پابندی لگانا لازمی ہو جائے گا جس سے ایک نیا فتنہ جنم لے گا۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=49310

ٹیگز